پابندی نہ بھی ہوتی تو کیا جشن فتح میں کی جانے والی تقریر نشر ہو سکتی تھی؟

پابندی نہ بھی ہوتی تو کیا جشن فتح میں کی جانے والی تقریر نشر ہو سکتی تھی؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) نے الطاف حسین کی تقریروں کو نشر کرنے کی پابندی کے خلاف’’چارروزہ علامتی بھوک ہڑتال ‘‘ کا اعلان کیا ہے،الطاف حسین کی تقریر وں پر پابندی عدالت نے لگائی ہے اور وہی اسے ختم کرسکتی ہے دوروز قبل متحدہ نے الطاف حسین کو لندن میں برطانوی پاسپورٹ ملنے کی خوشی میں کراچی میں جو جشن منایا اس میں الطاف حسین نے بھی خطاب کیا، ان کے خطاب نشر کرنے پر عدالت کے حکم پر پابندی عائدہے لیکن یہ خطاب ایسا تھا کہ اگر پابندی نہ بھی ہوتی تو شاید ہی کوئی چینل اسے ریلے کرنے کا حوصلہ کرتا کیونکہ اس میں انہوں نے چارمنٹ تک جو گفتگو کی ، چینلوں کے لئے اسے ریلے کرنا خاصا مشکل ہوتا تاہم مادر پدر آزاد سوشل میڈیا پر یہ گفتگو موجود ہے اور سننے والے اور والیاں اسے پورے انہماک سے سن بھی رہے ہیں آپ بھی چاہیں تو وہیں سے سن لیں اور پھر اس کے بارے میں اپنے طورپر کوئی فیصلہ بھی کرلیں ایم کیوایم کی چارروزہ علامتی بھوک ہڑتال کا مقصد یہ ہے کہ میڈیا پر الطاف حسین کی تقریروں کی راہ ہموار کی جائے، یہ پابندی لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر عائد ہے اور ایم کیوایم کا موقف ہے کہ ہر تاریخ پیشی پر پہلے سے موجود حکمِ امتناع میں توسیع کردی جاتی ہے، ایک سوال یہ بھی ہے کہ عدالتی جنگ تو لڑی جارہی ہے اور ایم کیوایم کے وکلایہ کیس لڑ بھی رہے ہیں تو کیا اب عدالتی جنگ کے ساتھ ساتھ اسے سٹریٹ پاور کے ذریعے بھی لڑا جائے گا اور کیا اس کا مقصد عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونا ہے، ایم کیوایم نے یہ معاملہ عدالتوں کے باہر جس فورم پر بھی اٹھایا وہاں اسے اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا، ایم کیوایم کا خیال ہے کہ عدالتی کارروائی میں غیر معمولی تاخیر ہورہی ہے۔ الطاف حسین کے خلاف لندن میں منی لانڈرنگ کا کیس زیرسماعت تھا اس دوران پولیس نے ان کا پاسپورٹ بھی اپنے پاس رکھا ہوا تھا، جو اب انہیں دے دیا گیا ہے، جسے ایک بڑی کامیابی سمجھا جارہا ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اب منی لانڈرنگ کا کیس ختم کردیا گیا ہے اور الطاف حسین کو کلین چٹ دے دی گئی ہے ؟، شاید ابھی ایسا نہیں ہے لیکن وقتی طورپر یہ ریلیف ضرور ملا ہے کہ جس سے لگتا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس فوری طورپر کسی عدالت کے سپرد نہیں کیا جارہا ، اس کا یہ مفہوم بھی نکالا جاسکتا ہے کہ پولیس کے پاس تاحال منی لانڈرنگ کے سلسلے میں ایسے شواہد نہیں ہیں کہ اسے سماعت کے لئے عدالت کے سپرد کیا جاتا، برطانوی پولیس اس قسم کا کوئی بھی مقدمہ اس وقت تک عدالت میں سماعت کے لئے پیش نہیں کرتی جب تک اس کے پاس استغاثہ کی سپورٹ میں ٹھوس شواہد موجود نہ ہوں۔ یہ بہرحال ایک کامیابی ہے اور وقتی طورپر الطاف حسین کے سر سے ایک بڑا بوجھ اتر گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پولیس نے پاسپورٹ واپس کیا ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ اس پاسپورٹ کا کوئی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں یعنی اس پر سفرکرنے کا کوئی ارادہ رکھتے ہیں اور اگر کہیں جانا چاہتے ہیں تو کیا وہ پاکستان ہے ؟ الطاف حسین پر جب منی لانڈرنگ وغیرہ کا کوئی کیس نہیں تھا اور ان کی تقریریں براہ راست لندن سے بڑی باقاعدگی کے ساتھ نشر ہوتی تھیں تو دو چار بار انہوں نے پاکستان آنے کا ارادہ کیا، اور اس سلسلے میں کارکنوں سے رائے پوچھی تو انہوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہا کہ وہ پاکستان نہ آئیں کیونکہ یہاں ان کی زندگی محفوظ نہیں ہوگی، کارکنوں تک جب یہ خبر پہنچی تو انہوں نے رو رو کر اپیل کی کہ وہ پاکستان نہ آئیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب پاسپورٹ ان کے پاس تھا اور ان کے برطانیہ سے باہر جانے پر کوئی پابندی نہ تھی اب یہ تو یقینی نہیں کہ وہ پاکستان آرہے ہیں یا کہیں اور جارہے ہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ اگر وہ پاکستان آنے کا فیصلہ کرلیں تو ان کے راستے میں بظاہر کوئی پابندی نہیں لیکن اس کی راہ میں وہ بہت سے مقدمے ضرور رکاوٹ بن سکتے ہیں جن میں ان کے وارنٹ گرفتاری نکلے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے وہ دلیری کا مظاہرہ کریں اور ہرچہ باداباد کا نعرہ لگاتے ہوئے کراچی پہنچ جائیں تاہم اس پہلو کو پیش نظر ضرور رکھنا ہوگا۔
چند روز قبل ایم کیوایم کے کارکنوں نے برطانوی وزیراعظم کی رہائش کے باہر الطاف حسین کی تقریروں کے میڈیا بلیک آؤٹ کے خلاف احتجاج کے لئے ہڑتال کی تھی، غالباً انہیں کسی سیانے نے مشورہ دیا ہوگا کہ الطاف حسین کی تقریریں تو وہ پاکستانیوں کو سنوانا چاہتے ہیں اور پابندی بھی ان کے پاکستان میں خطاب نشر کرنے پر ہے، اس لئے اگر انہیں احتجاج کرنا ہے تو پاکستان میں کریں شاید اسی لئے اب انہوں نے علامتی بھوک ہڑتال کے پروگرام کا اعلان کردیا ہے ایم کیو ایم کا خیال ہے کہ وہ بھوک ہڑتال کے ذریعے الطاف حسین کی تقریروں پر پابندی کا مقدمہ عوام میں لے کر جارہی ہے، کیونکہ یہ پابندی بنیادی حقوق کے منافی ہے، بہت سے ایسے سیاسی رہنما ہیں جو الطاف حسین سے بھی سخت تقریریں کرتے ہیں لیکن ان کی تقریریں نشر کرنے پر کوئی پابندی نہیں، تقریر پر تو چھ ماہ سے پابندی ہے لیکن پابندی کے خلاف پہلے لندن میں احتجاج اور اب کراچی میں علامتی بھوک ہڑتال کا فیصلہ الطاف حسین کو ملنے والے ریلیف کے بعد کیا گیا ہے ورنہ اب تک رابطہ کمیٹی نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا تھا، یہ بھی ممکن ہے کہ یہ اقدام الطاف حسین کی ہدایت پر اٹھایا جارہا ہو، جن کا خیال ہے کہ رابطہ کمیٹی یہ مقدمہ نہ تو عدالتوں میں اچھی طرح لڑرہی ہے اور نہ عوام میں ۔کیا گزشتہ روز کی پریس ریلیز کا بھی اس احتجاج سے کوئی تعلق ہے جس میں عوام سے کہا گیا تھا کہ وہ پندرہ روز کی ضروریات کا ذخیرہ کرلیں ایک تجزیہ نگار کے بقول ایم کیوایم کی اس پریس ریلیز سے رابطہ کمیٹی کی زبردست فرسٹریشن ظاہر ہوتی ہے جسے اب کسی میدان میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی ۔
پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو فون کرکے ایم کیوایم کی اس پریس ریلیز کے بارے میں دریافت کیا جس میں کہا گیا تھا کہ عوام 15روز کے لئے ضروری اشیا کا ذخیرہ کریں تو سید قائم علی شاہ نے انہیں بتایا کہ عوام نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا اور کراچی میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔ تاہم پیپلزپارٹی نے ایم کیوایم کو مردم شماری کے بارے میں آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی ) کا دعوت نامہ پہنچایا۔ ایم کیو ایم اس کانفرنس میں شریک ہوگی لیکن کیا اس کی سیاسی تنہائی بھی ختم ہوگی یا نہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ تن تنہا سیاسی جنگ لڑکر ایم کیوایم کوئی کامیابی بھی حاصل کرسکے گی یا نہیں ؟

مزید :

تجزیہ -