طالبان اور حکومت کے مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، ذمہ داران کا تعین ہوناچاہیے : طالبان کمیٹی ، سیزفائر اور سویلین قیدیوں کو رہاکریں: رستم شاہ مہمند

طالبان اور حکومت کے مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، ذمہ داران کا تعین ہوناچاہیے : ...
طالبان اور حکومت کے مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار، ذمہ داران کا تعین ہوناچاہیے : طالبان کمیٹی ، سیزفائر اور سویلین قیدیوں کو رہاکریں: رستم شاہ مہمند

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت اور طالبان کے مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے، طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم کا اب تک حکومتی کمیٹی یا طالبان سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، ڈیڈلاک کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لئے بھی تحقیقات ہونی چاہیے۔ دوسری طرف حکومتی کمیٹی کے رکن رستم شاہ مہمند نے کہاہے کہ جب تک طالبان سیز فائر کا اعلان اور اس پر عمل درآمد کو یقینی نہیں بناتے، اس وقت تک مذاکراتی عمل معطل رہے گا، گیند اب طالبان کے کورٹ میں ہے، طالبان خیرسگالی کے طور پر سویلین قیدیوں کو رہا کر دیں۔ تفصیلات کے مطابق مہمندایجنسی میں طالبان کی طرف سے ایف سی اہلکاروں کی شہادت پر امن مذاکرات کیلئے نامزد ہونیوالی دونوں کمیٹیوں کے درمیان تاحال روابط بحال نہیں ہو سکے ، طالبان کمیٹی کے رکن پروفیسر ابراہیم نے کہا ہے کہ طالبان اور حکومتی کمیٹیوں کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ہے، طالبان سے اور نہ ہی حکومتی کمیٹی سے کوئی رابطہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں جنگ بندی دونوں جانب سے ہوتی ہے، مذاکرات جہاں رکے تھے اسی جگہ پر رکے ہوئے ہیں، جب تک دونوں کمیٹیاں ایک ساتھ نہیں بیٹھیں گی اور جنگ بندی کے معاملے پر اتفاق نہیں کریں گی تو اس وقت تک معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں پروفیسر ابراہم کاکہناتھاکہ اب تک نہ ہی حکومتی کمیٹی نے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی ہماری جانب سے رابطہ کیا گیا ہے،معاملات کیسے بہتری کی طرف جائیں گے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن رستم شاہ مہمند نے کہاکہ جب تک طالبان سیز فائر کا اعلان اور اس پر عمل درآمد نہیں کرتے، مذاکراتی عمل معطل رہے گا۔انہوں نے کہا کہ طالبان کو کارروائیاں بند کرنا ہوں گی، گیند اب طالبان کے کورٹ میں ہے، جنگ بندی تک طالبان اور حکومتی مذاکراتی کمیٹیوں کی ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔ رستم شاہ مہمند کا کہنا تھا کہ طالبان خیرسگالی کے طور پر سویلین قیدیوں کو رہا اورسیز فائرکریں تو بات آگے بڑھ سکتی ہے ۔ اُدھرحکومتی کمیٹی کے رکن رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کہ جلد مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہو تاکہ ملک میں امن آسکے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز حکومتی کمیٹی نے وزیراعظم سے ملاقات میں طالبان کی جانب سے شدت پسند کارروائیاں بند ہونے تک طالبان کمیٹی سے مذاکرات کو بے سود قرار دیتے ہوئے اسے ملک و قوم کے پیسے اور وقت کا ضیاع قراردیا تھا۔

مزید : اسلام آباد /اہم خبریں