جسٹس آف پیس تھانہ لیول

جسٹس آف پیس تھانہ لیول

  

مکرمی! معاشرے کی اخلاقی سوچ کو تعمیری بنا نے کے لئے ہم سب کا فرض ہے کہ اخبارات اور میڈیا چینلز پر بحث و مباحثہ کے ذریعے اس کی تشہر کی جائے۔ معاشرے کی سوچ کو تعمیری بنانے کے لئے میڈیا چینلز پر فضول، بے مقصد بحثوں کو ختم کر کے یہ کام سر انجام دیا جاسکتا ہے اخلاقی اور تعمیری سوچ کے پروگراموں کو عوام الناس کے ذہن میں نقش کرنے کے لئے پبلک پاور شیئر پروگرامز کو تقویت دینی چاہئے۔ جیسا کہ ’’جسٹس آف پیس تھانہ لیول‘‘ کوبلدیاتی سسٹم میں شامل کرکے عوامی نمائندوں کے ذریعے نچلی سطح پر متعارف کروایا جاسکتا ہے۔

عوامی فلاح کے لئے بنائے گئے سرکاری اداروں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ خاص طور پر وہ سرکاری ادارے جو نچلی سطح پر عوام الناس کو سہولتیں فراہم کرنے کے لئے بنائے گئے تھے۔ وہ اپنے مقاصد میں مکمل طور پر ناکام ہوئے مثلا خاص طور پر سب ڈویژن لیول پر جتنے بھی سرکاری ادارے کام کررہے ہیں ان میں چھوٹی چھوٹی کرپشن کے ذریعے عوام کو براہ راست تنگ کررہے ہیں جس سے غریب ، شریف اور مجبورعوام سخت ذہنی کرب کا شکار ہیں۔ سرکاری اداروں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے سوچیں تو یقیناًآپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوگا کہ ’’آخر ایسا کیوں‘‘؟

ترقی یافتہ پاکستان میں کرپشن دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ اداروں میں ہائی لیول پر کرپشن کا ایک حصہ ہے اور دوسرا حصہ نچلی سطح پر سب ڈویژن لیول پر پبلک ڈیلنگ والے ادارے۔ جبکہ کرپشن کرنے والے بھی غریب ہیں اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اس دور میں غریب ہی غریب کا استحصال کر رہا ہے۔ نچلی سطح پر کرپشن کو روکا جاسکتا ہے جبکہ اونچی سطح پر کرپشن کو روکنا مشکل ہے۔ بے شک پاکستان کے قانون کے مطابق کرپشن روکنے کے لئے وفاقی سطح پر ایف آئی اے ، محتسب اعلیٰ، نیب وغیرہ، جبکہ صوبائی سطح پر انٹی کرپشن، سی آئی اے وغیرہ۔یہ ادارے بذاتِ خود اس برائی کا حصہ بن گئے ہیں سب ڈویژن لیول پر کرپشن کو روکنے کے لئے پبلک پاور شیئر پروگرامز کے ذریعے چھوٹی چھوٹی کرپشن کو آسانی سے روکا جاسکتا ہے۔

’’جسٹس آف پیس تھانہ لیول‘‘ پروگرام کے تحت صوبائی قانون کی شق نمبر 22 الف تا 25کو بلدیاتی سسٹم میں اختیارات کے ساتھ شامل کیا جائے جس کے تحت بلدیاتی عوامی نمائندے یعنی یو سی لیول پر عوام کی خدمت کرسکیں۔ (1) غریب عوام تھانے میں بغیر ڈر اور خوف کے اپنی شکایات جسٹس آف پیس تھانہ لیول کے پاس درج کرواسکیں گے۔ جس میں تصفیہ طلب مسائل مثلاً گھریلو ناچاقی محلہ کی سطح پر آپس کی ناچاقیاں، کرایہ داری کے معاملات اور ناجائز قبضہ و غیرہ کو باآسانی صلح صفائی کے ذریعے حل کروایا جاسکتا ہے۔ یہی چھوٹے چھوٹے مسائل بعد میں بڑے مسائل اور فتنوں کا سبب بنتے ہیں۔ (2) عوام کو انصاف ان کی دہلیز پر ملنے میں مدد ملے گی نیز معاشرتی تعمیری سوچ کو اجاگر کرنے میں بھی مدد ملے گی۔(3)عوام الناس کے چھوٹے چھوٹے مسائل پولیس کی رشوت ستانی کی وجہ سے بڑے بڑے مقدمات اور دعوؤں کا موجب بن جاتے ہیں ان سے نجات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ (4)پولیس کا بے جارشوت لے کر ایف آئی آر کا عمل رک جائے گا۔ (5)چھوٹی عدالتوں میں مقدمات کا بوجھ بہت حد تک کم ہو جائے گا۔ (6)ان سب فوائد کے ساتھ غریب عوام کو مزدوری کے لئے وقت بچ جائے گا، نیز دشمنی وغیرہ سے نجات مل جائے گی۔ (7)پولیس کو اپنے فرائض منصبی صحیح طور پر ادا کرنے مثلاًعلاقے میں امن و امان ، فیلڈ کی ڈیوٹیاں صحیح طریقے سے سر انجام دینے میں مدد ملے گی۔(چودھری بشیر احمد، سابق چیف کوآرڈنیٹر،مرکزی خدمت کونسل اسلام آباد،305ڈی ون قائد اعظم ٹاؤن لاہور)

مزید :

اداریہ -