پاکستان اور ترکی کے درمیان معاشی تعلقات کا مستقبل روشن

پاکستان اور ترکی کے درمیان معاشی تعلقات کا مستقبل روشن
پاکستان اور ترکی کے درمیان معاشی تعلقات کا مستقبل روشن

  

تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو برصغیر پاک وہند کے مسلمانوں کی ترکوں سے دوستی کی تاریخ بہت طویل ہے۔ جب ترکی میں خلافت کا بستر گول کیا گیا تو برصغیر کے مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کی لہر پھیل گئی اور خلافت کی بحالی کے لئے خلافت موومنٹ کا آغاز ہوا، جس میں برصغیر کے مسلمانوں نے دامے، درمے اور سخنے بھرپور حصہ لیا، جس پر ترک قوم آج بھی پاکستانی مسلمانوں کی ممنون ہے ،جبکہ پاکستان کی موجودہ حکومت کے وجود میں آنے سے پہلے ہی وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ترکوں کے ساتھ تعلقات کو بہت خوشگوار بنادیا تھا، ٹرانسپورٹ اور صفائی سمیت بہت سے شعبوں میں مشترکہ منصوبے کامیابی سے شروع کئے ،ان منصوبوں میں میٹروکو بہت اہمیت حاصل ہے ،کیونکہ ٹرانسپورٹ کے جدید سسٹم کی وجہ سے نہ صرف لاکھوں افراد کو سکون سے سفر کرنے کا موقع ملا ،بلکہ وقت کی بچت کے ساتھ کرایہ کی مد میں بھی معقول بچت ہوئی ہے۔ صرف ایک مثال سے ہی بات سمجھ میں آجاتی ہے۔ لکشمی چوک میں مہر سویٹ کا ایک ملازم روزانہ آنے جانے میں پانچ گھنٹے خرچ کرتا تھا اور مختلف ویگنیں تبدیل کرنے پر روزانہ ایک سو بیس روپے بطور کرایہ خرچ کرتا تھا، لیکن میٹرو کی تکمیل کے بعد اس کا مکمل سفر ایک گھنٹے میں طے ہوجاتا ہے اور کرایہ کی مد میں روزانہ اسی روپے کی بچت بھی ہوتی ہے۔ وقت کی بچت کو استعمال کرتے ہوئے اس نے ایک پارٹ ٹائم نوکری آٹھ ہزار میں ڈھونڈ لی۔ یہی سبب ہے کہ متوسط طبقے کی دعائیں شریف برادران کے ساتھ ہیں،جبکہ مخالفین کو میٹروبس سے اسی لئے الرجی ہے لیکن قدرت کا فیصلہ ہے کہ پاکستان ترقی کرے ،اس لئے پاکستان نامساعد حالات کے باوجود معاشی بحالی کے راستے پر گامزن ہے۔

ترکی کے وزیراعظم احمد داؤد اوگلو کا موجودہ دورۂ پاکستان بہت اہم ہے۔ ویسے تو ترک وزیراعظم نے بہت مصروف دن گزارا ،لیکن سب سے اہم میٹنگ پاک ترک بزنس فورم کی تھی ،جس میں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کلیدی خطاب کیا۔ ترک وزیراعظم کے ساتھ بزنس مینوں کا ایک بہت بڑا وفد بھی آیا ہوا تھا جس نے اس فنکشن میں پاکستان کے ٹاپ بزنس مینوں سے ملاقات کی۔ پاک ترک بزنس فورم کی کارروائی دیکھ کر سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ موجودہ حکومت بزنس کمیونٹی کے اہم نمائندوں کو ان کا جائز مقام دے رہی ہے۔ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز اینڈ کامرس کے صدر میاں محمد ادریس کو فرنٹ سیٹ پر جگہ دی گئی۔ افتخار علی ملک نے میٹنگ کے بعد اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا: ’’ پاکستانی بزنس مینوں کی ترک بزنس مینوں سے ملاقات دوررس اثرات کی حامل ہے۔ پاکستان کی طرح ترکی کا جغرافیہ بھی بہت زبردست ہے، ترکی کی سرحدیں آٹھ ممالک سے ملتی ہیں۔ شمال مغرب میں بلغاریہ ، مغرب میں یونان، شمال مشرق میں جارجیا، مشرق میں عراق وشام ہیں۔ شمالی سرحدیں بحیرۂ اسود، مغرب میں بحیرۂ ایجبین، بحیرۂ مرمرہ اور جنوب میں بحیرۂ روم سے ملتی ہیں، جس کی وجہ سے ترکی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ بیک وقت مشرق، یعنی ایشیا میں بھی ہے اور مغرب ،یعنی یورپ میں بھی آتا ہے۔

استنبول کا ایک حصہ ایشیا میں ہے اور دوسرا حصہ یورپ میں۔ اسی وجہ سے ترکوں نے کافی کوشش کی ہے کہ انہیں یورپی یونین کا ممبر بنالیا جائے ،لیکن تمام شرائط پوری کرنے کے باوجود غیبی ہاتھوں نے ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت سے محروم رکھا، لیکن ترکوں نے اسے اپنی محرومی نہیں سمجھا، بلکہ ہمت وجرأت اور جدوجہد سے معاشی منصوبہ بندی کرکے ترکی کو زبردست معاشی ترقی دی ہے۔ اور آپ حیران ہوں گے کہ ایک زمانے میں ترکی بھی آئی ایم ایف سمیت مختلف عالمی اداروں سے قرضے حاصل کرتا تھا ،لیکن اب وہ اپنے تمام قرضے واپس کرکے معاشی طورپر اپنے پاؤں پر مضبوطی سے کھڑا ہوچکا ہے۔ترک وزیراعظم نے ملاقات میں یہی پیغام دیا ہے کہ اللہ نے پاکستان کو ہر قسم کے وسائل سے مالا مال کیا ہے بلکہ ترکی سے زیادہ وسائل دیئے ہیں، اس لئے پاکستان معاشی طورپر آگے جانے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے،بات صرف مناسب منصوبہ بندی کی ہے۔ ترکی سرمایہ کاری میں پاکستان کی بھرپور مدد کرنے کا خواہش مند ہے۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان اور ترک بزنس مین مل کر بیٹھیں اور مشترکہ سرمایہ کاری کے لئے نئے امکانات کو عملی شکل دیں۔ پاکستان کے پاس بے شمار وسائل اور افرادی قوت ہے، جبکہ ترکی کے پاس جدید ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے پاکستان کی معیشت کو زبردست فائدہ پہنچے گا۔

ترک بزنس مینوں نے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ پورے ترکی میں پاکستان کا امیج بہت مثبت ہے، خصوصاً بزنس حلقوں میں سرمایہ کاری کے لئے پاکستان کو آئیڈیل سمجھا جاتا ہے۔ صرف بنیادی مسئلہ لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال کا ہے جواب پاکستانی حکومت اور فوج کے تعاون سے حل کی طرف جارہا ہے۔ حکومت پاکستان اور ترک حکومت میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ ہم نے آپس میں کاروباری اور سرمایہ کاری کے معاملات کو آگے بڑھانا ہے۔ سٹرٹیجک تعاون کونسل میں طے پانے والے معاملات سے دونوں ملکوں میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزکے صدر میاں محمد ادریس نے 2015ء کو معاشی بحالی کا سال قرار دیا ہے، جبکہ موجودہ حکومت سنجیدگی سے پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ بھرپور تعاون کررہی ہے۔ خصوصاً وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار بزنس کمیونٹی کے مسائل حل کروانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ امید ہے کہ ترک بزنس مینوں کے ساتھ اس ملاقات کے نیتجے میں مزید سرمایہ کاری پاکستان آئے گی۔

مزید :

کالم -