سانحہ اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی کے شہدا ء کا خون رنگ لائے گا :افتخار چودھری

سانحہ اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی کے شہدا ء کا خون رنگ لائے گا :افتخار ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چارسدہ (بیورورپورٹ)سابق چیف جسٹس آف پاکستان اور جسٹس ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ افتخارمحمد چوہدری نے کہا ہے کہ سانحہ اے پی ایس اور باچا خان یونیورسٹی کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائیگا۔ طلباء طالبات اور تدریسی عملہ نے قوم کا نام سروخرو کرکے علم کی روشنی کو بجھنے نہیں دیا ۔پاکستان کا تابناک مستقبل نوجوانوں سے وابستہ ہے ۔پارلیمانی طرز حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔قائد اعظم کے تعلیمات کے مطابق ملک میں صدارتی طرز حکومت لا کر عوام کو بااختیار بنائیں گے ۔ وہ باچا خان یونیورسٹی میں شہداء کے حوالے سے منعقدہ تعزیتی ریفرنس اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کر رہے تھے ۔اس موقع پر خیبر پختونخواہ کے مختلف اضلاع کے آرگنائزر نور عالم خان ، عبد الرحمان خان ،لیاقت علی خان ،حماد الرحمان ، مشتاق رحیم ، فرہاد عثمان ، سہیل عزیز، ہدایت اللہ آفریدی،خانزادہ عبد المجید ، شیخ احسن الدین ،آفتاب ضیا ،لعل محمد، سید دستگیر شاہ ،عصمت اللہ ، نسیم خان اور دیگر بھی موجود تھے۔ سابق چیف جسٹس نے وائس چانسلرکے ہمراہ باچا خان یونیورسٹی کا تفصیلی دورہ کیا اوردہشت گردوں کے حملے کے حوالے سے معلومات حاصل کئے ۔ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کر تے ہوئے افتخار احمد چوہدری نے کہا کہ 20جنوری کو باچا خان یونیوسٹی کے طلباء، طالبات ، تدریسی اور انتظامی عملہ نے جس حوصلے سے اتنابڑا صدمہ برداشت کیا وہ تاریخ کا حصہ ہیں ۔اے پی ایس کے 152اور باچا خان یونیورسٹی کے 21شہداء نے امر ہو کر علم کی روشنی نہ بجھنے کا پیغام دیا ہے ۔ قائد اعظم نے علم کی جو روشنی جلائی تھی نوجوان نسل شہداء کے قربانیوں کو دیکھتے ہوئے اس کو بجھنے نہیں دینگے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی میں خاطر خواہ کمی ہو رہی ہے اسلئے دہشت گرداب آسان ٹارگٹ کے پیچھے لگے ہیں ۔خیبر پختونخواہ کے عوام نے پاکستان کے وجود کو قائم ودائم رکھنے کیلئے تاریخی قربانیاں دی ہے ۔میڈیا سے بات چیت کر تے ہوئے افتخار محمد چوہدری نے تحریک انصاف سے سیاسی اتحاد کے حوالے سے کہا کہ ہماری پارٹی کا پروگرام اور منشور دوسری پارٹیوں سے مختلف ہے ۔ عوام کے مطالبہ اور قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کو دیکھتے ہوئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس ملک میں پارلیمانی طرزحکومت ناکام ہوچکی ہے ۔ اسلئے پاکستان میں صدارتی طرز حکومت ضروری ہو چکا ہے ۔عمران خان کی ایک صوبے پر حکومت ہے قومی اسمبلی میں بھی اس کے ممبران ہے ۔عوام ہم پر اعتماد کرکے ووٹ دینگے تو دوسری پارٹیوں سے موازنہ کے پوزیشن میں ہونگے ۔افتخار چوہدری نے واضح کیا کہ ان کا تعلق جوڈیشری سے ہے۔ جوڈیشری میں مجھ سے اور میرے ساتھیوں سے جو کچھ ہو سکا ہم نے عوام کیلئے کیا ۔ اس حوالے سے ہماری پارٹی کا تحریک انصاف سے موازنہ کیا جا سکتاہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صدارتی طرز حکومت کے حوالے سے آئین نے کوئی قدغن نہیں لگایا۔ہم صدارتی نظام حکومت لائینگے اور عوام کو طاقتور بنا کر اختیارات ان میں تقیسم کرینگے ۔ پارلیمانی طرز حکومت میں اسمبلیوں میں بیٹھے لوگوں کے اپنے معاملات ہوتے ہیں صدارتی طرزحکومت میں عوام گھر بیٹھ کر اپنے فیصلے کرینگے ۔ملک میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قوم حکومت اور سیکورٹی اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور انشاء اللہ دہشت گردی کی لہر بہت جلد ختم ہو جائیگی ۔