دہشت گردی او رٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں؟

دہشت گردی او رٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مُلک کے مختلف شہروں میں اچانک نامعلوم افراد کی طرف سے ٹارگٹ کلنگ نما دہشت گردی کی وارداتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے آج رحیم یار خان کے ایک سکول میں فائرنگ سے ایک طالبہ زخمی ہو گئی اور اس سے پہلے روز لاہور کے علامہ اقبال ٹاؤن میں ناکے پر کھڑے پولیس والوں پر فائرنگ کی گئی، جس سے دو کانسٹیبل شہید ہو گئے۔ یہ سب وارداتیں موٹر سائیکل سواروں نے کیں، ابھی تک ان کا تعلق دہشت گردی ہی سے جوڑا جا رہا ہے۔شمالی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب نے جو کامیابی حاصل کی اس سے دہشت گرد بوکھلا گئے اور اب اوچھی حرکتوں پر اُتر آئے ہیں، اور ایسی وارداتیں کر رہے ہیں، جن سے خوف و ہراس پھیلے اور فائرنگ کے یہ واقعات اسی حکمت عملی کا حصہ لگتے ہیں۔جہاں تک ان وارداتوں کا تعلق ہے تو گزشتہ دِنوں آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے کراچی آپریشن کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لیا اور بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان اور لشکر جھنگوی کے نیٹ ورک کو توڑا گیا ہے، اور بعض ایسے دہشت گرد بھی گرفتار ہوئے ہیں،جو القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں سے رابطہ رکھے ہوئے تھے۔یہ صورت حال غیر متوقع نہیں، جن لوگوں کو بڑی شکست ہو گئی ہو وہ اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کریں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگرچہ ہماری قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے چوکس ہیں اور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں،لیکن اتنے بڑے مُلک میں ہر جگہ، ہر لمحہ تو موجود نہیں رہا جا سکتا، جبکہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار تو شہری آبادیوں میں موجود ہیں، اِس لئے جہاں انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کام بڑھ جاتا ہے وہاں پولیس سٹیشنوں کے ’’کارِ خاص‘‘ اور سی آئی ڈی کے شہری مخبر بھی کارآمد ہیں، ان سے بھی نشان دہی کا کام لیا جائے، سب سے بڑی ضرورت ہے کہ شہریوں کو تحفظ کامل کا یقین دِلا کر ان کو بھی تعاون پر رضامند کیا جائے کہ وہ مشتبہ افراد کی نشاندہی کریں اس سلسلے میں پوری قوم کو بیدار کرنے کی ضرورت ہے اور یہ کرنا چاہئے۔

مزید :

اداریہ -