یہ عقل کس کام آتی ہے؟

یہ عقل کس کام آتی ہے؟
 یہ عقل کس کام آتی ہے؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہمارے دماغ میں موجود سمجھی جانے والے عقل نامی شے ہمیں زندگی بھر پریشان کرنے کے سوا کس کام آتی ہے، بچپن میں والدین مار، مار کے کہتے ہیں بیٹا عقل کر، ا س سے مرادہوتی ہے کہ بچہ پڑھ لکھ جائے مگراپنے دل پر ہاتھ لکھ کر بتائیں کہ کیا عزت، دولت اور شہرت پڑھائی سے مشروط ہیں،میں نے جماعت میں اول ، دوئم اور سوئم آنے والوں کو برس ہا برس نوکری کی تلاش میں جوتیاں چٹخاتے اور سکول سے بھاگ جانے والے بیک بنچرز کو زندگی کی ساری موجیں اڑاتے دیکھا ہے۔ بچپن کی ہی بات کر لی جائے تو ایک ماں اپنے بیٹے کو پچیس برسوں کی محنت کے ساتھ عقل مند بناتی ہے اور ایک دوسری عورت محض پچیس سیکنڈوں میں اسے اپنا پاگل بنالیتی ہے، ہاں ، ہو سکتا ہے کہ کچھ معاملات میں عورتیں، مردوں کو احمق بنانے میں پچیس منٹ لگا دیتی ہوں مگر اس سے زیادہ وقت بہرحال نہیں لگتا۔ بہت سارے مرد بیوی کو چننے میں بہت زیادہ عقل مند بننے ، بہت زیادہ سوچ و بچار کرنے ، شکل عقل کردار اخلاق اور نجانے کیا کیا جانچنے، ماپنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اگر وہ یہ کوشش نہ بھی کریں تو نتیجہ کوئی خاص مختلف نہیں نکلے گا کہ بیوی تو بیوی ہوتی ہے، چاہے جیسی بھی ہو۔


عقل دو جمع دو کو چار بتاتی ہے، ہمیں بڑے بڑے خواب دیکھنے سے روکتی ہے۔ آپ کو اگراس کا یقین نہ ہو تو اپنے بڑے بڑے خواب کسی سیانے سے شئیر کر کے دیکھیں، وہ سنتے ہی پوچھے گا پاگل ہو گیا ہے کیا ؟یعنی یہ عقل تو زندگی کو خوبصورت بنانے سے بھی روکتی ہے۔ سعداللہ شاہ نے کہا،’ خوابوں سی دل نواز حقیقت نہیں ہے کوئی، یہ بھی نہ ہو تو درد کا درمان بھی نہ ہو‘ ا س شعر سے پہلے انہوں نے شعر لکھا، ’ مجھ سا جہان میں کوئی نادان بھی نہ ہو، کر کے جو عشق کہتا ہے نقصان بھی نہ ہو‘ یعنی خواب اور عشق دونوں عقل کے دشمن ٹھہرے۔ سعد اللہ شاہ کی گواہی سے تسکین نہ ہوتو حکیم الامت کا نسخہ سن لیں، ’ بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق، ہے عقل محوِ تماشائے لب بام ابھی‘، یعنی عقل ڈراتی ہے، خوفزدہ رکھتی ہے اور یہی بات آپ کو مروا دیتی ہے، کسی سیانے نے کہا، جو ڈر گیا وہ مرگیا، کسی اور مقامی سیانے نے بہت سارے رکشوں کے پیچھے لکھوا دیا، ’ عقل نہیں تے موجاں ای موجاں‘ اور ’ جے عقل اے تے سوچاں ای سوچاں‘۔ یہ سوچیں ایک اچھے بھلے انسان کو بلڈ پریشر اور شوگر جیسے امراض کا شکار کر دیتی ہیں۔ احمقوں کی طرح بغیر سوچے سمجھے الٹے سیدھے فیصلے کریں ، دوستوں کو اچھے برے سرپرائز دیں، بے سروپا رنگین خواب دیکھیں، پورا منہ کھول کے زور زور سے قہقہے لگائیں اور دیکھیں صحت کتنی بہتر اور زندگی کتنی مزے دار ہوجاتی ہے۔


بعض لوگ کامیابی کے لئے عقل کو لازمی قرار دینے کی بے وقوفانہ بحث کرتے ہیں حالانکہ اگر عقل کا کامیابی سے کوئی تعلق ہوتا تو ہمارے بہت سارے سیاستدان مقبول نہ ہوتے اور بہت سارے حکمران نہ ہوتے۔ جس طرح ریاستی معاملات چلتے ہیں عقل تو بیوروکریٹ ہونے کے لئے بھی لازمی نہیں، سی ایس ایس پاس کرنے کے لئے سب سے زیادہ اہم انگریزی اور رٹا ہے، عقل نہیں۔ ویسے اگر آپ خود کو بہت زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں تو اپنے ارد گرددیکھئے، کیا آپ کوبہت ہی احمق اور فضول قسم کے لوگ آپ سے زیادہ کامیاب اور خوشحال زندگی بسر کرتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے، اگر آپ کو دکھائی دیتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یا تو آپ کی اپنے بارے انڈرسٹینڈنگ غلط ہے یا آپ کو ماننا پڑے گا کہ آپ ان کے مقابلے میں کم عقل اور احمق ہیں۔ کامیاب زندگی کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو ورثے میں زمین، جائیداد ملی ہو ورنہ ہر کوئی تو اتنا عقل مند نہیں ہوتا کہ بہت ہی امیر عورت سے شادی کرے او رپھر اسے قتل کر دے، یہاں بھی عقل سے زیادہ قسمت اہم ہے جو آپ کو دولت مند عورت کا شوہر بھی بنا دے اور پھانسی پر لٹکنے سے بھی بچا لے۔ کہتے ہیں کسی بہت ہی بدصورت راجے، مہاراجے کے دربار میں بہت سارے اہل عقل و فہم و دانش اس کے ملازم تھے، اسے جھک جھک کے سلام کرتے،اسے اقتدار اور خزانے کو بڑھانے کے لئے دن رات تدبیریں سجھاتے تھے ۔اسی دربار میں ایک روز ایک انتہائی حسین رقاصہ نے رقص پیش کیا، مہاراجہ بہت خوش ہوا ، رقاصہ نے جان کی امان پا کے پوچھا، حضور جب خدا کے دربار میں حسن اور علم بانٹا جار ہا تھا تو آپ کہاں تھے، مہاراجا زور سے ہنسا ،سعدی کی حکایات پڑھ کے بولا جس وقت تم لوگ اپنے خدا کے دربار میں حسن اور علم کی قطاروں میں لگے ہوئے تھے ، میں اس وقت نصیب والوں کی لائن میں لگا خوش قسمتی لے رہا تھا،یہی وجہ ہے کہ آج علم والے میرے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، حسن والے میرے سامنے ناچتے پھر رہے ہیں۔ راجوں، مہاراجوں کے دور کو چھوڑیں، میں نے آج بھی فلاسفروں اور پروفیسروں سے کہیں زیادہ ٹھیکیداروں کومال و زر کماتے اوردنیا داروں سے عزت پاتے دیکھا ہے۔


چلیں، بحث کو ایک دوسری طرح دیکھتے ہیں، آپ ایک مرد ہیں اور کیا آپ چاہیں کہ ایک عقل مند عورت آپ کی بیوی ہو۔ آپ کے تمام فیصلوں اور اقدامات کوجانچے ، پرکھے اور ہر دوسرے دن ثابت کرے کہ آپ ایک احمق آدمی ہیں۔ روزانہ بحث ہو رہی ہو، عدالت لگ رہی ہو، دلائل دئیے جا رہے ہوں۔ کسی ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ جو عورت سرنڈر کر جاتی ہے جو مرد کے دل پر راج کرنے لگتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے بہت سارے گھروں میں جوتم پیزار ہو رہی ہوتی ہے۔ عورتوں میں عقل کے استعمال بارے ایک واقعہ مشہور ہے، ایک عورت پیپر ویٹ کے ساتھ دیوار میں کیل ٹھونکنے کی کوشش کر رہی تھی، شوہر نے دیکھا تو بولا ، پیپرویٹ سے کیل کیسے ٹھونکا جائے گا، دماغ استعمال کرو اور پھر اسے اپنی بیوی کو ماتھے پر پٹی کروانے کے لئے ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا۔ ایک اور بیوی نے شوہر کو اس کے دفترفون کر کے بتایا کہ ونڈوز نہیں کھل رہیں، شوہر نے مشورہ دیا کہ اس پر گرم پانی اور تیل ڈالے، تھوڑی دیر بعد بیوی نے بتایا کہ اب توکمپیوٹر ہی آن نہیں ہو رہا۔ اسی طرح ایک بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا، آپ کو میری عقل مندی زیادہ اچھی لگتی ہے یا خوبصورتی، شوہر نے جواب دیا، مجھے تمہاری یہ مذاق کرنے کی عادت سب سے اچھی لگتی ہے۔ یہ تو عام عورتوں کے بارے لطیفے مشہور ہیں ورنہ آج کی عقل مند عورت مرد کو غیر ضروری سمجھتی ہے جس کے بغیر ہی وہ تمام کام چلا سکتی ہے وہ تو رب کی منشاء ہے کہ اس نے نسل انسانی کے تسلسل میں مرد کا کردار رکھ دیا ہے ورنہ مرد نام کی شے کب کی نیست و نابود ہوچکی ہوتی۔ ہو سکتا ہے کہ آپ اس پیراگراف کو خواتین کو احمق ثابت کرنے کی ایک شعوری کوشش سمجھ رہے ہوں مگر ایسا ہرگز نہیں، یہاں شوہروں کو احمق ثابت کرنے کے لئے اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ وہ شوہر ہیں۔کسی سیانے سے پوچھا گیا کہ عقل مند مرد کیسے شوہر ہوتے ہیں، جواب ملا، عقل مند مرد کبھی شوہر نہیں ہوتے۔


ہم سب بغیر لڑے رہنے کو آئیڈیل سمجھتے ہیں اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ عقل استعمال نہ کی جائے، عقل سوچنے پر مجبور کرتی ہے اور سوچ اختلافات پیدا کرتی ہے۔ ہم اپنی اپنی عقل استعمال کرتے ہوئے مذہب، سیاست، معاشرت اور نجانے کس کس بات پر لڑتے رہتے ہیں حالانکہ ہم اپنے نام سے قبیلے تک ہر بات اور نظرئیے سے مذہب تک بہت ساری باتوں کا چناو خود نہیں کرتے ،یہ سوال میں نے ایک بار پہلے بھی پوچھا تھا کہ کیا ان کی خاطر لڑنا عقل مندی ہے ۔ عقل پر بات بڑھانا بھی عقل مندی نہیں، تھوڑا سانیم دراز ہو جائیں، فیس بُک کھولیں اور میری شئیر کی ہوئی اس تصویر کولائیک کردیں جس میں لکھا ہوا ہے کہ جو کرتا ہے خدا کرتا ہے اور خدا جو کرتا ہے وہ بہتر کرتا ہے ۔۔۔اس کے بعد بھی آپ اپنی ناقص عقل کے استعمال پر اصرار جاری رکھیں گے؟
شہر یاراں

مزید :

کالم -