دہشت گردی میں ملک دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے ،مولانا سمیع الحق

دہشت گردی میں ملک دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے ،مولانا سمیع الحق

  

لاہور(نمائندہ خصوصی)جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ 21ویں آئینی ترمیم پاکستان کو ایک سیکولر اسٹیٹ بنانے کی طرف پہلا قدم قرار دیتے ہوئے اسے ختم کرکے 22ویں آئینی ترمیم لانے کا مطالبہ کیا جائے‘مدارس اور مساجد کے متعلق حکومتی اقدامات کے خلاف تمام مکتبہ فکر کے رہنما اکٹھے ہوکر حکومت کے پاس چلیں تو یہ سازش ناکا م ہوگی‘ دہشت گردی میں ملک دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے لیکن اس کو فرقہ واریت کا نام دے دیا جاتا ہے‘آر می چیف سے مطالبہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے ان واقعات کے پس پردہ ہاتھوں کو بے نقاب کرکے مجرموں کو عبرتناک سزادیں ‘ مدارس ،مساجد ،علماء اورآئمہ مساجدکی بلاجواز گرفتاری جبکہ مدارس سے ماورائے قانون کوائف لینا ناقابل برداشت ہے ۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز دیوبند مکتبہ فکر کی تمام جماعتوں کے اجلاس کے بعدمتفقہ اعلامیہ جاری کرتے اور میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا محمد لدھیانوی،پاکستان شریعت کونسل کے سربراہ مولانا فداء الرحمن ،مولانا زاہد الرشدی سمیت دیگر مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔مولانا سمیع الحق نے کہا کہ دہشت گردی کے تمام واقعات کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ان حالات میں قومی وحدت اور تمام محب وطن قوتوں کی فکری یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اس کے لئے مجلس علماء اسلام نے جلد تمام مکاتب فکر کے قائد کی مجلس مشاورت کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے میں رابطہ کمیٹی کے سربراہ مولانا سید عطاء المومن بخاری کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی جو آٹھ نکاتی ایجنڈ ے پر اعتماد کی فضا قائم کرے گی ۔ان نکات کے نفاذ کے لئے مل کر آواز اٹھائی جائے گی۔حکومت سے مطالبہ کیا جائے گا کہ اسلامی نظام نافذ کیا جائے پاکستان کے اسلامی تشخص کا تحفظ کیا جائے ۔ 73ء کے دستور کی آئینی دفعات پر عملد رآمدکیا جائے ۔مقا م اہل بیت کا تحفظ کیا جائے۔غیر ملکی نصاب کو ختم کیا جائے ۔ملک میں شیعہ سنی قتل و غارت نہیں ہورہی ،سنی قتل ہوتا ہے تو شیعہ کی طرف جبکہ شیعہ قتل ہوتا ہے تو سنی کی طرف انگلی اٹھتی ہے ۔مگر اس کے پس پردہ سازش لگتی ہے اور یہ قتل ملک دشمن قوتیں آگ لگانے کے لئے کررہی ہیں۔اس کی روک تھام کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔ مولانا سمیع الحق

مزید :

صفحہ آخر -