فیصلے کیجئے، عوام کو تسلیاں نہ دیجئے

فیصلے کیجئے، عوام کو تسلیاں نہ دیجئے
 فیصلے کیجئے، عوام کو تسلیاں نہ دیجئے

  

دہشت گردی کے حالیہ واقعات سے قوم میں تشویش کی جو لہر دوڑی ہے، اُس کی شدت کو کم کرنے کے لئے سول و فوجی قیادت کی طرف سے عوام کو تسلی دینے کے لئے بار بار یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنے حوصلے بلند رکھیں، فوج اور متعلقہ ادارے پوری طرح چوکس ہیں اور قوم کو دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کو اپنی فوج، اپنی قیادت اور اپنے اداروں پر بھروسہ ہے، مگر جب پے در پے واقعات ہوں تو حوصلوں میں وقتی طور پر خلل ضرور آ جاتا ہے۔ ایک جانب تسلسل کے ساتھ لوگ دہشت گردی کی نذر ہو رہے ہیں اور دوسری جانب زبانی تسلیوں کی برسات جاری ہو تو مشکل ہی سے یقین آتا ہے۔ سانحہ سیہون شریف شہباز قلندر کے اگلے روز یہ خبریں سامنے آئیں کہ مُلک بھر میں آپریشن کر کے سو سے زائد دہشت گردوں کو مار دیا گیا ہے۔ اس میں حیرت کا سامان تو موجود ہے کہ اچانک اِن دہشت گردوں کی موجودگی کا علم کیونکر ہوا اور کیسے اُن تک فوری رسائی حاصل کر لی گئی۔ لوگ آئی ایس پی آر کے اُس پریس ریلیز پر بھی تبصرے کر رہے ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ اب کسی رعایت سے کام نہیں لیا جائے گا، لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا پہلے رعایت سے کام لیا جا رہا تھا؟ اگر ایسا تھا تو اس کی وجوہات کیا تھیں اور اب وہ وجوہات کیسے ختم ہو گئی ہیں۔

میری ساری زندگی یہی دیکھتے گزر گئی ہے کہ حکمران طبقے عوام سے قربانیاں مانگتے ہیں یا پھر انہیں حوصلے بلند رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں،جبکہ حقیقت اس کے برعکس رہی ہے۔ عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اپنے حوصلے بھی ہمیشہ بلند رکھے ہیں انہیں اِس ضمن میں کسی کے مشورے کی ضرورت کبھی نہیں رہی۔ اس کا اندازہ اِس بات سے کیجئے کہ شہباز قلندر کے مزار پر جو خود کش دھماکہ ہوا اُس میں85سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، مگر لوگوں کے حوصلے اور جذبے کی داد دیجئے کہ انہوں نے اگلے ہی روز مزار پر دھمال ڈالی اور حاضری بھی دی، تعداد بھی پہلے کی طرح سینکڑوں میں تھی۔ پچھلے30برس سے دہشت گردی کا شکار یہ قوم اب ایسے واقعات سے خوفزدہ نہیں ہوتی، بلکہ بہادری سے اُن کا مقابلہ کرتی ہے، مگر وہ یہ ضرور چاہتی ہے کہ جو لوگ اُن کے حکمران ہیں، یا جن پر اُن کی حفاظت کا فریضہ عائد ہے، وہ بھی کچھ کریں، صرف بیانات کی پھلجھڑیاں نہ چھوڑیں، اُنہیں بچہ سمجھ کر طفل تسلیاں نہ دیں۔ آخر کیا وجہ ہے، قوم اور قومی ادارے مل کر دہشت گردی کے عفریت پر قابو پاتے ہیں تو چند ہی دِنوں میں یہ جن پھر بوتل سے باہر آ جاتا ہے، جو فتوحات اِس ضمن میں حاصل کی جاتی ہیں، وہ زائل کیوں ہو جاتی ہیں؟ جنرل راحیل شریف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف کامیابی کا گراف اوپر جا رہا تھا، پھر اب یہ نیچے کیوں آ گیا ہے۔ یکدم دہشت گردی کے واقعات کا جو لاوا پھٹا ہے، اس کی آخر کوئی وجہ تو ہو گی، کوئی تو ایسی کمزوریاں ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر دہشت گرد پھر منظم ہوئے اور انہوں نے چاروں صوبوں کو ایک منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا تاکہ یہ تاثر قائم ہو سکے کہ پورا پاکستان اُن کی کارروائیوں کی زد میں ہے، وہ جب اور جہاں چاہیں، عوام کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

دہشت گردی کے مسلسل واقعات اور افغانستان کی سرزمین کو اس مقصد کے لئے استعمال کرنے کی مضبوط شہادتوں کے بعد پاک افغان سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ مسئلے کا وقتی حل تو ہو سکتا ہے مستقل نہیں، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کے اندر موجود اِس نیٹ ورک کو ختم کیا جائے،جو یہاں دہشت گردی کے لئے سہولت فرہم کرتا ہے مثلاً لاہور میں چیئرنگ کراس پر دھماکہ کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اور خودکش حملہ آور کے سہولت کار نے جو معلومات فراہم کی ہیں، ان سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ہمارے شہروں میں افغانستان سے آئے ہوئے لوگ بڑی مہارت کے ساتھ یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ گرفتار ہونے والا سہولت کار 2010ء سے لاہور میں موجود تھا۔ اس کے افغانستان میں رابطے تھے۔ وہ فون پر بات بھی کرتا تھا اور ہدایات بھی لیتا تھا، مگر ہمارے کسی ادارے کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ کیا ہمارا نظام اتنا بھی ترقی یافتہ نہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مواصلاتی رابطوں کا سلسلہ ہی مانیٹر کر سکے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں دہشت گردی کے سہولت کاروں کا براہِ راست افغانستان سے رابطہ رہتا ہے اور وہ وہیں سے سرمایہ اور ہدایات لیتے ہیں۔ کیا صرف سرحد ہی بند کر دینے سے اس رابطے کو منقطع کیا جا سکتا ہے یا دیگر ذرائع بھی اس مقصد کے لئے استعمال میں لائے جانے چاہئیں۔ گرفتار سہولت کار نے خود کش جیکٹ افغانستان سے پاکستان لانے کا انکشاف کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ اس مقصد کے لئے ٹرک والے کو دو لاکھ روپے معاوضہ دیا گیا۔ یہ بات بجائے خود اِس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ دہشت گردی کے عمل میں پیسہ پانی کی طرح بہایا جاتا ہے یہ کون فراہم کرتا ہے اس کا کھوج لگانا بھی ضروری ہے۔

یہ جملہ اب صرف جملے کی حد تک ہی نہیں رہنا چاہئے کہ پاکستان کی زمین دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر تنگ کر دی گئی ہے۔ آپریشن میں سو دو سو بندے مارنے سے کوئی اثر نہیں ہو گا۔ جب تک اصل کہانیاں سامنے نہیں آئیں گی۔ چند آلہ کاروں کو مار دینے سے نیٹ ورک تو ختم نہیں ہو سکتا۔ اصل کام یہ ہے کہ شہروں اور مضافات میں چھپے ہوئے ان با اثر خفیہ ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے جو کوئی بھی لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں انٹیلی جنس کو مضبوط بنانے اور عوام کو اس مقصد کے لئے اپنے ساتھ ملانے کی حکمتِ عملی ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔ جب عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ مل کر گلی محلے کی سطح تک ایک منظم آپریشن شروع کریں گے، تو واقعی دہشت گردوں کے لئے پاکستان کی سرزمین تنگ ہو جائے گی۔ عوام کے اندر حوصلہ بھی ہے اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے کا عزم بھی، مگر انہیں کبھی اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ کوئی ایسی حکمت عملی وضع نہیں کی گئی، جس کے تحت عوام دہشت گردی کے خلاف اپنا کردار ادا کر سکیں۔ انہیں صرف یہی خبر دی جاتی ہے کہ وہ اپنے حوصلے بلند رکھیں اور اپنے اداروں پر بھروسہ کریں۔ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس کا اصل جال تو عوام کے ذریعے پھیلایا جا سکتا ہے۔ اس وقت صورتِ حال سب کے سامنے ہے۔ عوام اور اداروں میں اس حوالے سے اشتراک عمل کا فقدان نظر آتا ہے۔ دونوں میں تقسیم اس نوعیت کی ہے کہ ایک طرف سہمے ہوئے عوام ہیں اور دوسری طرف حکمران اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں، اعتماد کے فقدان کے باعث لوگ اپنے اردگرد موجود دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور مشکوک افراد کی نشاندہی نہیں کرتے، انہیں یہ خوف ہوتا ہے کہ اگر ایسا کیا تو قانون ان کا ساتھ نہیں دے گا اور وہ دہشت گردوں کا نشانہ بن جائیں گے، جس دن عوام کو یقین آ گیا کہ ریاست پورے عزم کے ساتھ دہشت گردوں،انتہا پسندوں اور مذہب کے نام پر تقسیم کرنے والے عناصر کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہے، وہ اپنے اردگرد موجود ایسے عناصر کے لئے خود سب سے بڑا شکنجہ ثابت ہوں گے۔ ماضی کے تجربات کی باز گشت ابھی تک عوام کے ذہنوں میں اپنا اثر دکھائے ہوئے ہے۔ ہم نے خود ایسے عناصر کی سرپرستی کی جو آج ہمارے امن کو تہہ و بالا کئے ہوئے ہیں اب بھی قدم قدم پر مصلحتیں ہمارے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہیں۔ اگر مگر کی صورتِ حال آج بھی ہمارے ایوانوں میں موجود ہے، فوجی عدالتوں کا قیام ہو یا دہشت گردی کے خلاف جنگ، پوری قوت سے لڑنے کا فیصلہ، ہمیشہ فضا میں معلق ہی رہتا ہے۔

ایک بار پھر سو سے زائد پاکستانیوں نے اپنی جانیں دے کر ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے ہمیں پھر خوابِ غفلت سے جگایا ہے ہر سطح پر اس کا احساس پیدا ہوا ہے کہ یہ سب کچھ مزید برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب حکومت کو بھی اب یہ ضد چھوڑ دینی چاہئے کہ پنجاب میں رینجرز کی کوئی ضرورت نہیں۔ وزیراعلیٰ شہباز شریف پہلے کہہ رہے تھے کہ اگر پنجاب میں رینجرز آپریشن کی ضرورت پڑی تو اُسے بلایا جائے گا۔ اگر اب بھی پنجاب میں رینجرز آپریشن کی ضرورت نہیں تو پھر کب ہو گی؟ ایک بار تو یہ کام بھی ہو جانا چاہئے تاکہ اس بات کو غلط ثابت کیا جا سکے کہ پنجاب دہشت گردوں کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے، کیونکہ وہاں رینجرز کو آپریشن نہیں کرنے دیا جاتا۔ اعلیٰ مناصب پر بیٹھے ہوئے افراد عوام کی فکر نہ کریں، اُن کے حوصلے بلند ہیں، وہ ایک زندہ قوم کے افراد ہیں۔ اس دہشت گردی کی جنگ میں 50ہزار سے زائد جانیں دے چکے ہیں اصل کام مصلحتوں سے نکل کر فیصلے کرنے کا ہے۔ عوام ایسے ہر فیصلے کی تائید کریں گے جو مُلک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے کیا جائے گا۔اس لئے فیصلے کیجئے، عوام کو تسلیاں نہ دیجئے۔

مزید :

کالم -