کشمیر کے ساتھ فطری رشتوں کو اجاگرکرنے کی ضرورت ہے،پروفیسر خواجہ فاروق

کشمیر کے ساتھ فطری رشتوں کو اجاگرکرنے کی ضرورت ہے،پروفیسر خواجہ فاروق

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(پ ر)کشمیر کے پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے ساتھ ساتھ فطری رشتوں کو اجاگرکرنے کی ضرورت ہے ۔ نئی نسلوں کو بتانا چاہیے کہ کشمیر پاکستان کیلئے ناگزیر حیثیت رکھتا ہے جس کے بغیر پاکستان مکمل نہیں ہوگا، کشمیری پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ان خیالات کا اظہار آزادکشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد فاروق نے کشمیر سنٹر لاہور کے انچارج سردار ساجد محمود سے ملاقات کے موقع پر کیا اس موقع پر سردار ساجد محمود نے جموں وکشمیر لبریشن سیل کی طرف سے کشمیر پر بھارتی قبضے اور الحاق کے حقائق کو اجاگر کرنے کے علاوہ پاکستانی عوام اور حکومت کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے تناظر میں شائع ہونے والی مطبوعات کا سیٹ وائس چانسلر کو پیش کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد فاروق نے کہا کہ کشمیر کے تمام قدرتی اور جغرافیائی راستے پاکستان کے ساتھ منسلک ہیں۔

، کشمیر کے تمام دریاؤں کا رخ قدتی طور پر پاکستان کی جانب ہی ہے، پاکستان سے کشمیر میں داخلے کیلئے ایک درجن کے لگ بھگ راستے ہیں جبکہ بھارت سے صرف ایک راستہ مسلم اکثریتی ضلع گورداسپور کی تحصیل پٹھانکوٹ سے کشمیر کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضلع کو ریڈکلف نے ایک سازش کے تحت بھارت کے حوالے کردیاتھا تاکہ اسے کشمیر پر قبضہ کیلئے راستہ میسر آسکے۔ ریڈکلف اور برطانوی حکومت کی اس ناانصافی کی سزا آج بھی پوری کشمیری قوم بھگت رہی ہے۔