مسیحی جوڑوں میں طلاق کے طریقہ کار میں تبدیلی کی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے جواب طلب

مسیحی جوڑوں میں طلاق کے طریقہ کار میں تبدیلی کی درخواست پر وفاقی اور صوبائی ...
مسیحی جوڑوں میں طلاق کے طریقہ کار میں تبدیلی کی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومت سے جواب طلب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی جوڑے کی طلاق کے طریقہ کار میں تبدیلی کے لئے دائر درخواست پر وفاقی اور پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کر دیئے جبکہ بشپ الیگزینڈر جان ملک نے تحریری جواب عدالت میں پیش کردیا ہے ۔مسٹرجسٹس سید منصورعلی شاہ نے امین مسیح کی درخواست پر سماعت کی تو درخواست گزار کے وکیل شیزار ذکاءنے بتایا جنرل ضیاءالحق کے دور میں مسیحی طلاق ایکٹ 1869 میں تبدیلی کردی گئی جس کے بعد مسیحی جوڑے کو طلاق کے لئے بدچلنی کا الزام لگانا ضروری ہوگیا ہے، انہوں نے مزید موقف اختیار کیا کہ ایکٹ کی دفعہ 7کو بحال کیا جائے اور مسیحی جوڑے کی طلاق کے لیے وہی قانون اپنایا جائے جو برطانیہ میں رائج ہے، کارروائی کے دوران بشپ الیگزینڈر جان ملک بھی جواب جمع کراتے ہوئے ایکٹ کی دفعہ 7کو بحال کرنے کی حمایت کی، عدالت نے بشپ کے جواب کو ریکارڈ کا حصہ بناتے ہوئے وزارت اقلیتی امور، وزارت قانون، محکمہ اقلیتی امور پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 28مارچ تک جواب طلب کر لیا، عدالت نے قانون دان حنا جیلانی کو عدالتی معاون بھی مقرر کر دیا ہے۔

مزید :

لاہور -