نہ جانے کس کی نظر لگ گئی

نہ جانے کس کی نظر لگ گئی
 نہ جانے کس کی نظر لگ گئی

  

لاہور دھماکہ، کوئٹہ دھماکہ، پشاور دھماکہ اور سیہون شریف میں بھی دھماکہ۔ جی ہاں ملک بھر میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں نے گویا پاکستانی قوم کے دماغ سن کر دیئے ہیں، دل خون کے آنسو بہا رہا ہے، نہ جانے کس ظالم کی نظر لگی ہے گلشن کو۔ جب لاہور دھماکہ ہوا تو خیال تھا کہ شائد یہ دھماکہ ہڑتال کرنے والے ادویات ساز نمائندوں پر ہوا، لیکن عین اسی دن کوئٹہ سے بھی دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا، جسے ناکارہ بناتے ہوئے دو اہلکار شہید ہو گئے،اس کے بعد پشاور دھماکہ جو کہ جج صاحبان کی گاڑی میں ہوا، پھر اب سیہون شریف میں دھماکہ۔ سیہون شریف میں ہونے والے دھماکے کے بارے کہا جا رہا ہے کہ خودکش دھماکہ تھا،دھماکہ اس وقت ہواجب دھمال جاری تھی۔

لاہور دھماکے کے بعد واٹس ایپ گروپوں اور سوشل میڈیا پر خبریں آرہی ہیں کہ ملک بھر کے متعدد شہروں میں دشمنوں نے خودکش بمبار پہنچا دیئے ہیں جس کے باعث ملک بھر کے مختلف حصوں میں سیکیورٹی انتہائی الرٹ رہی، لیکن دوستو! جب بھی ملک میں امن قائم ہونے لگتا ہے، دہشت گرد کسی نہ کسی کونے سے برآمد ہو جاتے ہیں اور اپناخونی کھیل کھیل کر چلتے بنتے ہیں۔ جی ہاں دوستو! افسوس و دکھ تو یہ بھی ہے کہ دہشت گرد انتہائی سخت سیکیورٹی میں بھی اپنا کام کر گزرتے ہیں ، یہ دھماکے ہمارے اداروں کی ناکامی ظاہر کرتے ہیں، لیکن ادارے بے چارے بھی کیا کریں، اداروں نے تو دھماکے ہونے کی پیشگی اطلاع بڑوں تک پہنچائی، لیکن اطلاع پر عملدرآمد نہ ہو تو کوئی کیا کرے۔

بہر حال دوستو! لمحہ فکریہ ہے ہم سب کے لئے خاص کر حکومتوں کے لئے کہ ہم سب دہشت گردوں کے چنگل سے کیسے نکل سکیں گے۔ جی ہاں یہ وہی سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے دل و دماغ میں گردش کرتا رہتا ہے، لیکن تاحال کوئی بھی پاکستانی اس سوال کا جواب حاصل نہیں کر پایا، لیکن دِل کے بہلانے کو یہ نعرہ ضرور لگاتے ہیں کہ جلد ہی وہ دن آئے گا جب دہشت گردوں سے نجات ملے گی ،لیکن کب آئے گا وہ دن، اللہ ہی جانتا ہے لیکن امید یہ ہے کہ جلد وہ دن بھی آئے گا اور اسی آس و امید کے ساتھ ہم بھی اجازت چاہتے ہیں آپ سے کہ اللہ کرے ملک بھر سے دہشت گردوں کا جلد صفایا ہو سکے۔بہرحال اجازت تو چلتے چلتے اللہ نگہبان، رب راکھا۔

مزید :

کالم -