ڈاکٹر احسن اختر ناز مرحوم ۔۔۔میرے دوست میرے رفیق

ڈاکٹر احسن اختر ناز مرحوم ۔۔۔میرے دوست میرے رفیق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

احسن اختر ناز مرحوم ہو گئے وہ صحافت کے پروفیسر بھی تھے ڈاکٹر بھی تھے اور انہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ اعزاز بھی بخشا کہ جس شعبے میں وہ طالب علم رہے جہاں سے صحافت کی تعلیم حاصل کی وہ اس کے سربراہ بھی رہے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں ان کا طالبعلمی سے لے کر سربراہ شعبہ تک کا سفر انتہائی باوقار اور منفرد تھا۔ جن اساتذہ سے انہوں نے تعلیم حاصل کی ان کی رفاقت بھی پائی۔ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ان کے سفر آخرت کو بھی یاد گار بنا دیا۔ ان کا جنازہ جس شان سے اٹھا جتنے ہاتھ ان کی مغفرت کے لئے اٹھے وہ ایک ریکارڈ ہے وہ ایک گواہی ہے شہادت ہے اس بات کی کہ مرحوم ایک ہر دل عزیز انسان تھے۔ استاد تھے۔ دوست تھے اللہ ان کے درجات بلند کرے۔ (آمین)
ڈاکٹر احسن اختر ناز میرے معاصر بھی تھے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ صحافت میں اسسٹنٹ پروفیسر شپ کے لئے وہ میرے مد مقابل بھی تھے جنرل ارشد کی وائس چانسلر شپ کے دوران شعبہ صحافت کی اسسٹنٹ پروفیسر کی آسامی کے لئے سلیکشن بورڈ ہوا دیگر امیدواران کے علاوہ ڈاکٹر ناز بھی اس آسامی کے لئے امیدوار تھے وہ پہلے سے ہی اس ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرر تعینات تھے بطور استاد ان کی شہرت اور صلاحیت مستحکم تھی اس پوسٹ پر اپلائی کرنے کے لئے انہوں نے میری بھرپور رہنمائی کی۔ یونیورسٹی کے سلیکشن کے طریق کار کے حوالے سے بتایا اور ڈاکو منٹس کی فراہمی اور تیاری میں صرف رہنمائی ہی نہی کی بلکہ معاونت بھی کی یونیورسٹی سلیکشن بورڈ کے طریق کار کے حوالے سے ان کی معلومات نے سلیکشن کے لئے میری بھرپور معاونت کی اور میں پنجاب یونیورسٹی شعبہ صحافت میں ان کا رفیق کار بن گیا۔ انہوں نے مجھے کھلے دل اور بانہوں کے ساتھ خوش آمدید کہا تدریس کے حوالے سے میری رہنمائی بھی کی اور معاونت بھی یہی وجہ ہے کہ نئے استاد کے طور پر جب میرا تقرر ہو گیا تو ناز صاب کے ساتھ رفاقت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ انہیں قریب سے دیکھنے، جاننے اور ہم عصر کے طور پر کام کرنے کا موقع ملا۔ بادی النظر میں اسٹنٹ پروفیسر شپ کی آسامی کے لئے وہ میرے حریف تھے میرے مد مقابل تھے۔ ان کی رہنمائی اور معاونت کے ذریعے میں ان کا رفیق کار بنا انہوں نے مجھے بطور استاد کامیاب بنانے کے لئے انتہائی خلوص دل کے ساتھ کام کیا یہی وجہ ہے کہ تین ماہ بعد بطور استاد جب یونیورسٹی نے میری کارکردگی کا جائزہ لیا تو مجھے اول درجے میں شمار کیا۔ اس دور میں جنرل ارشد محمود کی وائس چانسلر شپ میں نئے اساتذہ کے معیار کو جانچنے اور ان کی تربیت کا اعلیٰ بندوبست تھا ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے نئے اساتذہ کو تربیتی مراحل سے گزارا جاتا تھا انہیں پڑھانے کے طریقے سکھائے جاتے تھے ان کی گرومننگ کی جاتی تھی اس کے بعد اساتذہ پر اس تربیت کے اثرات جانچنے کے لئے ایک سائنٹیفک طریق کار اختیار کیا جاتا تھا اللہ کے فضل و کرم اور ناز صاحب کی رہنمائی کے ذریعے میں ان تمام مراحل سے بخیر و خوبی گزرا اور نئے اساتذہ کی فہرست میں کامیاب استاد قرار پایا۔ احسن اختر ناز اس وقت بھی میرے قریب تھے اور ان کی ابدی جدائی کے بعد بھی میں ان کو اپنے دل کے قریب پاتا ہوں۔
اللہ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین

مزید :

ایڈیشن 2 -