کرپٹ ملزموں کو کلین چٹ دینے پر پنجاب حکومت کا محکمہ اینٹی کرپشن پر سے اعتماد اٹھنے لگا

کرپٹ ملزموں کو کلین چٹ دینے پر پنجاب حکومت کا محکمہ اینٹی کرپشن پر سے اعتماد ...

  

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) پنجاب حکومت کا اینٹی کرپشن کی رپورٹس سے اعتماداٹھنے لگا۔ کروڑوں روپے کی کرپشن کے الزام میں ملوث اعلیٰ انجینئر کو کلین چٹ دینے پرڈی جی اینٹی کرپشن نے معاملے کی چھان بین شروع کردی ۔بتایا گیا ہے کہ این او سی پر مبنی رپورٹس کی بار بار تبدیلی کے باعث سی اینڈڈبلیو کے انجینئر وں کی ترقی میں تاخیر ہونے لگی ہے۔ دوسری طرف معلوم ہواہے کہ اینٹی کرپشن گوجرانوالہ کی ٹیکنیکل اور تفتیشی افسروں پر مشتمل تین رکنی ٹیم نے نومبر 2012میں نے منڈی بہاوالدین کے مقدمہ نمبر 13/11میں پراجیکٹ ڈائریکٹر صفدر رضا ، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر و سپرنٹنڈنٹ انجینئر بلڈنگز سرکل لاہور محمد طارق ، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر ہمایوں شہزاد ، ایس ڈی او محمد موسیٰ و محمد ارشاد سمیت 20افراد کے خلاف جوڈیشل ایکشن منظور کرنے کی تجویز دی ۔مذکورہ انجینئر وں پر الزام تھا کہ انہوں نے منڈی بہاؤالدین کے علاقے رسول روڈ کی سٹرک میں ناقص مٹیریل استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا۔وزیر اعلیٰ نے علاقے کا وزٹ کیا تو مقامی ایم پی اے وسیم افضل نے سٹرک میں ناقص مٹریل کے استعمال کی شکایت کی۔جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب نے 29جنوری 2009کو اینٹی کرپشن کو سٹرک کی تعمیر کے حوالے سے انکوائری کرنے کا حکم دیا۔ جواب میں اینٹی کرپشن نے انکوائری شروع کی اور گروپ ون میں قومی خزانے کو دو کروڑ 5لاکھ روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں 16افراد کو گروپ ٹو میں ایک کروڑ 32لاکھ روپے نقصان پہنچانے کے الزام میں بھی 16افراد کو ، گروپ تھری میں 94لاکھ روپے نقصان پہنچانے کے الزام میں20افراد لواور گروپ پانچ میں 68لاکھ روپے نقصان پہنچانے کے الزام میں 15افراد کو ذمے دار ٹھہراتے ہوئے ۔مقدمہ نمبر 13/11اینٹی کرپشن منڈی بہاوالدین میں درج کرلیا۔اور بعد ازاں دوران تفتیش نومبر 2012میں اینٹی کرپشن کی ٹیم نے متذکرہ ملزمان کے خلاف جوڈیشل ایکشن منظور کرنے کی تجویز دی۔لیکن اس کے بعد حیران کن طورپراینٹی کرپشن نے تفتیشی ٹیم کی طرف سے ملزم قرار دیئے جانے والے سپرنٹنڈنٹ انجینئر او ر اس وقت کے ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر محمد طارق کو مورخہ تین جنوری کو لیٹر نمبرDAC-ADC-NEC-260 2014/2182کے تحت گریڈ 19سے 20میں ترقی کیلئے کلین چٹ دیدی۔جس پر پراجیکٹ ڈائریکٹر صفدر رضا نے احتجاج کیا اور ایک خط ڈی جی اینٹی کرپشن کو لکھا جس میں بیان کیا گیا کہ ان کے ماتحت ڈپٹی ڈائریکٹر اور موجودہ ایس ای بلڈنگز لاہور محمدطارق تحریری سفارش پر 2007سے 2009کے دوران مختلف ٹھیکیداروں کو 63 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی ہے۔ اور اگر محمد طارق بے گنا ہ ہیں۔ا ور ان کا نام مقدمے سے خارج کیا جارہا ہے۔ تو ان کا نام بھی مقدمے سے خار ج کیا جائے۔دوسری طرف ایس ای بلڈنگز محمدطارق خود کہتے ہیں کہ مقدمہ نمبر 13/11منڈی بہاوالدین میں ا ینٹی کرپشن کی نظرثانی شدہ رپورٹ میں انہیں ملزم ٹھہرایا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ غلط قائم کیا گیا ہے۔اینٹی کرپشن کو اس کا اختیار ہی نہیں تھا۔ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ سے ایس ڈی او سے ایکسیئن یا ایکسیئن سے ایس ای کی پرموشن ہویاسپرنٹنڈ نٹ انجینئر سے چیف انجینئر کی ترقی کا معاملہ، اینٹی کرپشن کی طرف سے انجینئر وں کے انکوائریوں اور مقدمات میں ملوث پائے جانے یا نہ پائے جانے کے حوالے سے بھیجے جانے والی این او سی رپورٹس متنازعہ رہی ہیں۔ اور صوبائی سلیکشن بورڈ میں ترقی کی سفارشات کے بعد بہت سے ایسے انجینئر وں کی انکوائریاں اور مقدمات سامنے لائے جاچکے ہیں۔ جنہیں صوبائی سلیکشن بورڈ کے روبرو اینٹی کرپشن کی طرف سے این او سی جاری کئے گئے تھے۔اور نتیجے کے طورپر ایسے بورڈز کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہوسکا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تین جنوری 2015کو بھیجی جانے والی اس رپورٹ کی روشنی میں سپرنٹنڈ نٹ انجینئر زکو چیف انجینئر کے عہدے پرترقی دی جانی مقصود تھی۔لیکن اس رپورٹ کے متنازعہ ہونے پر ایک بار پھر سے نئی رپورٹ کا انتظار کیا جارہا ہے۔

مزید :

علاقائی -