اورنج ٹرین۔۔۔ رانا ثنا ، میاں محمود الرشید ۔۔۔ کیا دونوں ٹھیک کہہ رہے ہیں

اورنج ٹرین۔۔۔ رانا ثنا ، میاں محمود الرشید ۔۔۔ کیا دونوں ٹھیک کہہ رہے ہیں
 اورنج ٹرین۔۔۔ رانا ثنا ، میاں محمود الرشید ۔۔۔ کیا دونوں ٹھیک کہہ رہے ہیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور کی اورنج ٹرین پر آجکل خوب سیاست اور قانونی جنگ ہو رہی ہے۔ سیاست بھی عروج پر ہے۔قانونی جنگ بھی جوبن پر ہے۔ لیکن اورنج ٹرین پر ہونے والی سیاست کوئی نئی نہیں۔ اس سے پہلے جب گزشتہ انتخابات سے قبل لاہور میں پہلی میٹرو بنائی گئی تھی۔ تو بھی ا تنا ہی شور تھا۔ جیسے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اورنج ٹرین کے نقصانات بتاتے ہوئے اسے بار بار کھٹی گڈی کہہ رہے تھے۔ اسی طرح پہلی میٹرو کو جنگلا بس سروس کہا گیا تھا۔ تب بھی پوری اپوزیشن اس کے خلاف تھی۔ اور ایک طوفان برپا تھا ۔ لیکن آج یہ میٹرو کا میابی سے چل رہی ہے۔ اور اس حوالے سے شور بھی تھم چکا ہے۔


اس کے بعد جب راولپنڈی اور اسلام آباد میں میٹرو بنانی شروع کی گئی تو اس پر بھی ایک طوفان برپا کیا گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے درمیان یہ میٹرو دنوں شہر تباہ کر دے گی۔ یہ ایک نا کام منصوبہ ہو گا۔ شہری اس کو مسترد کردیں گے۔ لیکن یہ منصوبہ بھی آج کامیابی سے چل رہا ہے۔ اور اس حوالہ سے شور بھی تھم چکا ہے۔بلکہ اب تو ملتان میں بھی میٹرو بن رہی ہے۔ اور آخری مراحل میں ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ملتان کی میٹرو پر اب اتنا شور نہیں ہے جتنا لاہور اور اسلام آباد کی میٹرو پر تھا۔ یہ بات سمجھ سے با لاتر ہے کہ کیا ملتان کی میٹرو لاہور اسلام آباد سے مختلف ہے۔ یا اب اپوزیشن نے ذہنی طور پر میٹروز کو قبول کر لیا ہے۔


اب ٹرین کی باری ہے۔ اور سیاسی طوفان میٹرو سے ٹرین تک پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید اور صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے درمیان لاہور کی اورنج ٹرین منصوبہ پر شدید نوک جھونک رہی۔ رانا ثناء اللہ نے حکومت کی طرف سے اورنج ٹرین پربحث کا آغاز کیا جبکہ اپوزیشن کی طرف سے میاں محمود الرشید نے اورنج ٹرین کے خلاف بحث کا آغاز کیا۔ دونوں موقف سن کر ایک آدمی آسانی سے کنفیوژہو سکتا ہے۔


رانا ثناء اللہ نے اورنج ٹرین کے حق میں خوب دلائل دیے کہ اس سے روزانہ اڑھائی لاکھ لوگ سفر کریں گے۔ اس کے لئے سرپلس فنڈز استعمال کئے جا رہے ہیں ۔ جبکہ باقی ترقیاتی سکیموں پر کام جاری ہے۔ صاف پانی کی سکیم پر بھی کام جاری ہے۔جنوبی پنجاب میں بھی ترقیاتی کام جاری ہیں۔ ملتان میں میٹرو بن رہی ہے۔ لوگوں کو باقاعدہ معاوضہ ادا کیا جا رہا ہے۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہو رہی۔ لاہور صرف اہل لاہور کا شہر نہیں بلکہ صوبائی دارلحکومت ہونے کی وجہ پورے پنجاب سے لوگ یہاں آتے ہیں۔ اس لئے پورے پنجاب کے لوگ بھی اس سے استفادہ کریں گے۔ چین نے اس کے لئے تعاون کیا ہے۔ یہ بڑھتے ہوئے لاہور شہر کے ٹریفک اور دیگر مسائل پر قابو پانے میں مدد دے گی۔ انہوں نے منصوبہ کی شفافیت کاایوان کو مکمل یقین دلا یا۔ اور دعویٰ کیا کہ تمام ٹھیکے اصول و قواعد و ضوابط کو سامنے رکھ کر د یے گئے ہیں۔ اور ضابطہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی بلکہ کمپنیوں کے درمیان مقابلہ کروا کر چھے ارب روپے کی بچت کی گئی ہے۔ جو حکومت کی شفافیت کا واضح ثبوت ہے۔


دوسری طرف میاں محمود الرشید کا موقف ہے کہ ایک طرف تو لاہور شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میو ہسپتال میں ایم آر آئی مشین خراب ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں دوائیوں اورسہولتوں کی شدید کمی ہے۔ وینٹی لیٹرز کی شدید کمی ہے۔ پنجاب کے اکثر شہروں میں پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔ اس ٹرین کے لئے لاہور سے دو ہزار سے زائد درخت کاٹے جا رہے ہیں۔ سکولوں میں سہولیات کی شدید کمی ہے۔اس ٹرین کی تعمیر کے لئے حکومت پنجاب نے صحت و تعلیم جیسے شعبوں کا قتل عام کیا ہے۔اس کے ساتھ مہنگا قرضہ لیا گیا جبکہ ایشین ڈویلپمنٹ بنک کا سستا قرضہ ٹھکرا دیا گیا۔ انہوں نے ایوان میں حکومت پنجاب کا ایک خط بھی لہرا یا ۔ جس میں 2009 میں میاں شہباز شریف کی حکومت نے ہی ایشین ڈویلپمنٹ بنک کا ایک سستا قرضہ یہ کہہ کر ٹھکرا دیا تھا کہ ماس ٹرانزٹ ان کی حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں ۔اس کے ساتھ یہ منصوبہ دنیا میں باقی بننے والے ٹرین منصوبوں کی نسبت مہنگا ہے۔ جو اس کی شفافیت کے تمام دعوؤں کی نفی کرنے کے لئے کافی ہے۔ یہ ماننا ہو گا کہ دونوں طرف کے موقف میں جان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ 2009میں میاں شہباز شریف کی حکومت کی ماس ٹرانزٹ ترجیح نہ ہو ۔


اور بعد میں انہیں احساس ہو کہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں ۔ اس لئے انسان ہر لمحہ سیکھتا ہے۔ اور میاں شہباز شریف تو نئی نئی زبانیں سیکھنے کا شوق رکھتے ہیں۔ آجکل وہ چینی زبان سیکھ رہے ہیں۔ اس لئے اگر انہوں نے ماس ٹرانزٹ کے حوالہ سے اپنی سوچ بدلی ہے تو یہ کوئی جرم نہیں قرار دیا جا سکتا ہے۔
اورنج ٹرین کے حوالہ سے اپوزیشن نے حکومت کو وقتی طور پر دفاعی حکمت عملی پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ گزشتہ روز اس پر پنجاب اسمبلی میں بحث کو اپوزیشن کی فتح ہی قرار دیا جا رہا تھا۔ اور ایک عمومی تاثر تھا کہ حکومت اس حوالہ سے بحث کے کوئی خاص موڈ میں نہیں تھی۔ ایوان میں وزراء کی اکثریت بھی غائب تھی۔ بیچارے رانا ثناء اللہ اکیلے ہی اپوزیشن کے نرغے میں تھے۔ اسی لئے وہ غصہ میں بھی آگئے۔ جس نے اپوزیشن کی فلم کو یک دم ہٹ کر دیا۔ ورنہ تو شائد اورنج ٹرین پر بحث اتنی بڑی خبر نہ تھی۔ لیکن رانا ثنا ء اللہ اور میاں محمود الرشید کے درمیان نوک جھونک نے اس کو مصا لحہ لگا دیا۔ یہ شاید رانا ثنا ء اللہ کی طرف سے غلطی تھی جس نے اپوزیشن کو فائدہ دیا۔ انہیں تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہئے تھا۔ بہر حال اگر وزیر اعلیٰ پنجاب خود پنجاب اسمبلی میں اورنج ٹرین کے دفاع کے لئے آئیں۔ تو زیادہ بہتر ہو گا۔ اس کی قیمت افادیت اور دیگر فوائد کا مقدمہ شاید میاں شہباز شریف ہی بہتر لڑ سکتے ہیں۔ ان کو اس بحث کو سمیٹنے کے لئے خود پنجاب اسمبلی میں آنا چاہئے اور تمام سوالات کے جواب دینے چاہئیں۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

مزید :

کالم -