کھلواڑ

کھلواڑ
کھلواڑ

  

دانا کا قول یہ ہے کہ ’’ تعصب ہر چھوٹے ظرف کی مجبوری ہے‘‘۔بھارت کے باب میں ہمارا معاملہ یہی ہے۔مسئلہ یہ ہر گز نہیں کہ بھارت کیسا ملک ہے۔ کون نہیں جانتا کہ بھارت انسانیت کی تذلیل کا آخری معرکہ بھی سر کرچکا۔ انسانیت کے تمام تاریک ترین پہلو شرمندگی کی آخری عبارت بن کر اس کی پیشانی پر کندہ ہو چکے،مگر سوال یہ ہے کہ ہمیں کیسا ملک ہونا چاہئے؟ بھارت کی تمام خباثت ، کثافت اور رکاکت کیا ہمیں بھی ایسا ہی بن جانے کا جواز دیتی ہے؟ ذرا کرکٹ ٹاکرے دیکھئے!ٹیلی ویژن پر ہم کیسے بروئے کار آتے ہیں۔ہم الفاظ کے خراچ اور عمل میں قلاش ہیں۔اُمیدوں کی عارضی تجارت میں مستقل نوعیت کی مایوسیاں خریدتے ہیں۔ 1992ء سے کرکٹ کے عالمی میلے میں پاکستان بھارت سے شکست کھاتا آرہا ہے۔ بھارت سے تمام قابلِ ذکر اور نمایاں مقابلے ہم ہارتے جارہے ہیں۔ مگر کرکٹ کو بہتر بنانے کے بجائے پاکستانی اپنی زبان کو زیادہ تیز کرتے جارہے ہیں ۔مسئلہ تویہ ہے کہ یہ رویہ صرف کرکٹ میں نہیں،بلکہ پوری قومی زندگی پر محیط ہے۔شیخ سعدی نے بکواس بازی کے بعد مدِ مقابل سے ہارنے والے ایک شخص کے متعلق لکھا ہے کہ شکست کے بعد جب وہ رو رہا تھا تو اُسے ایک جہاندیدہ آدمی نے کہا کہ ’’اوخود پرست آدمی !اگر تیرا مُنہ غنچے کی طرح بند رہتا تو تیرا پیرہن نہ پھٹتا‘‘مگر بات صرف اتنی بھی نہیں۔

کرکٹ کی معمولی شُد بُد رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ ہماری کرکٹ ٹیم ریاست کی طرح سرے سے کوئی آہنگ ہی نہیں رکھتی۔ گیند باری اور بلے بازی دونوں ہی میں یہ ٹیم بے حد کمزور اور پست سطح پر ہے۔ ایک ٹیم کی تیاری میں وہی اقربا پروری اور کاروباری ذہن غالب رہتا ہے۔ صرف ٹیم ہی نہیں پوری کرکٹ انتظامیہ کوتبدیل کرنے کی ضرورت عرصہ دراز سے محسوس کی جارہی تھی، مگر پاکستان کرکٹ بورڈ بجائے خودنوازشات کا ایک زبردست ذریعہ بن چکا ہے۔ جب انتظامیہ کو کسی اصول پر استوار نہیں کیا جائے گا تو پھر کرکٹ ٹیم کو کسی اُصول پر کیسے چلایا جا سکے گا؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے یکے بعد دیگرے ایسے سربراہان بنائے جاتے رہے، جنہیں دیکھ کر پہلا سوال یہ اُبھرتا ہے کہ آخر چیئرمین کرکٹ بورڈ کی تقرری کا معیار کیا ہے؟ نامعلوم وجوہات کی بنا پر جب نجم سیٹھی کے حوالے پاکستان کرکٹ بورڈ کا انتظام کیا گیا تو وہ کھیل کو سمجھنے والے تمام ماہرین کو یہ سمجھاتے نظر آئے کہ دراصل کرکٹ کیا ہوتی ہے؟ چنانچہ کسی ایک کھیل یا ٹورنامنٹ میں کسی ایک کھلاڑی کے انفرادی کھیل سے ملنے والی جیت پر کھیل کا درست تناظر میں تجزیہ کرنے کے بجائے وہ اپنے معروف پروگرام ’’آپس کی بات‘‘ میں اکثر اپنی ہی پیٹھ کو تھپتھپاتے نظر آتے۔ یہ تو مسئلے کی ایک جہت ہے۔ ایک دوسری جہت یہ بھی ہے کہ جب یہ منصب اپنے موجودہ سربراہ شہریار خان کے پاس جانے سے پہلے عدالت میں پنگ پانگ کے کھیل کی طرح ایک سے دوسرے کے پاس جارہا تھا۔ یعنی نجم سیٹھی اور ڈاکٹر نسیم اشرف عدالتی چکربازیوں سے اس منصب کی چھینا جھپٹی میں مصروف تھے تو حکومت کسی معیار کو قائم کرنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کر سکی۔ طلعت حسین نے تب یہ انکشاف کیا کہ وہ جب پہلی مرتبہ اس منصب سے عدالت کے ذریعے بے دخل کئے گئے تو یہ اطلاع وزیراعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کو ایک ہیلی کاپٹر میں پرواز سے پہلے ملی۔ اس پرواز میں طلعت حسین بھی اُن کے ہمراہ تھے۔

میاں نوازشریف نے اُس موقع پر ذرا دیر کے لئے خاموشی اختیار کی اور پھر کہا کہ ہم عدالت سے حکم امتناعی حاصل کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ وزیراعظم کے ذہن میں کسی کو کوئی منصب دینے سے پہلے آخر کیا معیار ہوتا ہے؟اُن کا یہ فیصلہ ماضی میں اسی منصب کے لئے کئے جانے والے اُس فیصلے سے زیادہ خطرناک مضمرات رکھتا ہے، جب انہوں نے اپنے لاڈلے تب کے احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمن کے بھائی مجیب الرحمن کو اس کی سربراہی سونپی تھی۔ کرکٹ کے لئے اُن کے حالیہ فیصلے اُس سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو رہے ہیں۔ جب کرکٹ بورڈ کی سربراہی اس طرح دی جاتی رہے گی تو اس سے اسی طرح کی کرکٹ پیدا بھی ہو گی۔اب خیر سے کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہر یار خان چیئرمین ہیں،جو 1934ء میں پیدا ہوئے تھے۔ اب تقریباً81 سالہ ایک بوڑھاشخص کرکٹ ایسے کھیل کو کیا نئے افق دے سکتا ہے؟ وہ کس طرح کرکٹ کو معمر ترین کھلاڑیوں سے پاک کر سکتا ہے؟ پاکستان کے اس معمر ترین فرد کے پاس کرکٹ کی سربراہی کا جواز کیا ہے؟بس یہی ناں کی وہ کرکٹ کی سربراہی ٹھیک اُس طرح کرنے کو تیار ہیں، جس طرح کرکٹ کا پیشرو نیا ’’بازیگر ‘‘چاہتا ہے۔ اس سے کرکٹ کا کیا حال ہو سکتا ہے اس کا نہایت معمولی اندازا بھارت کے ساتھ ہماری ٹیم کی حالیہ کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ اب تک اس منصب کو حکمرانوں نے کسی قاعدے کے ساتھ منسلک کرنے کے بجائے سیاسی فیاضی کے لئے استعمال کیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہان کے طور پر انہوں نے کرکٹ کو سمجھنے کے بجائے کرکٹ کی سیاست کو کھیلنے کی مہارت پیدا کی۔ جنرل پرویز مشرف نے توقیر ضیاء اور ڈاکٹر نسیم اشرف کو اپنی دوست نوازی کے طور پریہ منصب عنایت کیا۔ بدقسمتی دیکھئے کہ اس کے بعد سے ہمیں اُن کے کرکٹ پر ماہرانہ تجزیوں کو سننے کا بوجھ بھی اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ اُن کے بعد آنے والوں نے رہی سہی کرکٹ کا مزید بیڑا غرق کر دیا۔

کیا ہم کرکٹ کو معرکۂ خیروشر سمجھنے کے بجائے بس ایک کھیل کی طرح نہیں لے سکتے۔ بھارت کے ساتھ کھیل کے دوران یہ ذرائع ابلاغ ہیں جو اِسے نہایت سنسنی خیز بنا دیتے ہیں اور عوام کو ایک نئی کربلا میں اُتار دیتے ہیں، جس سے کھیل کو زندگی اور موت کی تفہیم مل جاتی ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم بھینسوں کو پاکستان اور بھارت کا نام دے کر اُنہیں لڑاتے ہیں۔ پتنگوں کو دونوں ملکوں کے رنگوں میں رنگ کر پیچ لڑاتے ہیں۔ ملنگوں،بابوں، نجومیوں ، طوطوں، بلیوں ، گدھوں، ہاتھیوں اور مچھلیوں تک سے کرکٹ کا قبل ازوقت نتیجہ نکلواتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ ہم بھینسوں اور پتنگوں کی لڑائی میں تو ہمیشہ جیت جاتے ہیں، مگر کرکٹ کے کھیل میں ہار جاتے ہیں۔یہ بابے، نجومی اور ملنگ سمیت طوطے، بلیاں ہاتھی مچھلیاں اور گدھے تو ہمیں جتوا دیتے ہیں، مگر کھیل میں ہم ہار جاتے ہیں۔ ہمارا رویہ بھی عجیب ہے کہ ہم اپنی ہار کو شاندار بنانے کے لئے خود ہی من گھڑت عذر تراشتے رہتے ہیں۔ اس بار یہ عمر اکمل کی صورت میں ہمارے ہاتھ لگ گیا۔ کیا عمر اکمل کو غلط آؤٹ نہ دیا جاتا تو نتیجہ مختلف ہوتا۔ کھیل کی عدم تفہیم کے باعث اس طرح کی حیلے نہ صرف تراش لئے جاتے ہیں،بلکہ اس منڈی میں بآسانی فروخت بھی ہوجاتے ہیں۔ ذرا بھارت سے کھیل سے قبل کے دو دنوں کی ٹیلی ویژن نشریات دیکھئے، جس میں محمد عرفان کو بھارت کے لئے ایک ہّوا بنا کر پیش کیا گیا۔ بھارتی کھلاڑی جب اسٹول سے کرائی گئی گیند باری کی مشق کر رہے تھے تو یہاں سے بھارتی کھلاڑیوں کا مزاق اڑایا جاتا رہا، مگر آخری نتیجہ کیا نکلا؟ بھارت نے عرفان کو کھیلنے کا عرفان حاصل کیا۔ اُس کی گیند باری کو ناکام کیا اور اُس کے ہاتھوں اپنی کوئی وکٹ نہیں گنوائی ۔ انگریزی محاورہ یہ ہے کہ

’’Who laughs last, laughs best. ‘‘

(جو آخری ہنسی ہنستا ہے وہی ہنسی سب سے بہتر ہوتی ہے۔)

اگر ہم خود پر دوسروں کی ہنسی سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں مقابلے کی اس دنیا کے آداب واطوار کو سمجھنا ہوگا۔ یہاں بے ایمانی بھی وہی کر پاتے ہیں جو اس کی اہلیت رکھتے ہیں۔بھارت کی ہم پر سبقت کھیل کو کھیل سمجھ کر ہی ختم کی جاسکتی ہے۔ یہ کھیل کے دن کھلاڑیوں کی ماؤں کے ہاتھوں میں تسبیح پکڑا کر ختم نہیں کی جاسکے گی۔ کھیل میں فتح وشکست کا معیار سرے سے یہ رکھا ہی نہیں گیا۔ بھارت نے ہمیں ہر کھیل میں پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اب ایک زندہ قوم کے طور پر بھارت کے ساتھ ہمیں اپنے قومی رویئے پر غور کرنا ہوگا۔ کسی فریق یا حریف کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے رویئے کو اپنے دشمن کے رویئے پر منحصر کر لے۔ اس سے نکلے بغیر ہم بھارت کوکسی بھی میدان میں شکست نہیں دے پائیں گے۔ پاکستان جن بحرانوں سے گزر رہا ہے اُس میں یہ رویہ کتنا سازگار ہے؟ پھر یہ رویہ خود کرکٹ کو بھی کسی آہنگ سے آشنا کرنے کے لئے کتنا موزوں ہے؟ اس پر بھی بہت غور کی ضرورت ہے۔

مزید :

کالم -