جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے
 جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

  

بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ سیاست پہ گفتگو کرتے ہوئے ذاتیات پہ نہیں اترنا چاہیئے ۔ سلجھے ہوئے لوگوں میں بیٹھ کر تو میرا اپنا موقف بھی یہی ہوتا ہے ، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ جو لطف سیاسی رہنماؤں کے قصے کہانیاں بیان کرنے میں ہے وہ نظریاتی بحثوں میں نہیں ۔ اس کا ایک سبب تو کسی کی ذاتی زندگی میں ’جھاتیاں‘ مارنے کی جبلی لذت ہے ۔ دوسرے جب زیر بحث شخصیت ’قومی ملکیت‘ خیال کی جا رہی ہو تو عوامی کارکردگی کے پیچھے اس کی ہر ذاتی حرکت ایک علامتی مفہوم کی حامل بھی دکھائی دینے لگتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یونانی المیہ ڈراموں سے لے کر گلستان سعدی کی ’در سیرت پادشاہان‘ تک جتنا ادب لکھا گیا ، اس میں توجہ کا مرکز قد آدم سے بڑے کردار ہی ٹھہرتے ہیں ، لیکن کہیں کہیں لگتا ہے کہ یہ تو عام زندگی کی کہانیاں ہیں جنہیں انسان کی کسی نفسیاتی ضرورت نے دیو مالا بنا دیا ۔ قیام پاکستان کے بعد پیدا ہونے والی پہلی نسل نے جب آنکھ کھولی تو اس وقت تک عالمی سیاست پہ انہی دیو مالائی کرداروں کا راج تھا ۔ برطانیہ کے ونسٹن چرچل ، امریکی صدر آئزن ہاور ، مصر کے جمال عبدالناصر اور ’گراں خواب چینی سنبھلنے لگے‘ عرف چئیرمین ماؤزے تنگ ، یہ سب کے سب اوسط انسان کی لمبائی چوڑائی سے بلند تر قد و قامت کے لوگ دکھائی دیتے تھے ۔ پاکستانی اکثریت کے دل و دماغ پہ قائد اعظم کی شخصیت کا سحر تھا جبکہ بھارتی عوام اپنے وزیر اعظم ’چاچا نہرو‘ کو غیر وابستہ ممالک کا لیڈر سمجھ رہے تھے ۔ کئی ذہنوں میں بیت المقدس میں مدفون محمد علی جوہر کے الفاظ گونجتے رہے کہ مجھے قبر کے لئے جگہ دو ، میں غلام ہندوستان میں واپس نہیں جاؤں گا ۔ یہاں تک کہ لوگوں نے مہاتما گاندھی کی بکری کے بارے میں کیلے اور سیب کھانے کی داستانیں مشہور کرکے اسے بھی ایک جادوئی کردار میں بدل دیا۔

کسی شخصیت کو بڑا بنانے میں اس کی اپنی صلاحیتوں کو کتنا دخل ہے اور حالات کی ترتیب کو کتنا ، یا یہ محض ہماری محرومیوں کے کھیل ہیں جن کے اندر سے عظمتوں کے ہیولے پھوٹا کرتے ہیں ؟ ابھی کچھ سمجھ میں نہیں آیا تھا کہ بساط اقتدار ان کرداروں سے سجنے لگی جنہیں ذوالفقار علی بھٹو نے اسیری کے دوران ’سیاسی مسخرے‘ کہا تھا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ مسخرے سرکاری دفتروں ، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں بھی جا گھسے ۔ کلاس روموں میں لائق پروفیسروں کی بجائے ’نیٹ‘ سے ’تاڑ تاڑ‘ کر ملٹی میڈیا کا کھیل کھیلنے والے انسٹرکٹر اور ٹمپریچر لینے کے بعد چھاتی اور کمر سے سٹیتھو سکوپ جوڑ کر لمبی ’آ آ۔۔۔ آآ‘ کرانے والوں کی جگہ وہ معالج جن کے نام کی تختی جوتوں کے بل بورڈ سے بڑی ہوتی ہے ۔ یوں ہیرالڈ میکملن کی کرسی پہ گورڈن براؤن یا جان کینیڈی کی جگہ باراک اوباما بیٹھ گئے تو کیا برا ہوا ۔

جن لوگوں نے برطانوی سیاستدانوں کو دیکھا ہے ، وہ جانتے ہیں کہ اپنی کابینہ کی واحد ’مرد‘ رکن مارگریٹ تھیچر کا سامنا کرنے اور ان کے نرم خو جانشین جان میجر سے بات کرنے میں کتنا فرق تھا ۔ مسز تھیچر مجھے ہمیشہ ایک ایسی سخت گیر استانی لگیں کہ ذرا آپ نے مرضی کے خلاف حرکت کی اور انہوں نے پوری جماعت کو رگید کے رکھ دیا۔1989 کے اوائل میں پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم کے طور پر لندن میں بے نظیر بھٹو کے ساتھ ملنے کا اتفاق ہوا تو میں ان کے طبقاتی پس منظر کی بنا پر قدرے ’نک چڑھے‘ رویہ کی توقع کر رہا تھا ۔ اس کے برعکس ، رٹز ہوٹل کی ایک نجی تقریب میں ، جہاں بی بی سی اردو کی طرف سے محمد غیور کے ساتھ میں بھی تھا ، دیگر مہمانوں کے چلے جانے کے بعد جب باتیں ہوئیں تو یہ سادہ دلی ہمیں حیران کر گئی کہ ہاں ، ہماری حکومت کو بس دو ڈھائی سال ہی ملیں گے ۔ اسی طرح کچھ وزرا کی طرف اٹھنے والی انگلیوں کے جواب میں محترمہ کا یہ جواب کہ غیور صاحب ، ان لوگوں نے بہت تکلیفیں اٹھائی ہیں ، کر لیں جو کرنا ہے!

یہ تھی ہماری پہلی خاتون وزیر اعظم کی سادہ لوحی ۔ بعد کے مرحلہ پر خود میری طرف سے ان کے حق میں ایک ایسی ہی نیم شعوری حرکت نے اچھا خاصا مسئلہ کھڑا کر دیا ۔ منظر ہے لاہور پریس کلب کا ، جہاں ثقلین امام منتخبہ صدر ہیں اور بے نظیر بھٹو دوسری بار محروم اقتدار ہونے پر ’میٹ دی پریس ‘ میں ہماری مہمان ہیں ۔ نجم سیٹھی کی ’چڑیا‘ کی طرح ثقلین امام کو کسی ہد ہدس نے یہ مشورہ دیا کہ پینل میں شاہد ملک کو بھی شامل کر لو ۔ اس پروگرام کی ابتدا میں پانچ سے دس منٹ تک بولنے کی روایت تھی ، جس کے بعد سوالات کا سلسلہ ہوتا ، لیکن ہماری مہمان نے جو یک طرفہ گفتگو کا آغاز کیا ہے تو خدا جھوٹ نہ بلوائے ، پورے پچاس منٹ ایک سانس میں کھینچ گئیں ۔ ’محترمہ ، دل اب بھی یہی چاہتا ہے کہ آپ بولتی جائیں اور ہم سنتے رہیں ، سوال جواب پھر کسی دن کرلیں گے‘ ۔

میرے اس جملہ پر لاہوری صحافیوں کے مجمع سے تحسین کا شور تو بلند ہوا ، مگر پریس کلب کے صدر نے ذرا دھیمے لہجہ میں یہ کہہ کر درجہ ء حرارت کو بڑھنے سے روک دیا کہ شاہد ملک منفرد حس مزاح کے مالک ہیں اور گورنمنٹ کالج میں میرے ٹیچر تھے ۔ سچ یہ ہے کہ میرے ’عہد استادی‘ میں ثقلین امام ایک شائستہ مزاج طالب علم کے طور پہ ضرور جانے گئے ، لیکن وہ میرے براہ راست شاگرد نہیں تھے ۔ رہ گئی حس مزاح والی بات تو عملی طور پہ اس کا مطلب یہ تھا کہ کھِسکا ہوا آدمی ہے ، جانے دیجئے ۔ سنتے ہی بے نظیر صاحبہ نے کہا کہ مسٹر بی بی سی ، یوں لگتا ہے کہ آپ میری پالیسیوں کو پسند نہیں کرتے ۔ اس پہ میرے اور ان کے درمیان دو معنی خیز جملوں کا تبادلہ ہوا جنہیں دہرانے سے اس لئے اجتناب کروں گا کہ اس بیڈمنٹن میں تیسرا جملہ پھینکنے کے لئے محترمہ اب اس دنیا میں نہیں ۔

بعض لوگ کہیں گے کہ کسی مہمان سے میرا یہ منہ پھٹ رویہ ہماری تمدنی روائت کے منافی اور ناقابل برداشت ہے ۔ میرے پاس اس کا کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ، سوائے اس کے کہ میری پیشہ ورانہ تربیت میں سچ بولنے کی ذمہ داری تمدنی روائت کی پاسداری سے زیادہ اہم ہے اور اگر دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو صحافی کا ووٹ سچ کے پلڑے میں ہونا چاہئیے ۔ پریس کلب میں تمدنی روائت کے تقاضے یوں پورے ہوئے کہ میں نے خوشدلی سے کہا ’ چلئے پہلا سوال میں ہی کر لوں اور وہ ہے جموں سے سرینگر تک ریلوے لائن بچھانے کے تازہ بھارتی منصوبے کے بارے میں ۔ ۔۔‘ تقریب ختم ہوتے ہی بے نظیر صاحبہ اٹھ کر میری طرف آئیں اور کہنے لگیں ’میں نے جلد بازی میں کچھ کہا جو مجھے نہیں کہنا چاہئیے تھا ‘ ۔ ’یہ ایک طویل تر عمل کا حصہ تھا‘ میں نے خوشگوار غیر جانبداری سے عرض کیا ۔

اسی خوشگوار غیر جانبداری سے جڑا ہوا ایک چھوٹا سا ڈرامہ اور ہے ، جس میں بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کا زمانہ ہے ۔ تیسری بار منتخب ہونے والے آج کے وزیر اعظم اور مَیں چوہدری شجاعت حسین کے گھر میں صوفے پہ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ مجھے ماڈل ٹاؤن کے مکان میں ایک پریس کانفرنس کے بعد میاں نواز شریف اور چوہدری شجاعت کے ہمراہ اس وقت کی متحدہ مسلم لیگ کے سکرٹری اطلاعات مشاہد حسین سید با اصرار ساتھ لے کر آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب اور مشاہد حسین کے آگے پیچھے ہو جانے کے بعد دیواروں نے جو مکالمہ سنا آپ بھی سن لیجئیے ۔ ’شاہد صاحب ، آپ ہمارا بہت خیال رکھتے ہیں‘ ۔ ’میاں صاحب ، میں جو دیکھتا ہوں کہہ دیتا ہوں‘ ۔ ’ نہیں ، چوٹی زیریں کے سفر جمہوریت میں آپ نے ہمارا بڑا خیال رکھا‘ ۔ ’سر آپ کو کبھی شکائت نہیں ہوگی کہ میں نے آپ کے ساتھ بے انصافی کی ہے ‘ ۔

اب اس مرحلے سے آگے ’تمدنی کام‘ کی قلمرو شروع ہو نے والی تھی ۔ چنانچہ اتنی ہی گفتگو ہوئی تھی کہ میں یکدم کھڑا ہو گیا کہ سٹوری فائل کرنی ہے اور میری کار ماڈل ٹاؤن میں کھڑی ہے ، ڈرائیور سے کہئے کہ مجھے ڈراپ کر آئے ۔ ’میں نے تو چائے کا کہہ دیا ہے ‘ ۔ ’چائے کی کوئی بات نہیں ، پھر کبھی پی لیں گے ‘ ۔ منٹوں میں ماڈل ٹاؤن اور وہاں سے گھر پہنچتے ہی بی بی سی اسلام آباد میں اپنے ساتھی کو فون کر کے ساری صورتحال سمجھائی کہ آج کی پریس کانفرنس اور اس سے پہلے تاجروں کی حکومت مخالف ہڑتال کی تفصیل مجھ سے لے لیں ، مگر آج لاہور کی خبر مَیں اپنی آواز میں نہیں دوں گا تاکہ کسی کو گمان نہ ہو کہ اس نے مجھ پہ کامیابی سے ہاتھ پھیرا تھا ۔ اس فون کال کے بعد میرے دل کی دھڑکن معمول کے مطابق ہو گئی تھی ۔ پھر حالات بدلتے چلے گئے اور مکتوب الیہ نے بھی پھر سے میرے سلام کا جواب دینا شروع کر دیا ۔

تب اور اب کے درمیان بیس برس کا فاصلہ ہے ۔ ادبی نقاد کہتے ہیں کہ شیکسپئیر کا کنگ لِئیر سلطنت چھن جانے ، دو بے وفا بیٹیوں کے ہاتھوں کرب سہنے اور اپنی پہچان کھو دینے کے عمل میں ایک زیادہ دانشمند انسان بن چکا تھا ۔ اسی لئے اس نے سچ بولنے والی بیٹی اور خود اپنے لئے ’خدا کے جاسوس‘ کی اصطلاح استعمال کی ہمارے یہاں بھی اشارے یہی تھے کہ وزیر اعظم سب کچھ بھلا کر ایک ایسا طرز عمل اختیار کریں گیا جس کی منزل اجتماعی مصالحت ہو ۔ فی الوقت سب سے سنگین مسئلہ ہماری سلامتی کا ہے ۔ بیرونی خطرات کے علاوہ مختلف لابیوں کی اغراض اور میڈیا کا بکاؤ مال سنگینی میں اضافہ کر رہے ہیں ، لیکن اگر یہ جنگ قومی وجود پر حملہ ہے تو پھر اِس سے نمٹنا صرف سیاسی قیادت اور سکیورٹی اداروں تک محدود کیوں ؟ کیا ہمیں مدافعت کا دائرہ طلبہ ، خواتین اور عام شہریوں تک نہیں پھیلا دینا چاہئیے ؟

مزید :

کالم -