پاک ترک تعلقات نئی بلندیوں پر

پاک ترک تعلقات نئی بلندیوں پر

  

پاکستان اور ترک وزرائے اعظم نے اتفاق کیا ہے کہ دہشت گردی اور اسلام فوبیا کا مل کر مقابلہ کریں گے،دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارت سمیت باہمی تعاون کے گیارہ سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے، جبکہ دو طرفہ تجارت کا حجم3ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم کیا گیا ہے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ آزادئ اظہار کے نام پر مقدس ہستیوں کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی، دہشت گردی کی کسی بھی شکل کی مذمت کرتے ہیں۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان منفرد نوعیت کے تعلقات ہیں۔ ترک وزیراعظم احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ پاکستان کے مسائل ہمارے مسائل ہیں پاکستان میرا پہلا اور ترکی دوسرا گھر ہے، دونوں ملکوں کے درمیان آزادانہ تجارت کے معاہدے پر جلد عملدرآمد شروع ہو گا۔ انہوں نے شمالی وزیرستان آپریشن کے متاثرین( آئی ڈی پیز) کے لئے مزید دو کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔ ترک وزیراعظم نے کہا دونوں ملکوں نے آزمائش کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ دونوں ملکوں کے دیرینہ تعلقات ہیں۔اس وقت دُنیا بھر میں پاکستان بدترین دہشت گردی سے متاثرہ مُلک ہے۔ یہاں تعلیمی اداروں میں معصوم بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے۔ ہسپتالوں میں مریض محفوظ نہیں، مساجد میں سربسجود نمازی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں، سیکیورٹی اداروں کی تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ائر پورٹس اور دفاعی اداروں کی تنصیبات بھی دہشت گردی کی زد میں ہیں ۔ہمارے سیکیورٹی اداروں کے ارکان جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، اس کے باوجود دُنیا اسلام فوبیا کا شکار ہے۔ دہشت گردی کی ہر واردات کے بعد وہ متعلقہ لوگوں کو نہیں، اسلام کو ٹارگٹ کر لیتے ہیں اور اس کی آڑ میں مسلمانوں کی قابلِ احترام اور مقدس ہستیوں کوتوہین کا نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے درمیان اس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ دونوں ممالک اسلام فوبیا کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

ترکی اس وقت عالمِ اسلام میں قائدانہ کردار ادا کر رہا ہے، مسلم اُمہ کو اس وقت جو بھی مشترکہ مسائل درپیش ہیں اُن میں ترک قیادت عالمِ اسلام کے جذبات و احساسات کی نمائندہ بن کر سامنے آئی ہے، جب اسرائیل نے غزہ کا محاسرہ کر رکھا تھا اور محصور فلسطینیوں کے لئے دوا اور خوراک تک غزہ نہیں پہنچنے دی جا رہی تھی۔ ترکی نے جرأت سے کام لے کر اس محاصرہ کو ختم کرانے کا فیصلہ کیا اور ترک جہاز فلسطینیوں کے لئے خوراک، ادویات لے کر غزہ پہنچا، جس پر اسرائیلی فورسز نے فائرنگ بھی کی، اسرائیل کے ایسے ہی دیگر اقدامات کے خلاف ترکی ڈٹ کر کھڑا ہو گیا، حالانکہ ترکی نے اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اس کا وجود سفارتی سطح پر تسلیم کر رکھا ہے، لیکن اصولی موقف کی خاطر ترکی نے کسی بات کی پروا نہیں کی۔ ترکی نیٹو کا باقاعدہ رکن ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہے۔ افغانستان میں اس کی افواج نیٹو فورسز کا حصہ رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود ترکی نے جہاں ضرورت محسوس کی اپنے موقف کا کھل کا اظہار کیا ہے اور امریکہ کو کھل کھیلنے کی اجازت نہیں دی۔ ترک حکومت نے فرانس میں دہشت گردی کے خلاف ملین مارچ میں شرکت کے لئے بھی اپنا نمائندہ بھیجا، تاہم دُنیا پر واضح کر دیا کہ دہشت گردی کی مذمت ضرورکرتے ہیں اور اس معاملے میں ترکی کے جذبات دنیا سے مختلف نہیں ہیں، لیکن آزادئ اظہار کے نام پر اسلام کی مقدس ہستیوں کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسلام آباد میں بھی اس موقف کا اعادہ کیا گیا ہے۔

عام طور پر ہمارے عزیز مہمان پاکستان کو اپنا دوسرا گھر کہا کرتے ہیں۔ یہ اظہار محبت کا ایک دلفریب انداز ہے، لیکن ترک وزیراعظم پاکستان کو اپنا پہلا گھر قرار دے کر اِن سب پر بازی لے گئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کی سلامتی کو ترکی کی سلامتی قرار دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے پرچم کو اپنا پرچم قرار دیا، ان کے انہی جذبات سے متاثر ہو کر اور بطور وزیر خارجہ ان کی خدمات کی وجہ سے انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز ’’نشانِ پاکستان‘‘ پیش کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پاکستان کی دوستی کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں، پاکستان میں ترک سرمایہ کاری مختلف شکلوں میں موجود ہے اور اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ روز بھی معیشت اور دفاع سمیت گیارہ سمجھوتوں پر دستخط ہوئے ہیں اور تجارت کا حجم3ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ اس سے پہلے پاکستان چین کے ساتھ تجارت بڑھانے کا بھی فیصلہ کر چکا ہے اگر دونوں ممالک کے ساتھ طے شدہ پروگرام کے مطابق تجارتی حجم میں اضافہ ہو جاتا ہے تو یہ تینوں ملکوں کے لئے مفید ہو گا۔ دور دراز کے ملکوں سے درآمد میں اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور وقت بھی زیادہ صرف ہوتا ہے۔ پاکستان ایران کے راستے ترکی کو اپنی برآمدات بڑھا سکتا ہے اور اسی راستے سے درآمدات بھی کر سکتا ہے اس لئے وقت اور سرمائے کی بچت بھی ہو گی۔ پاکستان کو اس وقت جن بیرونی مسائل کا سامنا ہے اس میں ترکی کی پاکستان کی حمایت بہت بڑا اثاثہ ثابت ہو گی۔ ترکی اور چین جیسے ہمسایہ ملکوں کی طرف سے افغانستان اور کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی حمایت بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ فوجی اور معاشی لحاظ سے طاقتور مُلک ترکی کا پاکستان کی حمایت میں یوں جرأت مندی کے ساتھ پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہونا بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

مزید :

اداریہ -