7 سالہ بچی کو بازیاب کرکے 13مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری

7 سالہ بچی کو بازیاب کرکے 13مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس اسداللہ خان چمکنی نے کوہاٹ کے علاقہ بلی ٹنگ سے اغواء ہونے والی 7 سالہ بچی کو بازیاب کرکے 13مارچ کو عدالت میں پیش کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں اورپولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس ضمن میں پولیس کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اورکوتاہی کے مرتکب اہلکارکے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی فاضل جسٹس نے یہ احکامات گذشتہ روز مسماۃ بی بی نورا کی جانب سے دائرضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت کے دوران دئیے اس موقع پر درخواست گذارہ کے وکیل شبیرحسین گگیانی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم جلیل ساکن کوہاٹ پرالزام ہے کہ اس نے 15اگست2015ء کو تھانہ بلی ٹنگ کوہاٹ کی حدود سے مدعیہ بی بی نوراکی سات سالہ بیٹی گلنازکو اغواء کرکے بھاری تاوان کامطالبہ کیاتھا لیکن اتناعرصہ گذرنے کے باوجود مغویہ کو تاحال بازیاب نہیں کرایاجاسکاجبکہ ملزم کی گرفتاری کے بعد خصوصی عدالت نے ملزم کو اس بناء ضمانت دی ہے کہ اس سے مغویہ کی بازیابی نہیں ہوئی ہے لہذاملزم کی ضمانت منسوخ کی جائے اوربچی کی بازیابی کیلئے احکامات جاری کئے جائیں اس موقع پر ایس پی انویسٹی گیشن ثناء اللہ نے عدالت کوبتایا کہ انہوں نے مغویہ کاپتہ چلایاہے تاہم اسے علاقہ غیر میں رکھاگیاہے جس پرفاضل جسٹس نے برہمی کااظہار کیاکہ مغویہ جہاں کہیں بھی ہواسے بازیاب کرکے عدالت میں پیش کیاجائے اورفاضل بنچ نے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔