گورنمنٹ کالج یونیرسٹی لاہور کی ا قامتی ضروریات

گورنمنٹ کالج یونیرسٹی لاہور کی ا قامتی ضروریات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گورنمنٹ کالج لاہور جیسے ستمبر 2002ء میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا تھا، اپنی قدیم علمی روایات اورمعیار کے لحاظ سے برصغیر پاک وہند بلکہ ایشیا میں ایک ممتاز اور منفرد مقام کا حامل ہے۔ اس ادارے میں نہ صرف پورے ملک بلکہ بیرون ملک سے بھی طلبا و طالبات مختلف شعبوں اور مختلف سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے لئے داخلہ لیتے ہیں۔ یہ ادارہ 1864ء میں قائم ہو ا تھا اوراب اس کے قیام کے 152سال مکمل ہو چکے ہیں۔ اس ادارے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے گریجویشن اورپوسٹ گریجویشن کی تعلیم یہاں سے حاصل کی اوربعدازاں بطور اسسٹنٹ پروفیسر بھی یہاں تدریسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ علامہ اقبال 1895 ء سے 1900ء تک یہاں کے اقبال ہوسٹل جسے اس زمانے میں کواڈرینگل کہا جاتا تھا. میں قیام پذیر رہے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد آفتاب نے پروفیسر خورشید الحسن رضوری، ظہیر احمد صدیقی اوردیگر سکالرز پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ جس نے علامہ اقبالؒ کے رہائشی کمرے کا تعین کیا ہے جس کا چند روز قبل افتتاح کیا گیا ہے اس تقریب کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر حسن امیر شاہ نے کی جبکہ مہمان خصوصی جسس جاوید اقبال مرحوم کے فرزند منیب اقبال تھے جبکہ میزبانی کے فرائض ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی نے سرانجام دیئے۔ اقبال ہوسٹل گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا قدیم ترین ہوسٹل ہے زمانہ ماضی میں پروفیسر نور محمد ملک، پروفیسر محمد خاں اشرف، پروفیسر خالد خاں صدیقی اوردیگر معروف اساتذہ اس ہوسٹل کے سپرٹنڈنٹ اوروارڈن رہ چکے ہیں جبکہ آج کل ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی ہوسٹل سپر ٹنڈنٹ ہیں۔ اس ہوسٹل میں انٹر میڈیٹ کے طلبا اقامت پذیر ہوتے ہیں۔ پاکستان کی بے شمار معروف شخصیات جنہوں نے جی سی سے تعلیم حاصل کی یہاں قیام پذیر رہ چکی ہیں۔
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا دوسرا بڑا ہاسٹل نیو ہوسٹل ہے جو 1922ء میں قائم ہوا تھا اوراب تک اسے نیو ہوسٹل کے نام سے پکارا جاتا ہے اس ہوسٹل میں بی ایس آنرز، بی ایس سی، ایم اے ایم ایس کی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سکالرز قیام پذیر ہوتے ہیں آج کل پروفیسر خادم علی خان اس ہوسٹل کے سپرٹنڈنٹ ہیں ماضی میں پروفیسر حبیب اللہ بھٹی مرحوم، پروفیسر شاہد حسین اورپروفیسر امان اللہ ورک جیسے معروف اساتذہ اس ہوسٹل کے سپرٹنڈنٹ اوروارڈن رہ چکے ہیں اورپاکستان میں مختلف شعبہ ہائے زندگی کی بے شمار معروف اورتمام شخصیات زمانہ طالب علمی ہیں یہاں قیام پذیر رہ چکی ہیں۔
جی سی یونیورسٹی میں ایک گرلز ہوسٹل بھی ہے جہاں بی ایس آنرز اورپوسٹ گریجویٹ طالبات قیام پذیر ہیں جبکہ قائد اعظم ہوسٹل جو 1993ء میں پروفیسر ڈاکٹر عبدالمجید اعوان کی پرنسپل شپ کے دوران قائم ہوا تھا، اس ہوسٹل میں بھی انٹر میڈیٹ کے طلبا قیام پذیر ہیں۔ آج کل کالج کے چیف لائبریرین عبدالوحید اس ہوسٹل کے سپرٹنڈنٹ ہیں ان سے قبل پروفیسر محمد فاروق، پروفیسر محمد ابراہیم اوردیگر معروف اساتذہ یہاں ہوسٹل سپر ٹنڈنٹ اوروارڈن کے فرائض سرانجام دے چکے ہیں۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ طلباوطالبات کی تعداد میں بے پناہ اضافے اور مختلف نئے شعبہ جات کے قیام کے باوجود گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں گزشتہ 22سال سے کوئی نیا ہوسٹل قائم نہیں کیا گیا۔ اس کے لئے سابقہ وائس چانسلرز نے شاید کوئی موثر کوشش نہیں کی گئی۔ موجودہ وائس چانسلر ڈاکٹرحسن امیر شاہ سے یہ توقع کی جاری ہے کہ وہ طلبا وطالبات کی اقامتی ضروریات کے سلسلے میں موثر کوشش کریں گے اوربیرون لاہور سے آنے والے راوینز کے اس انتہائی جائز مسئلے کو حل کردیں گے۔***

مزید :

ایڈیشن 2 -