ترک وزیر اعظم کے دورہء پاکستان کے دور رس نتائج نکلیں گے

ترک وزیر اعظم کے دورہء پاکستان کے دور رس نتائج نکلیں گے

  

تجزیہ اسلم بھٹی

ترک وزیر اعظم پروفیسر ڈاکٹر احمد داؤد اولو اپنا پاکستان کا دورہ مکمل کر کے واپس ترکی جا چکے ہیں ان کا یہ دورہ بہت سے پہلوؤں سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ دورہ اس وقت کیا جب ہماری پوری قیادت ،سیاسی جماعتیں اور عوام یکسوئی سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک صفحے پر ہیں۔ ہماری معیشت سنبھالا لے رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمیں بہت سے بیرونی اور اندرونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ افغانستان، بھارت اور کشمیر کے بارے میں ہمارے موقف کی بین الاقوامی سطح پر حمایت انتہائی اہم ہے ان حالات میں ترک وزیر اعظم کا تمام ایشوز پر پاکستان سے ہم آہنگی کا اظہار ہمارے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آج کی دنیا اتحاد کی دنیا اور گلوبل ویلج کی حیثیت رکھتی ہے۔ کوئی بھی ملک تن تنہا پرواز نہیں کر سکتا اسے دوسرے ممالک کی حمایت اور تعاون و مدد درکار ہوتی ہے اس تناظر میں اگر ہم ترک وزیر اعظم کے دورے کو دیکھیں تو ہمیں بین الاقوامی سطح پر خاص طور پر مسلم دنیا میں ہمارے موقف کی تائید ایک احسن پیش رفت ہے۔ترکی پاکستان کیساتھ اپنے تعلقات کو گزشتہ خاص طور پر ایک عشرے سے بہت اہمیت دے رہا ہے اس کی ایک وجہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی دلچسپی بھی ہے۔ بلاشبہ چین اور ترکی بشمول سعودی عرب پاکستان کے مخلص دوست ممالک میں سرفہرست ہیں جو ہر اچھے برے وقتوں میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو یہاں جو بھی حکومت برسر اقتدار ہو ترکی کے ساتھ تعلقات کو خاص اہمیت دی جاتی ہے، ترکی کے وزیر اعظم کو پاکستان کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشان پاکستان ان کی ان کوششوں کی وجہ سے دیا گیا جو انہوں نے پہلے بطور وزیر خارجہ اور اب بطور وزیر اعظم پاکستان ان کی ان کوششوں کی وجہ سے دیا گیا جو انہوں نے پہلے بطور وزیر خارجہ اور اب بطور وزیر اعظم پاکستان سے اپنے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے کیں ترکی میں یہ ایوارڈ وزیر اعظم نواز شریف کو بھی مل چکا ہے۔ اس دورے کے دوران پاکستان اور ترکی نے آزادانہ تجارت سمیت گیارہ معاہدوں پر اور یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں، امید کی جانی چاہئے کہ ترک وزیر اعظم پروفیسر ڈاکٹر احمد داؤد اولو کے اس دورہ پاکستان کے دور رس نتائج نکلیں گے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -