’بہت بڑی تباہی آنے والی ہے، دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اگر۔۔۔‘ سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی، دنیا کو وارننگ دے دی

’بہت بڑی تباہی آنے والی ہے، دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اگر۔۔۔‘ ...
’بہت بڑی تباہی آنے والی ہے، دنیا کا نظام درہم برہم ہوجائے گا اگر۔۔۔‘ سائنسدانوں نے خطرے کی گھنٹی بجادی، دنیا کو وارننگ دے دی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) گلوبل وارمنگ دنیا کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے اور سائنسدان اس کے خطرات سے وقتاً فوقتاً ہمیں آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ اب امریکی ادارے ناسا کے سائنسدانوں نے دنیا کو خبردار کیا ہے کہ ”گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں بڑی تباہی آنے والی ہے اور اگر اس پر بروقت قابو نہ پایا تودنیا کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ “سائنسدان جے فیمیگلیٹی (Jay Famiglietti)کا کہنا ہے کہ دنیا کے خشک حصے خشک ترہوتے جا رہے ہیں، اس کے برعکس پانی والے علاقوں میں پانی کی مقدار میں اضافہ ہو رہا ہے، جو کہ دنیا کے لیے بہت خطرناک ہے لیکن دنیا کی طرف سے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ طور پر کوئی کاوش دیکھنے میں نہیں آ رہی۔ناسا کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے سیٹلائٹس کے ذریعے حاصل کیے گئے 2012ءسے 2014ءتک کے دنیا کے ڈیٹا کاکا تجزیہ کرکے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جو گزشتہ ہفتے جریدے ”سائنس“ میں شائع ہوئی ہے۔

مزید جانئے: دنیا کی قدیم ترین 8400سال پرانی قبر دریافت،کھودی گئی تو ایسا انکشاف ہوا کہ ماہرین بھی گھبرا گئے
رپورٹ میں سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ ”گلیشئرز کے پگھلنے سے سمندر کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔گزشتہ 10سالوں کے دوران ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں زمین کے تمام براعظموں نے تیزی سے پانی اپنے اندر جذب کرنا شروع کر رکھا ہے جس سے جھیلوں، ندی نالوں اورزیرزمین ذخائر میں 3.2ٹریلین ٹن پانی کا اضافی ذخیرہ جمع ہو چکا ہے۔اس سے سمندر کی سطح بلند ہونے کے عمل میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے لیکن دوسری طرف ان تحقیقات میں اس انکشاف نے سائنسدانوں کو پریشان کر دیا ہے کہ زمین کے خشک حصے پہلے سے زیادہ خشک اور تر حصے پہلے سے زیادہ تر ہوتے جا رہے ہیں۔“
جے فیمیگلیٹی نے مزید کہا کہ ”اس تحقیقاتی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ پانی کی عالمی عدم مساوات کا شکار ہو رہے ہیں، اس کے نتیجے میں کچھ عرصے تک دنیا کے بعض حصے پانی سے بالکل محروم ہو جائیں گے اور بعض میں پانی کی فراوانی ہو گی۔اس سے قبل ہم دنیا میں زیرزمین پانی کے استعمال پر ایک تحقیق کر چکے ہیں۔ ان دونوں رپورٹس کو مدنظر رکھیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جلد دنیا بڑی تباہی سے دوچار ہو گی۔ہماری اس پہلی تحقیق میں ثابت ہو چکا ہے کہ اس وقت دنیا میں 4ارب لوگ سال میں ایک مہینے کے لیے پانی کے قحط کا شکار رہتے ہیں جبکہ 50کروڑ لوگ ہمیشہ کے لیے پانی کے قحط میں مبتلا ہیں۔گلوبل وارمنگ کے باعث اس صورتحال کی سنگینی خطرناک حد تک بڑھ جائے گی۔“

مزید :

ڈیلی بائیٹس -