اب ہوں گے کانٹے دار مقابلے

اب ہوں گے کانٹے دار مقابلے

  

پاکستان سپر لیگ کا دوسرا ایڈیشن عرب امارات میں جاری ہے ۔پاکستان سپر لیگ میں چوکوں، چھکوں کی برسات کا سلسلہ جاری ہے اور دنیا بھرکے کھلاڑی بھرپور ایکشن میں نظر آرہے ہیں جس سے شائقین پوری طرح سے لطف اندوز ہورہے ہیں سپر لیگ کے آغاز میں ہی ہونے والے میچ فکسنگ کے واقعہ نے اس لیگ کو داغدار ضرور کیا مگر اس کے باوجود شائقین کی اس لیگ میں دلچسپی کم نہیں ہوئی۔ پی سی ایل میں شریک پانچوں ٹیموں نے جس طرح سے اب تک کھیل پیش کیا ہے اور ایک دوسرے کے خلاف میچ جیتنے کی کوشش کی ہے اس میں سب سے زیادہ کامیابی کوئٹہ اور اسلام آباد کی ٹیموں کو حاصل ہوئی ہے جبکہ کراچی کی ٹیم نے اب تک ناقص ترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور اپنے ابتدائی تین میچوں میں اس نے کوئی بھی میچ اپنے نام نہیں کیا۔ لاہور قلندرز کی ٹیم نے کراچی کی ٹیم کو سنسنی خیز مقابلے کے بعدشکست دیکر مشکل میں ڈال دیا ہے اور اس کے اب مشکلات بڑھ گئیں ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی ٹیم اس ایونٹ میں کامیابی حاصل کرتی ہے اور شائقین کی نظریں اس حوالے سے اس تاک میں لگی ہوئیں ہیں۔ پاکستان سپر لیگ میں شریک بڑے بڑے کھلاڑی اب تک کوئی خاص کھیل پیش نہیں کرسکے جن میں کرس گیل ،کیون پیٹرسن جیسے بڑے کھلاڑی اب تک اپنی ٹیموں کی جانب سے جارحانہ کھیل پیش نہیں کرسکے اور شائقین کو انہوں نے اپنے کھیل سے مایوس کیاجو امیدیں انہوں نے لگارہی رکھی تھی وہ اس پر پورا نہیں اترے پہلے مرحلہ میں ایک ٹیم کو ایونٹ سے باہر ہونا ہے اور ان ٹیموں میں سب سے زیادہ خطرہ کراچی کنگز کی ٹیم کو ہے جو اس لیگ کی سب سے مہنگی ٹیم تصور کی جاتی ہے جس میں شامل کھلاڑی کسی سے کم نہیں ہیں۔ پاکستان سپر لیگ میں میچ فکسنگ میں ملوث شرجیل خان اور خالد لطیف کی بات کی جائے تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے جس طرح سے ان کھلاڑیوں کو رنگے ہاتھوں پکڑااو اس کے خلاف چارج شیٹ تیار کی اور اب ان کو کڑی سزائیں دینے کی تیاریاں ہیں قابل تعریف ہے کیونکہ اس طرح اب مستقبل میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آنے کی امید ہے اور ان کھلاڑیوں نے جس طرح سے ملک کو بدنام کیاہے وہ واقعی کڑی سزا کے مستحق ہیں شائقین کرکٹ کے دل توڑ کر انہوں نے ملک کی پوری دنیا میں رسوائی کروائی اور صرف پیسہ کے لئے جس طرح سے اپنے ایمان کو بیچ دیا اسے کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان سپرلیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے ملکی حالات کے باوجود اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ لیگ کا فائنل لاہور میں ہی ہوگا اور جس طرح سے ہمیں ڈرا نے و دھمکانے کی کوشش کی جارہی ہے ہم اپنے عزم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ملکی حالات خراب کرنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک میں کرکٹ کو ختم کردیا جائے گاور کوئی بھی غیر ملکی ٹیم پاکستان کا دورہ نہ کریں اب جب ہمیں موقع ملا تھا کہ ہم غیر ملکی کھلاڑیوں کو پاکستان میں لاکر کھلائے تو اس موقع پر ایسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں نجم سیٹھی نے واقعی جس طرح سے اس حوالے سے حوصلہ مند کام کیاہے اور اس سلسلے میں جس طرح سے کام کررہے اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے اور امید ہے کہ وہ اس حوالے سے ضرور کامیابی حاصل کریں گے اور شائقین کرکٹ بھی یہ ہی چاہتے ہیں کہ اس لیگ کا فائنل لاہور میں ہی کھیلا جائے گا اوراس وقت کی یہ بھی ضرورت ہے اور ہمیں اس حوالے سے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ جبکہ پاکستان سپرلیگ کے چیئرمین نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کے حوالے سے اطلاعات پہلے سے تھیں ’’شک‘‘کا فائدہ دیتے ہوئے کھلاڑیوں کو کھیلنے دیا گیا،اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کھلاڑی معافیاں مانگ رہے ہیں، ہمارے اینٹی کرپشن یونٹ کے بیشتر افراد آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر ہیں،شرجیل اور خالد لطیف کے فون کا ڈیٹا بھی جمع کرلیا اور ہمارے پاس بہت ثبوت ہیں ،جرم ثابت ہوئے بغیر کسی کو پکڑنا اچھی بات نہیں،22تاریخ کو ہم ایک نیا ڈرافٹ کریں گے اور کھلاڑیوں سے پوچھیں گے کہ لاہور میں کون کون کھیلنے کو تیار ہے اور کون تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو معلومات ہیں اور آئی سی سی کے پاس جو معلومات ہیں اس کا تبادلہ کیا جارہا ہے اور اسی کی بنیاد پر یہ کارروائی ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اینٹی کرپشن یونٹ کے بیشتر افراد آئی ایس آئی کے ریٹائرڈ انٹیلی جنس افسر ہیں جنھوں نے بڑی ذمہ داری سے کام کیا اور کچھ کھلاڑیوں کا بھی تعاون ہے جنھوں نے بتایا کہ کس طرح کی پیش کش ہوئی ہے۔شرجیل خان اور خالد لطیف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے جو کیا ہے وہ اس کو مانتے ہیں اور معافیاں بھی مانگ رہے ہیں، نجم سیٹھی نے کہا کہ اتنا بڑا شاک تھا کہ آپ تصور کریں کہ میرے تو پاؤں تلے زمین ہل گئی تھی، جب پہلے ہمیں ایک کھلاڑی نے آکر بتایا کہ اس قسم کی چیز ہورہی ہے اور ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ کس قسم کا ایکشن لینا ہے کہ ہمیں دوسری اطلاع ملی کہ یہ چیز پہلے ہی میچ میں ہونے جارہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمیں ٹھوس معلومات تھیں کہ یہ ہونے جارہا ہے، پھر یہ سوچنا تھا کہ اس کو روکا جائے یا ہونے دیا جائے تا کہ جرم ثابت ہو کیونکہ یہ اسپاٹ فکسنگ کا مسئلہ تھا، میچ فکسنگ کا نہیں، اور کسی کو سنے بغیر یا کسی کے جرم کئے بغیر کسی کو پکڑنا مناسب نہیں تھا تو پھر مشترکہ فیصلہ یہ ہوا کہ شک کا فائدہ دے دینا چاہیے۔نجم سیٹھی نے مزید بتایاکہ ہم نے کہا کہ انھیں جرم کرنے دیں اور پھر جب انھوں نے توقع کے مطابق وہ بات کی تو پھر ہم نے سوچا کہ اب انھیں بلایا جایا اور آگاہ کیا جائے کہ آپ کے اوپر یہ قانون لاگو ہوتا ہے اور یہ کہ ان کو معطل کیا جائے۔چیئرمین پی ایس ایل کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت سی معلومات ہیں، ان کے ٹیلی فون اور اس کا سارا ڈیٹا ہم نے دیکھا ہے، ہمارے پاس بہت سے ثبوت ہیں۔انھوں نے کہا کہ پاکستان میں کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے جلدی کی، لیکن جلدی نہیں کی میں آپ کو بتا نہیں سکتا کہ اگر ہم یہ نہ کرتے تو شاید یہ چیز بڑا خطرناک رخ اختیار کرتی اور جب ہم یہ ثبوت پیش کریں گے تو جو لوگ صرف پی سی بی، پی ایس ایل اور نجم سیٹھی پر تنقید کرنا جانتے ہیں، انھیں احساس ہوگا کہ ہم نے جو کچھ کیا، وہ قومی مفاد میں کیا ہے۔جبکہ دوسری جانبپاکستان کرکٹ بورڈ نے قومی ٹیم کی ناقص کارکردگی اور درپیش مسائل کے حل کیلئے طلب کی جانے والی گول میز کانفرنس منسوخ کر دی ہے۔کرکٹ بورڈ کی یہ کانفرنس چھ اور سات مارچ کو لاہور میں منعقد ہونا تھی جس میں کئی نامور سابق کرکٹرز کو مدعو کیا گیا تھا۔تاہم اب پی سی بی نے ایک بیان کے ذریعے اس کانفرنس کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس کی وجہ 'حالیہ پیش رفت' کو قرار دیا ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے منسوخی کا فیصلہ موجودہ صورتحال کی وجہ سے کیا گیا ہے کیونکہ بورڈ کی تمام توجہ فی الحال پی ایس ایل فائنل کے حوالے سے صورتحال سے نمٹنے اور فکسنگ سکینڈل پرمرکوز ہے۔ پی ایس ایل فائنل 5 مارچ کو ہونا ہے جبکہ اس کے اگلے ہی روز گول میز کانفرنس رکھنے پر سابق پلیئرز کی جانب سے پہلے ہی تحفظات کا اظہارکیا جا رہا تھا۔۔پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی سی بی شہریار خان کانفرنس کے بجائے اب کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ورکنگ گروپ کے ساتھ سابق کرکٹرز سے ملاقاتیں کریں گے اور ان سے کرکٹ کی بہتری کے حوالے سے تجاویز لیں گے۔پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور نظام میں بہتری کے لیے جہاں پی سی بی پاکستان سپر لیگ جیسا ایونٹ منعقد کر رہا ہے وہیں چیئرمین پی سی بی نے گول میز کانفرنس کا بھی فیصلہ کیا تھا۔لیکن اب کرکٹ بورڈ متحدہ عرب امارات میں جاری پاکستان سپر لیگ کے دوران اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں دو کرکٹرز خالد لطیف اور شرجیل خان کی معطل کر چکا ہے جب کہ اس حوالے سے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔اس حوالے سے تازہ ترین پیش رفت گزشتہ روز یعنی برطانیہ میں ہوئی جہاں لندن کی نیشنل کرائم ایجنسی نے نام ظاہر کیے بغیر 'بین الاقوامی سطح پر کرکٹ میچ کی فکسنگ کے حوالے سے' دو افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی۔پی سی بی کے ایک اہلکار نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ برطانیہ میں گرفتار ہونے والے دو افراد میں سے ایک کرکٹر ناصر جمشید ہیں۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -