پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے

پاکستان اور افغانستان مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے

  

 چوہدری خادم حسین

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عسکری قیادت کی سنجیدگی اور عملی کوششوں کا اندازہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی کراچی میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد کابل جا کر افغانستان کے صدر اشرف غنی ا ور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتوں اور تبادلہ خیال سے لگایا جا سکتا ہے۔ پشاور، شکار پور اور اب لاہور میں دہشت گردی کی واردات کے حوالے سے شواہد ملے کہ منصوبہ بندی افغان علاقے میں ہوئی ہے۔ جنرل راحیل شریف پشاور کے آرمی سکول پر حملے کے بعد اب تیسری مرتبہ کابل گئے ہیں۔ بتایا تو یہی گیا ہے کہ فریقین نے کھلے دل سے تبادلہ خیال کیا، جنرل راحیل شریف نے ثبوتوں کے ساتھ بات کی تو دوسری طرف سے بھی تعاون مانگا گیا۔ جنرل راحیل شریف اور عسکری قوتوں کی مکمل کوشش ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کی تکمیل اس سال میں ہر صورت ہو جائے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پہلے ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج مثبت نکلے اور افغان حکومت نے نہ صرف تعاون کا مکمل یقین دلایا بلکہ کالعدم تحریک طالبان کے خلاف کنڑ میں کارروائی بھی کی گئی یہ بھی اطلاع ہے کہ دہشت گردوں کی ہلاکت کے علاوہ افغان انتظامیہ نے چھ ایسے مشکوک افراد بھی پکڑے ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی منصوبہ سازی میں شریک تھے۔ ان کی حوالگی کے لئے بھی بات ہوئی ہو گی۔ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے باہمی سمجھوتے کے تحت آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور شمالی وزیرستان کا نوے فی صد سے زیادہ علاقہ شدت پسندوں سے خالی کرا لیا ہے۔ خیبر ایجنسی میں بھی آپریشن جاری ہے اس آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں نے افغانستان کے علاقے میں جا کر پناہ لی تھی۔ جنرل راحیل شریف کے دوروں ، افغانستان کے صدر اشرف غنی کی اسلام آباد آمد اور پاکستان سیاسی قیادت کے افغان قیادت سے مذاکرات کے باعث تعلقات میں بہتری آئی اور یہ بھی طے پایا کہ دونوں ممالک ہی اپنی اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے اور آپس میں تعاون کریں گے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی اطلاع ہے کہ صدر اشرف غنی اور خصوصاً چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے ساتھ گفتگو میں افغان راہنماؤں کی طرف سے بھی بعض تحفظات کا اظہار کیا گیا کہ پاک فوج کی طرف سے مقامی گروپ کے ساتھ نرم رویہ رکھا گیا ہے یہ در حقیقت امریکی رویہ ہے جسے ان مذاکرات میں عبداللہ عبداللہ کی طرف سے دہرایا گیا۔ بہر حال جنرل راحیل شریف نے واضح کر دیا کہ پاکستان کی طرف سے کارروائی بلا امتیاز کی جا رہی ہے۔ دہشت گردوں کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردی کی یہ وارداتیں جوابی کارروائی کے طور پر ہیں کہ ان کو اب کوئی مضبوط ٹھکانہ نہیں مل رہا کہ پاکستان اور افغانستان میں زیادہ بہتر طور پر معلومات کا تبادلہ ہو رہا ہے اور تعاون بھی کیا جا رہا ہے یہ اچھے تعلقات کا بھی مظہر ہے کہ حامد کرزئی کے دور میں بات مختلف تھی۔ یہ بہت اچھی کاوش ہے جسے سراہا جانا چاہئے کہ اب تعلقات خوشگوار صورت اختیار کر رہے ہیں اس سے دونوں ممالک کا فائدہ ہے اور مستقبل کے منصوبوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں مثالی دوستی اور تعلقات ہوں اور دشمن ناکام ہوں ہماری سیاسی قیادت کو بھی اور زیادہ محنت کرنا چاہئے پشاور، لاہور اور شکارپور کے حادثات المناک ہیں اور اس مسئلہ پر بہرحال ملک کے اندر بھی اتحاد کی فضا زیادہ موثر ہونا چاہئے۔ دہشت گردی کا خاتمہ

مزید :

تجزیہ -