پرویز اکبر بھٹی کے دل کی باتیں

پرویز اکبر بھٹی کے دل کی باتیں
 پرویز اکبر بھٹی کے دل کی باتیں

  

 وطن عزیز کے حالات خواہ کچھ ہوں لیکن بیرون ملک مقیم وہ پاکستانی جن کی رشتہ داریاں ابھی یہاں باقی ہیں، وہ سال دو سال کے بعد پاکستان آجاتے ہیں اور اپنی مٹی سے تعلق استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کبھی کبھار آنے والے یہ اجنبی پنچھی یہاں ہمیشہ کے لئے رہنے نہیں آتے نہ ہی وہ یہاں سرمایہ کاری کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سبب صاف ظاہر ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ یہاں کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، کسی کی پگڑی محفوظ ہے نہ جائیداد۔ مال وجائیداد کے لئے یہاں کسی کو بھی قتل کردیا جاتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر تو قبضہ گروپوں ، اٹھائی گیروں اور لٹیروں کی کچھ خاص ہی مہربانی ہے ۔ وہ بے چارے اپنے خون پسینے کی کمائی سے یہاں یہ سوچ کر جائیداد خریدتے ہیں کہ جب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان آئیں گے تو سر چھپانے کی کوئی جگہ تو میسر ہوگی لیکن ہوتا یہ ہے کہ قبضہ گروپوں ، اٹھائی گیروں اور لٹیروں کی ان کی جائیداد پر نظر ہوتی ہے وہ پٹواریوں اور افسروں سے مل ملا کر اس پر قبضہ جمالیتے ہیں۔ یہ مسئلہ سابق گورنر چودھری سرور کے ہنی مون پیریڈ میں، لارڈنذیر احمد نے پرل کانٹی ننٹل ہوٹل اور گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی اپنی کتابوں کی تقریبات میں واضح انداز میں اٹھایا تھا۔ لارڈ نذیر تو لندن واپس چلے گئے لیکن چودھری سرور نے بطور گورنر کئی بار یہی نکتہ اٹھایا صاف لگتا تھا کہ اس معاملے میں وہ خاصے بے بس ہیں اور گورنری چھوڑنے کے اسباب میں سے ایک یہ معاملہ بھی تھا کیونکہ گورنر ہاؤس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ کی گئی تقریر میں انہوں نے قبضہ گروپوں کا گلہ بالخصوص کیا تھا۔ ان دنوں سینئر صحافی ،دانش اور میرے بہت پرانے دوست جناب پرویز اکبر بھٹی لندن سے لاہور آئے ہوئے ہیں۔ وہ وہاں سے ’’دی رائٹرز‘‘ کے نام سے ایک سماجی و ثقافتی جریدہ نکالتے ہیں۔ پچھلے سولہ برس سے لندن میں ہیں اور تقریباً سال ڈیڑھ سال کے بعد لاہور آتے ہیں۔ لاہور آتے ہی سب سے پہلے مجھے فون کرتے ہیں اور پھری میری مصروفیات میں یوں شامل ہوجاتے ہیں جس طرح سمندر میں دریا گرتا ہے اور گم ہوجاتا ہے۔ ہر اچھی بری اور چھوٹی بڑی تقریب میں میرے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ دراصل محبت اور تعلق کے ترسے ہوئے ہیں۔ وہ سال بھر میں ، لندن میں بیٹھ کر اپنے وطن کے بارے میں جتنی خبریں سنتے ہیں ان پر اپنی ایک سوچی سمجھی رائے رکھتے ہیں اور پاکستان میں آکر سب کے سامنے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس بار وہ بھی قبضہ گروپوں کی بات بار بار کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی دن رات کام کرکے زرمبادلہ کماتے ہیں اس سے اپنے لئے جائیداد خریدتے ہیں اور جب بیرون ملک ساری کشتیاں جلاکر واپس پاکستان آتے ہیں تو ان کا سب کچھ لٹ چکا ہوتا ہے۔ جب میں نے پرویز اکبر بھٹی سے یہ پوچھا کہ آپ لوگ پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں کرتے؟ تو زور سے قہقہہ لگاتے ہوئے بولے :’’آپ کی ساری سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے لوگ تو بیرون ملک سرمایہ کاری کررہے ہیں پھر ہم تارکین وطن کو کیا ضرورت پڑی ہے کہ اپنا سرمایہ یہاں لائیں۔ اگر آپ کے سیاست دانوں کی یہی صورت حال رہی تو آپ دیکھیں گے کہ تارکین وطن یہاں اپنے رشتے داروں سے ملنے کے لئے آنا بھی چھوڑ دیں گے ‘‘۔ یہ پرویز اکبر بھٹی کی ایک بات نہیں تھی، بلکہ دھمکی تھی۔ لیکن دھونس دھاندلیوں اور دھماکوں میں زندگی گزارنے والوں کے لئے دھمکی بے معنی ہوتی ہے اس لئے ان کی بات پڑھ کر میں جانتا ہوں کہ کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگے گی۔ پرویز اکبر بھٹی نے اپنی گفتگو میں ایک نئی بات کہی کہ بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو ووٹ دینے کا حق تو حاصل ہے لیکن الیکشن کمیشن نے کوئی ایسا مؤثر انتظام نہیں کیا جس کے تحت تارکین وطن انتخابات میں اپنا قیمتی ووٹ ڈال سکیں یوں ہر پانچ سال بعد لاکھوں ووٹ ضائع ہو جاتے ہیں۔ پرویز اکبر بھٹی اس بات پر حیران ہورہے تھے کہ دنیا بھر کے بڑے ملک ،بیرون ملک مقیم اپنے شہریوں کو ہر طریقے سے OWN کرتے ہیں ،لیکن یہاں دوہری شہریت کا الزام لگاکر اچھے لوگوں کو خدمت سے روکا جاتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ ، فرانس ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں مقیم پاکستانیوں کی دوہری شہریت پر وہاں کی حکومتیں کوئی اعتراض نہیں کرتیں۔ چنانچہ وہ لوگ وہاں کی سیاست میں بھرپور طریقے سے حصہ لیتے ہیں، لیکن وہی لوگ اگر پاکستان میں آکر سیاست میں خدمت کی شمع روشن کرنا چاہیں تو دوہری شہریت کے الزامات کی آندھی چلا کر اسے بجھا دیا جاتا ہے۔ میرے دوست پرویز اکبر بھٹی کو اس بات کا بھی گلہ ہے کہ ہماری موجودہ سیاسی حکومت نے اپنے کرنے کے بہت سے کام فوج کے سپرد کردیئے ہیں۔ اگر فوج کو اس کا اپنا کام کرنے دیا جائے اور حکومت اپنا کام کرے تو سیاست دان عوام کی تقدیر بدلنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ آج پاکستان میں انصاف بھی فوج کے سپرد ہے اور آئی ڈی پیز کو بھی فوج ہی نے سنبھالا ہوا ہے۔ جب میں نے پرویز سے کہا کہ ان دنوں ملک کو درپیش صورت حال سے کس طرح چھٹکارا پایا جاسکتا ہے، تو کہنے لگے :’’اگر آپ کی حکومت سوچنے سمجھنے اور لکھنے پڑھنے والے ادیبوں شاعروں پر مشتمل تھنک ٹینک بنالے تو سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں ۔ آج ادیبوں شاعروں کو چھوٹے چھوٹے مفادات کے جوہڑوں میں پھینک دیا گیا ہے جہاں وہ ڈبکیاں کھارہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ ان ڈبکیاں کھاتے ادیبوں شاعروں کو اس جوہڑ سے نکالے اور ان سے وہ کام لے جو لینا چاہیے‘‘۔ پرویز اکبر بھٹی جیسے دردمند شخص کی باتیں دراصل ہر پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ ان کی باتیں سن کر مجھے غالب کا مصرع بار بار یاد آتا رہا : میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے اللہ کرے دل کی یہ بات ہمارے حکمران بھی سن لیں۔

مزید :

کالم -