امریکہ نے روس پر منسلک جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا

امریکہ نے روس پر منسلک جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر دیا

  

 واشنگٹن (آن لائن)امریکہ نے روس پر منسک میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے اتفاق رائے سے جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق کر دی ہے۔امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے کہا ہے اگر روس معاہدے کی خلاف ورزی کرتا رہا تو یہ اس کے لیے مہنگا پڑے گا۔دریں اثنا یوکرین کے مشرقی شہر دیبالستیو میں گذشتہ ہفتے جنگ بندی کے معاہدے کے بعد بھی شدید جنگ جاری رہی اور باغیوں نے یہ دعوی کیا ہے کہ اب مشرقی یوکرین کے زیادہ تر علاقے پر ان کا قبضہ ہے۔دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دیبالستیو شہر میں اپنے فوجیوں کو باغیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی اجازت دے۔پوتن نے امید ظاہر کی کہ باغی کسی بھی پکڑے جانے والے فوجی کو ان کے اہل خانہ کے پاس واپسی کی اجازت دیں گے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے فوری طور پر علاقے میں جنگ بندی کی اپیل کی ہے امریکی سفیر سمانتھا پاور نے کہا کہ وہ ’دل سے اس معاہدے کا خیر مقدم کرتی ہیں لیکن روس کو امن کیمتعلق اپنے عہد کو ثابت کرنا ہوگا۔‘انھوں نے کہا: ’علیحدگی پسندوں کو مسلح کرنا بند کرے۔ اپنے فوجیوں کے علاوہ سینکڑوں کی تعداد میں بھاری اسلحے سرحد پار بھیجنا بند کرے۔ آپ جو کر رہے ہیں اس کے بارے میں یہ ظاہر کرنا بند کریں کہ آپ نہیں کر رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا: ’روس معاہدے پر دستخط کرتا ہے اور پھر جہاں تک اس کے اختیار میں ہے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ روس دوسرے ممالک کی خود مختاری کا علم بردار بنتا ہے لیکن اس طرح عمل کرتا ہے جیسے ان کے پڑوسیوں کی کوئی سرحد ہی نہ ہو۔‘سامنتھا پاور نے کہا: ’یہ ستم ظریفی ہی ہے کہ روس قرارداد تیار کرتا ہے اور یوکرین میں پوری طرح حملے کی پشت پناہی کرتا ہے۔روسی سفیر ویٹالی چرکن نے ان کے بیان کو جارحانہ بتایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’بحران کے آغاز سے ہی روس نے بات چیت کے ذریعے اس کے پرامن حل کی بات کہی ہے۔ دریں اثنا جنگ بندی پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی مبصرین کو دیبالستیو میں داخل نہیں ہونے دیا گیا ہے۔یہ شہر باغیوں اور حکومت کی فوج کے لیے کسی انعام سے کم نہیں کیونکہ یہ دونیتسک اور لوہانسک کے لیے جانے والی اہم ریلوے لائن کو جوڑتا ہے۔یوکرینی صدر پیٹرو پوروشینکو نے شہر پر باغیوں کے قبضہ کرنے کی کوششوں کو امن معاہدے پر ’خبطی حملہ‘ قرار دیا ہے۔انھوں نے جرمنی کی چانسلر میرکل کے ساتھ فون پر بات چیت کے بعد ایک بیان میں کہا: ’آج دنیا کو حملہ آور کو روکنا چاہیے۔ میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے مستقل رکن سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اقوام متحدہ کے بنیادی اصول و ضوابط کی مزید خلاف ورزی اور یورپ کے قلب میں ایک مکمل جنگ کے آغاز کو روکے۔‘ہنگری کے دورے پر صدر پوتن نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ طرفین جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔انھوں نے کہا کہ جب سے جنگ بندی کے معاہدے کا نفاذ عمل میں آیا ہے ’جنگ کی شدت میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ جھگڑا عسکری قوت سے حل نہیں ہوگا۔ انھوں نے کہا: ’میرے خیال میں یوکرین کے حکام یوکرین کے فوجیوں کو ہتھیار ڈالنے سے نہیں روکیں گے۔ اگر وہ یہ فیصلہ نہیں لے سکتے اور یہ حکم نہیں جار کر سکتے تو میرے خیال میں وہ ان لوگوں کو قتل نہیں کریں گے جو اپنی اور دوسروں کی جان بچانا چاہتے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -