علم وتحقیق اور امن کے لئے 65سال

علم وتحقیق اور امن کے لئے 65سال
 علم وتحقیق اور امن کے لئے 65سال

  

تحریک منہاج القرآن کے بانی پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شخصیت کا بغور مطالعہ کریں تو انہوں نے زندگی میں جتنے بھی کام کئے ان میں نیک خواہشات جلوہ گر نظر آتی ہیں ۔کوئی کام کسی کو نقصان پہنچانے کے لئے کبھی نہیں کیا ،ہمیشہ ملک و قوم کی بھلائی چاہی ،ڈاکٹر طاہر القادری یہاں تک محتاط نظر آتے ہیں کہ انہوں نے کوئی رتبہ یا ڈگری ایسی حاصل نہیں کی جس میں انکی محنت شامل نہ ہو ،ڈاکٹر طاہر القادری کی تحریر و تقریر میں موضوع اور کچھ عطا کرنے کی خوبیاں نمایاں نظر آتی ہیں ،الفاظ میں فصاحت و بلاغت کے دریا موجزن دکھائی دیتے ہیں ۔پریس کانفرنس ہو یا کمرہ عدالت ،پارلیمنٹ کا اجلاس ہو یا جلسہ عام انکے خطاب کا انداز نہایت باوقار ہوتا ہے ،انکی زبان شستہ ،لہجہ متین،الفاظ دلنشین،گفتگو مدلل اور خیالات روح کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں ،انہی اوصاف کی بنا پر وہ دنیا کے عظیم مذہبی سکالر ،معروف قانون دان،تاریخ ساز سیاست دان اور اپنی قوم کے لئے قائد انقلاب بن گئے ہیں ۔

ڈاکٹر طاہرالقادری کی عظمت کا راز محض اس امر میں پوشیدہ نہیں ہے کہ وہ ایک عالم باعمل اور شعلہ بیان مقرر ہیں یا وہ ایک صاحب طر زِ اسلوب نگار مصنف ہیں یا انہوں نے صاحبان فہم و ذکا سے اپنی تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کا اعتراف کرا لیا ہے میرے نزدیک تو طاہرالقادری ہر من ہیمز کے ایک ناول کے اس ہیرو کی طرح ہے جو ایک موقع پر اپنے تمام رقیبوں پر یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ وہ اپنی تمام قوتوں اور قدرتوں کے باوجود اس کو اس لیے زیر نہیں کر سکتے کہ اس کے پاس تین ایسی صلاحیتیں ہیں جو کسی دوسرے کے نصیب میں نہیں اولاً اس کے پاس علم ہے اور اس کے رقیب علمی صلاحیتوں سے بے بہرہ ہیں وہ محبت کی خاطر بھوکا رہ سکتا ہے جبکہ اس کے مدّ مقابل خوردونوش کے رسیا ہیں۔ ثانیاً وہ انتظار کر سکتا ہے جبکہ اس کے مخالفین ’’نو نقد نہ تیرہ ادھار‘‘ کے قائل ہیں۔ اگر آپ طاہرالقادری کی پوری زندگی کا منظرنامہ مرتب کریں تو وہ اسی مثلث پر استوار نظر آئے گا یعنی علمی استعداد، مقاصد جلیلہ کی خاطر ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرنا اور خو ف و مایوسی سے دامن بچا کر اچھے وقت کا انتظار کرنا۔ طاہرالقادری معاشرے میں حق و صداقت کی روشنی پھیلانے کے متمنی ہیں۔ وہ اہل دنیا کی نگاہوں میں اسی لیے قدر و منزلت کے حقدار قرار پائے ہیں کہ انہوں نے سچ کی فرمانروائی کے لئے اپنوں کو خفا اور بیگانوں کو تو ناخوش کر لیا لیکن حق و صداقت کے علم کو سرنگوں نہ ہونے دیا۔

ڈاکٹر طاہرالقادری ربع صدی سے یہ فریضہ بطریق احسن انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے ضرب علم و امن کا آغاز کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ فوج دہشت گردوں کا مقابلہ بندوق سے کرے اور ہم دہشتگردوں کی فکر کا خاتمہ قلم سے کریں گے۔کسی نے ڈاکٹر طاہر القادری سے پوچھا کہ آپ نے دھرنوں کی مشقت کیوں اٹھائی؟ انہوں نے سادہ سا جواب دیا قیامت کے دن جب مجھ سے پوچھا جائے گا کہ پاکستان کے غریب عوام کے ساتھ ظلم ہو رہا تھا انکو ایک وقت کی باعزت روٹی بھی نہیں مل رہی تھی ،غریب کو ہسپتال میں دوائی تک نہیں مل رہی تھی،تھانوں اور عدالتوں میں انصاف بک رہا تھا ،80فی صد سے زائد لوگوں کو پینے کا صاف پانی نہیں مل رہا تھا ،ظالم حکمران غیر ملکی قرضے لے کر اپنی عیائشیوں پر خرچ کر رہے تھے اور یہ قرض اور اس پر سود غریب عوام نسل در نسل اتار رہے تھے ۔غریب کے بچوں اور بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے باوجود بے روزگار تھے ،عزت دار لوگوں کی بیٹیاں جہیز نہ ہونے کے باعث گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو رہی تھیں۔

معصوم بچے تھر اور چولستان میں بھوک اور علاج نہ ہونے کی وجہ سے موت کو گلے لگا رہے تھے تو طاہر القادری تم نے اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائی تو میں کہوں گا اے باری تعالیٰ تیرے مجبور اور غریب عوام کو انکے جائز حقوق دلوانے کے لئے قاتل و غاصب حکمرانوں کے خلاف پاکستان کے سب سے بڑے ایوان کے سامنے میں نے دھرنے دئیے اور ملک کے غریبوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ اگر تمہارے لئے اور کوئی نہیں نکلتا تو ڈاکٹر طاہر القادری ضرور نکلے گا،۔ وہ نوجوانوں کی فکری آبیاری بھی کرتے ہیں اور ان کی سمت نمائی بھی۔ ا ب تو یہ بات بلا شک و بلا تردْد کہی جاسکتی ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری کے فکری تربیت یافتہ نوجوان پوری دنیا میں اپنے حق پرست اور دیندار استاد کے افکار و نظریات کی تشہیر و تبلیغ میں مصروف عمل ہیں۔ ان نوجوانوں پر یہ راز منکشف ہو چکا ہے کہ وہی شجر تناور ہوتے ہیں جن کی جڑیں زمین میں پیوست ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ایسے شجرِ سایہ دار ہیں جن کے سائے میں علم و ادب کے شائقین سْستا رہے ہیں۔ وہ اپنی تخلیقات کے ذریعہ ایک ایسی سچی اور کھری تاریخ مرتب کرتا ہے جومعاشرے کوایک نئی نہج عطا کرتی ہے۔ اس کی تحریریں اور تقریریں نوجوانوں کو عزم و حوصلہ عطا کرتی ہیں اور وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرنے کے قرینے تلاش کرلیتے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف تاریخی فتوی کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری نے حال ہی میں انسداد دہشتگردی اور فروغ امن نصاب دے کر امت مسلمہ کو ایک اور تحفہ دیا ہے ،انہوں نے ملت اسلامیہ کے سکالرز صدیوں کا قرض اپنی اس تصنیف کے ذریعے چکا دیا ۔

مزید :

کالم -