تعلیمی اداروں میں سکیورٹی انتظامات

تعلیمی اداروں میں سکیورٹی انتظامات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تعلیمی اداروں کے حفاظتی انتظامات کا مسئلہ آغاز ہی سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ اس ضمن میں دہشت گردی کے واقعات رونما ہونے سے پہلے بھی محکمہ داخلہ اور محکمہ پولیس کی طرف سے مختلف اجلاسوں اور میٹنگز کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے۔ شروع میں واک تھرو گیٹس، دھاتی شناخت اور اداروں کے استقبالیہ پر آنے والے مہمانوں کی شناخت، گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کیلئے سٹیکرز کا اہتمام کیا گیا، تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ہدایات میں سکیورٹی انتظامات پر خصوصی توجہ کیلئے کہا گیا لیکن جب آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کی بڑے پیمانے پر شہادت کا المیہ سامنے آیا، تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس مسئلے کی سنگینی کا احساس کیا۔ پہلے تو تعلیمی اداروں کو کچھ عرصے کیلئے بند کردیا گیا تاکہ سکیورٹی انتظامات کی کمی بیشی کا جائزہ لے کر اسے درست کیا جائے اور بعدازاں تعلیمی اداروں کی مختلف کیٹگریز (گروپس) کے لحاظ سے درجہ بندی کی گئی تاکہ جن اداروں میں زیادہ انتظامات کی ضرورت ہے وہاں زیادہ توجہ دی جائے۔ تعلیمی اداروں کو سکیورٹی گارڈز مقرر کرنے کے علاوہ دیواریں کم از کم آٹھ فٹ بلند کرنے اور ان پر خاردار تاریں لگانے کا پابند کیا گیا اوریہ کہ نہ صرف باہر سے آنے والے لوگوں پر بھی نظر رکھی جائے بلکہ اس امر کا بھی جائزہ لیا جائے کہ یہ لوگ اداروں میں کس کس سے رابطہ رکھتے ہیں؟ اس امر کی بھی ہدایت کی گئی کہ تعلیمی اداروں میں آنے والی اشیاء اور باہر جانے والی اشیاء پر بھی نظر رکھی جائے۔
چارسدہ یونیورسٹی کا سانحہ اور نئے اقدامات
اگرچہ سانحۂ پشاور (آرمی پبلک سکول) کے بعد مسلسل تعلیمی اداروں کی سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے اقدامات کئے جاتے رہے ہیں لیکن چارسدہ یونیورسٹی کے سانحے کے بعد وزارت داخلہ اور پولیس کے مختلف ادارے اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی کیلئے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اور ایڈہاک انتظامات کی بجائے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے چنانچہ نئے سرے سے میٹنگز اور تعلیمی اداروں کے معائنے‘ سکیورٹی کے دستیاب انتظامات کے جائزے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ ہر تعلیمی ادارے کو مورچہ بند بنانے کیلئے اداروں کے باہر بوریوں میں ریت بھر کر رکھی گئی ہے تاکہ ممکنہ دہشت گردی کی صورت میں گولہ بارود کو ناکارہ اور دہشت گردی کے اقدام کو ناکام بنا دیا جائے۔
تعلیمی اداروں کی ہمہ وقت نگرانی کیلئے ضروری اقدامات
جب تک سکیورٹی کے مسائل پیدا نہیں ہوئے تھے کالجز اور سکولز کے پرنسپل ہاؤسز میں بیرونی افسران قیام پذیر رہتے تھے لیکن آج سے چھ سال پہلے ایک میٹنگ میں اس امر پر زور دیاگیا کہ تعلیمی اداروں کے سربراہوں کو پرنسپل ہاؤس میں قیام پذیر رہنے کا پابند کیا جائے تاکہ وہ ہمہ وقت ادارے کی سکیورٹی پر نظر رکھ سکیں۔ اس ضمن میں لاہور ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ سال 2009ء میں منظرعام پر آیا جس کے مطابق کالجوں اور سکولوں کے پرنسپل ہاؤسز میں باہر کا کوئی بھی آدمی قیام پذیر نہیں ہوسکتا بے شک وہ جتنا بڑا افسر بھی ہو چنانچہ اس فیصلے کی روشنی میں اب تعلیمی اداروں کے سربراہ ان اقامت گاہوں میں قیام پذیر ہوتے ہیں جو کیمپس کے اندر بنائی گئی ہیں۔
تعلیمی اداروں میں جن اساتذہ کو سکیورٹی انچارج مقرر کیا جاتا ہے وہ بھی اکثر و بیشتر ان اداروں کے اندر ہی قیام پذیر ہوتے ہیں اور درجہ چہارم کے تمام ملازمین جنہوں نے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینا ہوتے ہیں وہ ان سکیورٹی انچارج کے ماتحت ہوتے ہیں۔ سانحہ چارسدہ کے بعد والدین اس امر پر کافی پریشان ہیں کہ اب کسی نئے سانحے کا انتظار کئے بغیر سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔
تعلیمی اداروں کے باہر پولیس تعینات کرنے کی ضرورت
تعلیمی اداروں کے باہر پولیس تعینات کرنے کی بے حد ضرورت ہے تاکہ مشکوک اور شرپسند عناصر پر کڑی نظر رکھی جائے۔ خواتین کے تعلیمی اداروں میں طالبات کی شناخت اور ان کے شناختی کارڈز کو چیک کرنے کی ذمہ داری خواتین پولیس اور خواتین گارڈز کے سپرد ہونی چاہئے تاکہ رش کے اوقات میں اور کلاسز کے شروع میں طالبات کی شناخت کو ممکن بنایا جائے۔
سکیورٹی گارڈز کی خالی اسامیاں
اکثر و بیشتر تعلیمی اداروں میں سکیورٹی گارڈز کی ہزاروں اسامیاں خالی ہیں جب تعیناتی کیلئے کیس نظامت تعلیم کو ارسال کئے جاتے ہیں تو دفتری مراحل میں کافی تاخیر ہو جاتی ہے اور اسامیاں پُر نہیں ہو پاتیں جبکہ سکیورٹی کا مسئلہ انتہائی حساس ہے اور نہ صرف والدین بلکہ طلباء و طالبات بھی اس مسئلے پر پریشان اور ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ حصول تعلیم کیلئے نہ صرف طلباء و طالبات بلکہ اساتذہ کرام کو بھی اپنی قیمتی جانوں کے ضیاع یا نقصان کا خطرہ لاحق رہتا ہے۔ حکام بالا کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں مزید کسی بھی کوتاہی یا غفلت سے کام نہیں لینا چاہئے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے تقرر میں عملی طور پر حائل مشکلات کو ختم کرنے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی گارڈز کے تقرر کیلئے ریٹائرڈ فوجیوں کو ترجیح دی جاتی ہے لیکن بسا اوقات ریٹائرڈ فوجی مطلوبہ تعلیمی قابلیت پر پورا نہیں اترتے جس کی وجہ سے ضرورت ہے کہ تعلیمی قابلیت کے معیار کو کم کیا جائے تاکہ مطلوبہ اہلکار دستیاب ہوسکیں۔ چونکہ آرمی سے ریٹائر ہونے والے فوجی چاق و چوبند اور مستعد ہوتے ہیں اس لیے ان کے تقرر میں حائل تمام مشکلات کو دور کرنا ہوگا۔
آپریشن ضرب عضب کی کامیابی
اور تعلیمی ادارے
تعلیمی اداروں میں مختلف سطحوں پر زیر تعلیم طلباء و طالبات نے اس امر پر خوشی کا اطہار کیا کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی سے دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوچکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی والدین اور طلباء و طالبات کا یہ خیال ہے کہ تعلیمی اداروں کی سکیورٹی بہتر بنانے کیلئے بے شمار اقدامات کی ضرورت ہے اور صرف میٹنگز کے انعقاد اور کاغذی کارروائیوں کی بجائے فنڈز اور گرانٹ کی فراہمی اور ٹھوس عملی اقدامات وقت کا اہم تقاضا ہے۔***

مزید :

ایڈیشن 2 -