تحریک دہشت گردوں کے خلاف چلائیں

تحریک دہشت گردوں کے خلاف چلائیں

  

پاکستان کے آئین میں قرارداد مقاصد کے علاوہ بھی کئی شقیں اسلامی ہیں اور بعض حلقوں(جو قلیل ہیں) کے تحفظات کے باوجود ابھی تک ان کو چھیڑا نہیں گیا۔اگرچہ بعض شقوں کے حوالے سے یہ تجویز کیا جاتا ہے کہ ان کو مزید بہتر بنایا جائے۔ اس سلسلے میں ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ایک ایسی شق کا اضافہ کیا جائے جس کے مطابق کسی کے خلاف الزام لگایا جائے اور وہ بالکل جھوٹ ثابت ہو تو الزام لگانے والے کو بھی متعلقہ قانون کی شق کے مطابق سزا دی جائے۔ یہ بات ہوتی رہتی ہے، ابھی تک تو کسی حکومت نے ایسی کسی شق کا اضافہ کرنے کی جسارت بھی نہیں کی۔ چہ جائیکہ کسی اسلامی شق کو ختم یا اس میں کوئی غیر متعلق ترمیم کی جائے۔ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔

اس سلسلے میں ایک مکتبہ فکر اور جمعیت العلمائے اسلام(ف) سے تعلق رکھنے والے متعدد علمائے کرام کا ایک بیان نظر سے گزرا جس میں انہوں نے آئین کی اسلامی شقوں کوختم کرنے کی کوشش کی مخالفت کی اور دھمکی دی ہے کہ اگر ایسا کیا گیا تو سخت مزاحمت ہو گی، ساتھ ہی یکم مارچ سے تحریک چلانے کی بھی بات کی گئی ہے۔اس پورے بیان میں یہ کہیں نہیں کہ کس شق کو کون تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ بیان عمومی طور پر جاری کر دیا گیا ہے، حالانکہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ کسی قسم کی کوئی تبدیلی زیر غور یا زیر تجویز نہیں، حالانکہ قانون بنیں تو ان کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، جہاں تک نصّ شرعی کا تعلق ہے تو متفقہ شقوں کے بارے میں تو کسی کو سوچنے کی بھی جرأت نہیں ہوتی، اِس لئے یہ مفروضہ ہی محسوس ہوتا ہے۔

یہ بیان اور تحریک چلانے کی بات اس وقت سامنے آئی جب مُلک میں دہشت گردوں نے پھر سے اودھم مچا دیا اور معصوم جانوں سے کھیل گئے ہیں ایسے میں تو تمام تر توجہ اس دہشت گردی کی طرف ہے، کسی کو ایسی باتوں کے بارے میں سوچنے کی فرصت نہیں۔ اس لئے یہ بیان بے وقت ہے اور اس سے عوام کئی مفہوم اور معنی اخذ کر رہے ہیں اور پھر بیان جاری کرنے والوں میں جمعیت العلمائے اسلام(ف) کے قائدین بھی شامل ہیں یہ جماعت حکومتی حلیف اور مولانا فضل الرحمن تو فاٹا کے مسئلے پر اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور حکومت نے اصلاحات کو ایجنڈے میں رکھنے کے بعد بھی کابینہ کے اجلاس میں غور نہیں کیا اور اسے ملتوی کر دیا۔ معروضی حالات میں یہ بیان غیرمناسب ہے کہ ان رہنمایانِ کرام کو خود ہی غور کرنا چاہئے، بہتر ہو گا کہ کنفیوژن بڑھانے کی بجائے دہشت گردی کے خاتمے میں بھرپور تعاون فرمائیں اور اگر تحریک چلانا ضروری ہے تو حالات کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف چلائی جائے۔

مزید :

اداریہ -