مہمانوں کی وہ عادات جو رحمت کو زحمت بنا دیتی ہے،آپ بھی جانئے اور آئندہ احتیاط کریں

مہمانوں کی وہ عادات جو رحمت کو زحمت بنا دیتی ہے،آپ بھی جانئے اور آئندہ ...
مہمانوں کی وہ عادات جو رحمت کو زحمت بنا دیتی ہے،آپ بھی جانئے اور آئندہ احتیاط کریں

  

برمنگھم (نیوز ڈیسک) مہمان خدا کی رحمت ہوتے ہیں مگر کچھ مہمان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے تکلیف دہ رویے کی وجہ سے میزبانوں کے لئے زحمت بن جاتے ہیں۔ ایک حالیہ سروے میں دو ہزار سے زائد افراد سے یہ معلوم کیا گیا کہ وہ کس قسم کے مہمانوں کو تکلیف دہ ترین سمجھتے ہیں تو نہایت دلچسپ حقائق سامنے آئے۔

خواتین مہینے کے کن دنوں میں سب سے زیادہ شاپنگ کر تی ہیں؟جدید تحقیق میں دلچسپ انکشاف

 دو تہائی سے زائد افراد نے بتایا کہ جو مہمان بغیر کسی اطلاع کے آن پہنچتے ہیں اور پھر اُن کا جانے کو جی نہیں چاہتا وہ کسی عذاب سے کم نہیں ہوتے۔ اس کے بعددوسرے نمبر پر وہ مہمان تکلیف دہ ترین قرار دئیے گئے جو میزبان سے ذاتی نوعیت کے سوالات بہت پوچھتے ہیں اور زبردستی اس کے گھر کے مختلف حصوں کو دیکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ تکلیف دہ مہمانوں میں کھانے اور دیگر خدمت پر اعتراز کرنے والے اور گھر کی تزئین و آرائش میں کیڑے نکالنے والے مہمانوں کو بھی اہم ترین مقام دیا گیا ہے۔

 گھر کا واش روم استعمال کرنے کے بعد اس کی مناسب طور پر صفائی نہ کرنا ایک اور باعث پریشانی بات قرار دی گئی۔ کچھ مہمان میزبان کے ہاں سگریٹ پینے اور بیہودہ انداز میں قہقہے لگانے سے بھی باز نہیں آتے اور یہ عموماً کسی خاص قسم کے کھانے یا چائے پر بھی اصرار کرتے پائے گئے ہیں۔ میزبان کے گھر میں موبائل فون کا بکثرت استعمال کرنے والے مہمانوں کو بھی سخت ناپسند کیا جاتا ہے۔

 کچھ مہمانوں کے بارے میں تو یہ بھی شکایت کی گئی کہ وہ اگر رات میزبان کے ہاں گزاریں تو سونے کی بجائے کچھ مشکوک حرکات بھی کرنے سے ہچکچاتے نہیں ہیں، مثال کے طور پر اگر کوئی جوڑا میزبان کے ہاں رات گزارے اور وہ رات گئے شائستگی کی حدود کو پھلانگ کر میزبان کے گھر کو اپنا گھر سمجھتے ہوئے کچھ خاص حرکات کرگزرے تو یہ میزبان کے لئے ناپسندیدہ ترین باتوں میں سے ایک ہے۔ اور اگر یہی جوڑا صبح کے وقت بیڈ یا بستر کے آرام دہ نہ ہونے کی بھی شکایت کرے تو یقیناً ان سے زیادہ برا مہمان کوئی نہیں ہوسکتا۔ سروے میں شامل 30 فیصد میزبانوں نے بتایا کہ انہیں اپنے مہمانوں کے اس بیہودہ رویے کا سامنا کرنا پڑچکا ہے۔ یہ تحقیق ہاسپیٹیلٹی ویب سائٹ Airbnb نے کی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -