سب کا ۔۔۔۔۔۔ناز

سب کا ۔۔۔۔۔۔ناز

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

2016ء کے آغاز میں ہمارے پیارے دوست عنایت اللہ خان ہم سے جدا ہو گئے اور اب طلبہ، اساتذہ اور سب کے ناز استاد صحافت محترم پروفیسر احسن اختر ناز ہمیں رنجیدہ کر گئے۔دو احباب کی اموات کا افسوس جتنا کیا جائے کم ہے ۔ غم کی خبروں میں ہمارے محترم استاد پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد کامران کی تیسری دفعہ تعیناتی کی خوشخبری بھی مل گئی ہے۔ احسن اختر ناز کے کالم میں وائس چانسلر کا تذکرہ بڑا عجیب محسوس ہو گا، مگر ضروری ہے، کیونکہ پروفیسر اختر ناز کی زندگی اور موت کے رشتے کے درمیان واقعات کا تسلسل پنجاب یونیورسٹی سے جڑا ہوا ہے۔ پروفیسر اختر ناز کی رحلت کے بعد ان کے لواحقین کی یادیں اور امیدیں بھی پنجاب یونیورسٹی سے وابستہ نظر آ رہی ہیں۔


پروفیسر احسن اختر ناز ایک انسان تھے۔ انسان سے غلطی ہو جانا بڑی بات نہیں مگر ڈاکٹر احسن اختر ناز کا جنازہ ان کی سچائی اور کھرے پن کا واضح ریفرنڈم تھا میرے محسن دوست افتخار احمد چودھری جو 30سال سے زائد کا عرصہ پنجاب یونیورسٹی میں گزار چکے ہیں طلبہ، اساتذہ اور پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ کے حوالے سے بتا رہے تھے۔ بہت جنازے پڑھے ہیں۔ پروفیسر احسن اختر ناز جیسا جنازہ اس سے پہلے نہیں دیکھا۔ افراد کی تعداد گنی نہ جا سکے ۔تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سوگواران کا جم غفیر تھا۔ پروفیسر احسن اختر ناز جب 1993ء میں بطور استاد شعبہ صحافت میں تشریف لائے تو میں اسلامی جمعیت طلبہ گوجرانوالہ ڈویژن کا ناظم تھا۔ ایم اے کرنے کے بعد لاء کا طالب علم تھا۔ پروفیسر احسن اختر ناز سے تحریکی و قلبی لگاؤ تھا۔ صحافتی شعبہ میں پہلے بطور استاد اور پھر پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کی حیثیت سے ان سے رابطہ تھا۔ ناز صاحب اسلامی جمعیت طلبہ کے رسالے ہمقدم کے ایڈیٹر کی حیثیت سے اور ملنسار طبیعت کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کے دلوں کی دھڑکن تھے۔ اپنی خوبصورت تاریخی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے احسن اختر ناز نے شعبہ صحافت میں قدم جمانے کے ساتھ ہی پنجاب یونیورسٹی کے پبلک ریلیشن آفیسر کی حیثیت سے صحافی برادری کے دلوں پر بھی قبضہ جمانا شروع کیا توان کی شخصیت کے چھپے مزید پہلو سامنے آنا شروع ہو گئے۔ پھر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تو استاد صحافت محترم ڈاکٹر مغیث الدین جو شعبہ صحافت کے سربراہ تھے۔ انہوں نے پروفیسر احسن اختر ناز کو وائس چانسلر سے مانگ لیا اسسٹنٹ پروفیسر بنے۔ صحافی برادری سے تعلق پہلے مضبوط بنا چکے تھے۔ روزنامہ ’’پاکستان‘‘ میں اپنے کالم کے ذریعے جوہر دکھانا شروع کر دیئے۔ اپنے قلم کو کالموں تک محدود نہ رکھا۔ کتاب لکھنے کی طرف آئے تو لگاتار چھ کتب لکھ ڈالیں۔ ’’پاکستان میں ترقی پسند صحافت‘‘ صحافتی اخلاقیات صحافی برادری کے لئے انمول تحائف ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے خوبصورت رسالے ’’محور‘‘ کے ایڈیٹر بنے تو اس میں بھی جان ڈال دی جتنے شمارے نکالے یادگار ہیں۔پی ایچ ڈی کرنے کے بعد سلیکشن بورڈ ہوا تو پروفیسر چن لئے گئے یہی وہ وقت تھا جب ہمارے محترم پروفیسر احسن اختر ناز مرحوم کے بدخواہوں کی سازشوں کا آغاز ہوا۔
’’عزت‘‘جس پر ہمارے پروفیسر کو ناز تھا مخالفین نے جب پروفیسر احسن اختر ناز کو اپنے مفادات کے حصول کے لئے نشانہ بنانا شروع کیا اور بیہودہ قسم کے الزامات کا سہارا لے کر زندگی بھر کی کمائی عزت ناموس پر انگلی اٹھائی تو ہمارے دوست برداشت نہ کر سکے اور سارے دکھ دل کو لگا بیٹھے۔ خوش مزاج طبیعت کے باوجود خاموش رہنا شروع ہو گئے شوگر کا مرض لاحق ہوا تو بستر پر لگ گئے یہی مخالفین چاہتے تھے۔ شعبہ صحافت کی سربراہی چھوڑی اور دل کو لے کر بیٹھ گئے۔ پھر ہمارے کجھ دوستوں نے وائس چانسلر مجاہد کامران اور پروفیسر احسن اختر ناز کے درمیان غلط فہمیوں کے پہاڑ کھڑے کر دیئے۔ پروفیسر احسن اختر ناز کی جدائی تک محبت کرنے والے اور دکھ دینے والے اپنے اپنے مشن میں مصروف رہے۔ پروفیسر احسن اختر ناز سے محبت کرنے والوں نے پروفیسر مجاہد کامران اور ناز صاحب کے درمیان غلط فہمیاں دور کروانے کی کوششیں کیں۔ مجاہد کامران نے 2015ء میں پروفیسر احسن اختر ناز کی خواہش پر تحقیقاتی کمیٹی بنا دی جس کے ممبران کے نام تک پروفیسر احسن اختر نازنے خود دیئے۔ ان کی تحقیقات بھی طویل ہوتی چلی گئیں کہ پروفیسر احسن اختر ناز کا وقت پورا ہو گیا وہ دائمی زندگی کی طرف لوٹ گئے۔ پروفیسر احسن اختر ناز جو اپنے گاؤں کھٹیالہ ورکاں مریدکے ضلع شیخوپورہ سے ایسے لاہور منتقل ہوئے۔ اب لاہور کے بن کر لاہور میں مستقل آرام گاہ حاصل کر چکے ہیں۔


دو بیٹے ، دو بیٹیاں اور بیوہ ان کے پسماندگان میں شامل ہیں۔ ایک بیٹی اور ایک بیٹے کی شادی کی ذمہ داری پوری کر چکے ہیں۔ دوسری بیٹی کی منگنی ہو چکی ہے۔ اس سال پروفیسر احسن اختر ناز دوسری بیٹی کی ذمہ داری سے فارغ ہونے کا ارادہ رکھتے تھے۔ بڑے بیٹے ابوذر نے کیمیکل انجینئرنگ کے بعد ایم ایس سی کیمیکل میں داخلہ لے رکھا ہے ایم فل کررہے ہیں۔دوسرے بیٹے اپنے والد محترم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے ایم اے صحافت کرنے کے بعد دنیا نیوز میں بطور رپورٹر کام کررہے ہیں۔ پروفیسر احسن اختر ناز کے چاہنے والوں کے بے شمار کالم شائع ہو رہے ہیں۔ اللہ ان کی کوششوں کو قبول فرمائے۔ اصل تعلق اور محبت کا حق ادا تو دوست کی ابدی زندگی کے آغاز کے بعد شروع ہوتا ہے۔ میں سلام پیش کرتا ہوں ان کے جناب مجیب الرحمن شامی صاحب، جناب افتخار احمد چودھری صاحب، جناب پروفیسر حسن مبین صاحب، جناب راجہ منور صاحب، جناب سہیل جنجوعہ صاحب، جناب پروفیسر شاہد گل صاحب، جناب حمد سعید صاحب، رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی جناب لیاقت علی صاحب اور دوسرے ایڈیٹر، کالم نویس، حضرات، اور پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ اکرام کو جنہوں نے پروفیسر احسن اختر ناز کی آنکھیں بند ہوتے ہی ان کے جنازے پر سیاست کرنے والوں کی بھی مذمت کی اور پسماندگان کا درد محسوس کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہ پر لواحقین کے دکھوں کے مداوے اور رحمتوں کا مرہم رکھنے کا فیصلہ کیا اور پروفیسر احسن اختر ناز کی فیملی کو درپیش مسائل کو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی محترم مجاہد کامران تک پہنچایا ہے۔ میری معلومات کے مطابق محترم حسن مبین، محترم افتخار چودھری، محترم مجیب الرحمن شامی، محترم راجہ منور کی درخواست پر مجاہد کامران صاحب نے مرحوم کی بقیہ سروس مکمل ہونے تک پنجاب یونیورسٹی میں ان کی رہائش خالی نہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔دوران سروس فوت ہونے والوں کے لئے وزیراعظم کی طرف سے گرانٹ ڈبل کرنے کے وفاقی حکومت کے فیصلے پر پنجاب یونیورسٹی بھی اپنے ملازمین کے لئے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ میرا یقین ہے مجاہد کامران اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنے پروفیسر کو اس گرانٹ سے مستفید کرائیں گے۔ دوران ملازمت وفات پانے کی صورت میں بیٹے کو ملازمت دینے کا اختیار بھی وائس چانسلر کے پاس ہے۔ اس کا بھی انہوں نے وعدہ کیا ہے بیٹے کی ایم فل کی تکمیل کے ساتھ ملازمت بھی دیں گے۔ پنجاب یونیورسٹی کے پاس ملازمین کے بہبود فنڈ کی بڑی رقم موجود ہے۔ اس سے بھی پروفیسر اختر ناز کی فیملی کو جائز حصہ ملنا چاہیے۔ آخر میں وائس چانسلر مجاہد کامران کو مبارکباد دیتے ہوئے کچھ گزارشات کرنی ہیں۔


جنوری میں مجاہد کامران کا آخری امتحان کے عنوان سے میں نے کالم لکھا جس کی آپ کے چاہنے والوں اور مخالفین دونوں کی طرف سے مختلف انداز میں پذیرائی ہوئی میں نے کالم میں بھی ذکر کیا تھا میرے کالم کی میرے بعض احباب کی طرف سے شدید تنقید آئے گی جس کی مجھے پروا نہیں ہے میں نے مجاہد کامران کی صلاحیتوں اور ان کے کاموں کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کی آئندہ تعیناتی جو، اب ہو چکی ہے سے وابستہ عوامل کی نشاندہی کی ہے اور آئندہ بھی اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی اور غلط کاموں پر تنقید جاری رکھوں گا۔ افسوس 13اور 14فروری سے پنجاب یونیورسٹی ہوسٹل نمبر 4 میں طلبہ گروپوں کے درمیان شروع ہونے والے تصادم کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے۔


اس میں ہمارے میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ بھی شامل ہے اس ناخوشگوار واقعہ کو کوئی ویلنٹائن ڈے سے منسوب کر رہا ہے کوئی کرکٹ میں بلوچستان کی ٹیم کی فتح کا رنگ دے رہا ہے۔ وائس چانسلر صاحب کی طرف سے 100سے زائد پولیس اہلکاروں کے ساتھ سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں ایک غیر سیاسی طالب علم کو تھپڑ مار دیا ہے اور دو سو سے زائد طالب علموں کے خلاف پرچہ بھی درج کرا دیا ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے بعض شرپسند طلبہ اور بعض موقع پرست اساتذہ وائس چانسلر کی دوبارہ تعیناتی کے نوٹیفکیشن سے پہلے ہی ایشو کھڑا کر رہے ہیں۔ محترم وائس چانسلر صاحب سے درخواست ہے تیسری دفعہ تعیناتی آپ کا اصل امتحان شروع ہو رہا ہے۔ خدارا محتاط رہیں آپ کو جو ٹاسک ملا ہے ضرور پورا کریں مگر پنجاب یونیورسٹی کی خوبصورت روایات کو بھی بچائیں تشدد، مقدمات پولیس تشدد سے کسی کو فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔

مزید :

کالم -