تھر پارکر میں فوڈ ایمرجنسی نافذ کی جائے، ڈاکٹر سہیل اختر

تھر پارکر میں فوڈ ایمرجنسی نافذ کی جائے، ڈاکٹر سہیل اختر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

کراچی( اسٹاف رپورٹر) پاکستان اسلامک میڈیا ایسو سی ایشن (پیما)نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تھر پارکر میں حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے فوڈ ایمرجنسی نافذ کی جائے ،تمام حاملہ خواتین کو رجسٹرڈ کرکے انھیں دوران حمل غذائی قلت سے محفوط رکھنے کا بندو بست کیا جائے ۔جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیما کے مرکزی صدر پروفیسر ڈاکٹر سہیل اختر ،ڈاکٹر سید احمر حامد،ڈاکٹر فیاض عالم ،ڈاکٹر اظہر چغتائی ودیگر نے کہا کہ تھر پارکر میں حاملہ خواتین کی اکثر یت غذائی قلت اور خون کی کمی میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے پیدا ہونیو الے نومولود بچے بھی پیدائشی طور پر غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں ، صرف مٹھی کے سول اسپتال میں نرسری کی سہولت موجود ہے لیکن وہاں کا عملہ تربیت یافتہ نہیں ہے، سرجری کی سہولت سمیت آئی سی یو بھی نہیں ہے جبکہ وینٹی لیٹر کی عدم دستیابی کے باعث بچوں کو حیدرآباد اور کراچی منتقل کیا جاتا ہے ، پیما کا 6رکنی نیم طبی عملہ گز شتہ سال فروری سے سول اسپتال مٹھی کی نرسری میں اپنی خدمات انجام دے رہا ہے اور اسپتال انتظامیہ کی درخواست پر پیما نے اس منصوبے کو دسمبر2016تک توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔پروفیسر ڈاکٹر سہیل اخترنے کہا کہ ہم تھر پارکر سمیت پورے سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں نرسری کے عملے کو تربیت دے سکتے ہیں ، ایک سال کے دوران سول اسپتال مٹھی کی نرسری میں 1124بچے داخل کیے گئے جن میں 685بچوں کا وزن ڈھائی کلو گرام سے کم تھا ،256بچے انتقال کرگئے جبکہ 121کو حیدر آباد یا کراچی منتقل کیا گیا ۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ غذائی قلت نہیں اور علاج کی مناسب سہولتیں میسر ہیں وہ زمینی حقائق سے واقف نہیں ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ تھر پارکر میں حاملہ خواتین کی اکثیر کا وزن معمول سے کم ہوتا ہے اور ان میں خون کی کمی بھی پائی جاتی ہے یہی وجہ ہے پیدا ہونے والے بچے غذائی قلت کا شکار ہوتے ہیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹر اظہر چغتائی کا کہنا تھا کہ پورے سندھ میں سرکاری اسپتالوں کی نرسریوں میں تربیت یافتہ عملے کی شدید کمی ہے ،اگر حکومت اور سماجی و پروفیشنل تنظیمیں مل کر کام کریں تو طبی و نیم طبی عملے کی بہتر تربیت ہوسکتی ہے اور سرکاری اسپتالوں میں تربیت یافتہ عملے کی میرٹ کی بنیاد پر تقرری کے ذریعے سہولتوں کو بہت بہتر بنایا جاسکتا ہے ، سندھ حکومت فوری طور پرتھر پارکر میں حاملہ خواتین اور بچوں کے لیے فوڈ ایمرجنسی نافذ کرے۔