سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے دعوے زبانی جمع خرچ ثابت ہوے ‘حریت کانفرنس

سیلاب متاثرین کی بازآبادکاری کے دعوے زبانی جمع خرچ ثابت ہوے ‘حریت کانفرنس

  

 سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس ع نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت سیلاب متاثرین کی امداد اور انکی باز آبادکاری کے لیے غفلت شعاری اور عدم توجہی کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ مستحق افرادکو راحت پہنچانے کے بجائے امدادی کاروائیوں کے اس عمل کو جس طرح محکمہ جاتی طوالت اور اقربا اور کنبہ پروری کے روایتی کلچر کے نذر کیا جا رہا ہے ،اس سے نہ صرف یہ کہ سیلابی متاثرین کے مشکلات اور مصائب میں کوئی کمی واقع نہیں ہو رہی بلکہ سیلاب زدگان کے نام پر رقومات کی لوٹ کھسوٹ اور بے ضابطگیوں کے اس عمل سے پریشا ن حال لوگ گونا گوں مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں ۔ موصولہ بیان میں حریت ترجمان نے کہا ہے کہ حکومتی سطح پر سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد کے بلند بانگ دعوے ہر گزرتے دن کے ساتھ محض زبانی جمع خرچ ثابت ہورہے ہیں اور متاثرہ لوگوں کو معمولی امداد کے حصول کیلئے بھاری رشوت کی ادائیگی کا مرحلہ طے کرنا پڑ رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ سیلاب نے کشمیر میں جملہ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بری طرح متاثر کیا لیکن اب تک اس ضمن میں نہ سرکاری سطح پر امداد کی تقسیم کاری کا کوئی شفاف طریقہ کار عمل میں لایا گیا اور نہ افسر شاہی اور دفتری طوالت کے روایتی ابتر نظام سے متاثرین کو چھٹکارا حاصل ہو رہا ہے، متاثرین کی فہرست کی ترتیب میں سفارش ، رشوت اور اقربا پروری کا عنصر غیر مستحق افراد کو امداد اور فائدہ پہنچانے کی وجہ بن رہا ہے اور کہیں کہیں انشورنس کمپنیوں کی جانب سے لیت ولعل کی پالیسی ، کاروباری طبقے کے لئے پریشانیوں کا باعث بن رہی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاسپورٹ کی فراہمی کیلئے ہزاروں لوگوں کی درخواستیں اور ضروری کاغذات مختلف دفاتر سیلاب کی نذر ہو گئے اور اب ان لوگوں کو سفری دستاویزات کی فراہمی کیلئے ریاستی انتظامیہ سے کوئی راحت ملنے کے بجائے مختلف پاپڑ بیلنے پڑ رہے ہیں جس کی بنا پر پاسپورٹ کیلئے ضرورت مند افراد شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ کئی مہینے گزرجانے کے باوجود ریاستی انتظامیہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی مشکلات کا ازالہ کرنے کے بجائے مختلف محکموں کی جانب سے ان لوگوں کیلئے مزید پریشانیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -