وہ وقت جب پیشاب پر ٹیکس لگایا جاتا تھا

وہ وقت جب پیشاب پر ٹیکس لگایا جاتا تھا
وہ وقت جب پیشاب پر ٹیکس لگایا جاتا تھا

  

روم (نیوز ڈیسک) غربت اور مہنگائی سے ستائے عوام اکثر کہہ اٹھتے ہیں کہ شائد اب حکومت ہوا اور پانی پر بھی ٹیکس لگا دے گی اگرچہ ابھی یہ نوبت تو نہیں آئی لیکن تاریخ میں ایک ریاست ایسی ضرور گزری ہے کہ جس نے پیشاب پر ٹیکس لگا دیا۔ قدیم روسی سلطنت میں متوسط اور بلند طبقے کے لوگ اپنا مخصوص لباس ”ٹوکا“ پانی سے دھلوانے کی بجائے اس کی ڈرائی کلیننگ کرواتے تھے۔ اس زمانے کی ڈرائی کلیننگ میں امونیا استعمال ہوتا تھا جسے پیشاب سے حال کیا جاتا تھا۔ تقریباً ہر بڑے قصبے میں Follonicae نامی صنعت قائم تھی جہاں ڈرائی کلیننگ کی جاتی تھی۔

کنواری بھینس کے ہاں 'ننھے مہمان' کی آمد،مگر کیسے

یہ صنعت بہت پھیل گئی اور اس کیلئے بڑے پیمانے پر پیشاب اکٹھا کیا جانے لگا۔ ریاستی حکام نے دیکھا کہ پیشاب کی خرید و فروخت تو لاکھوں کروڑوں کا کاروبار بن چکا ہے لہٰذا اس مائع پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ پیشاب کی خرید و فروخت نہایت بڑے پیمانے پر ہوتی تھی لہٰذا حکومت کو اس سے بھاری رقم بطور ٹیکس موصول ہوتی تھی۔ چونکہ ڈرائی کلیننگ کے جدید طریقے بہت بعد میں ایجاد ہوئے اس لئے رومن سلطنت میں یہ ٹیکس طویل مدت تک جاری رہا اور اسے ٹیکسوں کی تاریخ میں منفرد ترین مقام حاصل ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -