دہشت گردوں کے خلاف فل سکیل کارروائیاں

دہشت گردوں کے خلاف فل سکیل کارروائیاں

  

وزیراعظم نواز شریف نے دہشت گردوں کے خلاف فل سکیل کریک ڈاؤن شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ فوج اور سیکیورٹی ادارے دشمن کو نیست ونابود کر دیں، دہشت گرد اندرونِ مُلک ہوں یا بیرونِ مُلک اُنہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا جائے، سیہون شریف میں وزیراعظم کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان، وزیر خزانہ اسحاق ڈار، گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور دوسرے سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔ اِس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ امن و خوشحالی کی منزل پر ہر قوم کو ظلم و وحشت کا سامنا رہا ہے۔ ہم گزشتہ کئی برسوں سے اندرونی و بیرونی دشمنوں سے لڑ رہے ہیں، ہماری ذمے داری ہے کہ آنے والی نسلوں کو روشن مستقبل دیں یہ متحد رہ کر مُلک دشمن عناصر سے لڑنے کا وقت ہے۔یہ جنگ ہم اپنی اعلیٰ اقدار کے تحفظ کے لئے لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ ختم ہو گی اور اس میں ہماری فتح ہو گی۔ ہمیں متحد رکھنے والی مثبت اقدار ہمیشہ زندہ رہیں گی، وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے قیام کے وقت سے ہی اپنی شناخت کی جنگ لڑ رہا ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سیہون شریف دھماکے کے بعد کہا تھا کہ خون کے ایک ایک قطرے کا بدلہ لیا جائے گا۔ جمعہ کو سارا دِن مختلف شہروں اور پاک افغان سرحد کے ساتھ جو اقدام کئے گئے اُن سے یہ پوری طرح نظر آ گیا کہ آرمی چیف نے بالکل درست کہا تھا اور قولِ مرداں جان دارد کے مصداق اس پر عملدرآمد بھی شروع کر دیا گیا، افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد کے جن علاقوں میں دہشت گردوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں ان کیمپوں پر کارروائی کی گئی اور جماعت الاحرار کے تربیتی کمپاؤنڈ اور چار دوسرے کیمپ تباہ کر دیئے گئے یہ اقدامات مُلک بھر میں پے در پے خود کش حملوں اور دھماکوں کے بارے میں سرحد پار سے ملوث عناصر کے مصدقہ شواہد ملنے کے بعد کئے گئے اور خیبر اور مہمند ایجنسی کے علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے سرحد کے دوسری جانب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب فوج،رینجرز اور پولیس نے کراچی سمیت مُلک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف فل سکیل کریک ڈاؤن شروع کر کے سو سے زائد دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

وزیراعلیٰ شہباز شریف نے بتایا کہ اس نیٹ ورک کی نشاندہی ہو چکی جس نے شاہراہ قائداعظم پر پنجاب اسمبلی کے سامنے چوک میں دھماکہ کیا تھا، دھماکے سے خود کو اُڑانے والا بمبار افغان ہے اور اُس نے افغانستان کے کیمپوں میں ہی تربیت پائی۔ یہ لوگ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے میں مصروف تھے، سہولت کار کا تعلق بھی باجوڑ سے ہے۔ جو کئی سال سے لاہور میں رہ رہا تھا۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ شہدا کا خون ہم پر قرض ہے اس قرض کی پہلی قسط ہم نے چکا دی ہے۔انہوں نے عوام سے کہا کہ اگر اُن کی صفوں میں کوئی کالی بھیڑیں چھپی ہوئی ہیں تو اُن کی نشاندہی کریں۔

آپریشن ضربِ عضب کو شروع ہوئے اب ڈھائی سال ہو چکے ہیں تاہم ابھی تک اس کی تکمیل نہیں ہو سکی۔ اگرچہ وسیع قبائلی علاقوں سے دہشت گردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے اور بیشتر علاقے کلیئر بھی ہو چکے ہیں اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کے دوران ہی پشاور کے آرمی پبلک سکول، چار سدہ یونیورسٹی، ایئر فورس کیمپ بڈھ بیر، کوئٹہ میں وکلاء اور پولیس کے خلاف دہشت گردی اور اب لاہور، پشاور اور سیہون شریف کی درگاہ میں دہشت گردی کے واقعات ہو چکے ہیں اس کا واضح مطلب تو یہی ہے چونکہ دہشت گردوں کے لئے پاکستان کی سرزمین تنگ ہو گئی تھی اِس لئے انہوں نے افغان سرحد کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے تربیتی کیمپ بنا لئے اور مختلف وارداتوں میں افغانستان سے آنے والے شہریوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد مل چکے ہیں اسی لئے افغان حکومت سے76 دہشت گردوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا ہے جس کی فہرست افغان حکام کے حوالے کر دی گئی ہے۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل نکلسن سے ٹیلی فون پر بات بھی کی ہے، چونکہ امریکی افواج نائن الیون کے بعد سے مسلسل افغانستان میں موجود ہیں اِس لئے وہ ان کی سرگرمیوں سے بے خبر نہیں ہوں گے، اُنہیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا بھی علم ہو گا اِس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ دہشت گردوں کی حوالگی کے سلسلے میں اپنا کردار موثر طور پر ادا کریں، دہشت گردی کی یہ جنگ بنیادی طور پر امریکہ نے ہی شروع کی تھی اور پاکستان میں خود کش بمباروں کے ذریعے دہشت گردی افغانستان پر امریکی حملے کے بعد ہی شروع ہوئی تھی، اِس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سارا ملبہ افغانستان کے عدم استحکام کی وجہ سے پاکستان پر گر رہا ہے۔ افغانستان کے اندر جو دہشت گردی ہوتی ہے بدقسمتی سے افغان حکام اُس کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیتے ہیں، حالانکہ پاکستان تو خود دہشت گردی کی وجہ سے زخم زخم ہے، اِس لئے امریکی حکام کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔

دہشت گردی کی لاہور واردات کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ معاشرے کو بطور مجموعی بھی اپنا کردار سرگرمی سے ادا کرنا ہو گا، جو لوگ باہر سے آ کر لاہور کے محلوں میں رہائش رکھتے ہیں اور سالہا سال تک وہاں مقیم رہتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہوتا ہے تو یہ اس علاقے کے لوگوں کے لئے باعثِ ندامت ہونا چاہئے کہ وہ بند آنکھوں کے ساتھ ایک دہشت گرد کو اپنے درمیان زندگی گزارنے کا موقع دیتے رہے، دہشت گردی کی یہ جنگ اب ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ ہر شہری کو اِس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس کام کو سیکیورٹی اداروں کے سپرد کر کے اور خود لاتعلق ہو کر اس عفریت پر قابو نہیں پایا جا سکتا اگر اِس سلسلے میں معاشرے کے تمام افراد نے اپنا کردار ذمے داری سے ادا نہ کیا تو دہشت گرد اس کمزوری سے فائدہ اٹھا کر نہ جانے کب تک ہماری سرزمین کو لہو رنگ کرتے رہیں۔

مزید :

اداریہ -