موناپلی گیم کی ایجاد کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی

موناپلی گیم کی ایجاد کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی
موناپلی گیم کی ایجاد کے پیچھے چھپی دلچسپ کہانی

  

شکاگو (نیوز ڈیسک) مونوپلی کا شمار دنیا کی مشہور ترین اور مقبول ترین بورڈ گیمز میں ہوتا ہے جس میں کھیلنے والے زیادہ سے زیادہ زمینوں پر قبضہ کرکے ایک دوسرے سے بڑھ کر مال کمانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے عین اسی منافع خوری اور مال و زر کی ہوس کے خلاف احتجاج کے طور پر ایجاد کیا گیا تھا۔

کیا آپ یقین کر سکتے ہیں یہ موبائل فون کا کور ہے؟فیچرز انتہائی حیرت انگیز

 ریاست الینائے سے تعلق رکھنے والی الزبتھ میگی ایک اخباری ادارے کے پبلشر کی صاحبزادی تھیں اور وہ امریکہ کے چند نامور کاروباری لوگوں کے بڑے پیمانے پر زمینیں اکٹھی کرنے اور دولت جمع کرنے کے خلاف آواز اٹھانا چاہتی تھیں۔ مصنفہ میری پولن اپنی نئی کتاب میں لکھتی ہیں کہ الزبتھ نے یہ گیم امریکہ کی مشہور کاروباری شخصیات مثلاً جان ڈی راک فیلر اور اینڈریو کارنیگی جیسے لوگوں کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے متعارف کروائی۔ یہ طاقتور لوگ بڑی بڑی جاگیروں کو خرید لیتے تھے اور اربوں ڈالر کماتے تھے جبکہ غریب لوگ سر چھپانے کی جگہ بھی نہیں ڈھونڈ پاتے تھے۔ الزبتھ نے ماہر اقتصادیات ہینری جارج کے نظریات سے متاثر ہوکر ایک ایسی گیم ایجاد کی جس میں دو بنیادی اصول استعمال کئے گئے تھے ۔ پہلا اصول یہ دکھاتا تھا کہ اگر چند لوگ بہت ساری زمینیں جمع کرلیں تو ساری دولت بھی انہی کہ ہاتھوں میں جمع ہوتی جاتی ہے جبکہ مخالفین صرف ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں جبکہ دوسرا اصول یہ تھا کہ اگر زمینوں کی تقسیم مساویانہ طور پر ہوتو سب خوش ہوتے ہیں۔ اتفاق سے وہی وصول زیادہ مقبول ہوا جس کے خلاف الزبتھ آواز اٹھانا چاہتی تھیں اور اس گیم کو کھیلنے والے ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ مال اکٹھا کرکے مخالفین کو کنگال کردیں۔

 آج کے دور میں بھی لوگ اس گیم کے اصل پیغام کو سمجھنے کی بجائے عین وہی کام کرتے ہیں جس کو اس گیم کی موجد ایک منفی اور قابل مذمت عمل کے طور پر پیش کرنا چاہتی تھیں، یعنی اس گیم کی مقبولیت میں دولت کی ہوس کے نظریے نے ہی بنیادی کردار ادا کیا اور یہ گیم ایک طرح سے زیادہ سے زیادہ دولت جمع کرنے کی تربیت فراہم کرنے کا ذریعہ بن گئی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -