ریجنل چےئرمینز اینڈ وائس پریذ یڈنٹ کانفرنس کا انعقاد

ریجنل چےئرمینز اینڈ وائس پریذ یڈنٹ کانفرنس کا انعقاد

  

لاہور (کامر س رپورٹر)فیڈریشن آف پاکستان چیمبر زآف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) میں’’ ریجنل چےئرمینز اینڈ وائس پریذ یڈنٹ کانفرنس 2017‘‘ منعقد ہوئی۔ جس میں ایف پی سی سی آئی پنجاب کے1972 سے لے کر 2017تک تمام ریجنل چےئرمینز اینڈ نائب صدور نے شرکت کی۔کانفرنس میں ملک کی انڈسٹری کو اور تمام ٹریڈ چیمبرز اورایسوسی ایشنز کو در پیش مسائل کو زیر بحث لایا گیا۔کانفرنس کے بعد ایف پی سی سی آئی ریجنل آفس لاہور میں سابق ریجنل چےئرمینز اور نائب صدور افتخار علی ملک،سہیل الطاف،اظہر سعید بٹ،میاں رحمان عزیز،خواجہ ضرار کلیم،اظہر مجید شیخ،میاں محمود احمد،حاجی اآفتاب برلاس،حمید اختر چڈھا،قمر زمان گل،محمد احمد اور ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر عامر عطا باجوہ،نائب صدر حاجی عطا الرحمن اورریجنل چےئرمین منظور الحق ملک نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ٹیکس ایجنسیوں کا انڈسٹر ی کے ملک کو گرفتار کرنا اور ان کے گھروں پر چھاپہ مارنا ایک نہایت غلط اقدام ہے۔انڈسٹری کی حفاطت کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ہم چاہتے ہیں کہ حکومت زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کرئے مگر آزادنہ انصاف ضروری ہے۔ہم نے کبھی نہیں کہاکہ ٹیکس ادا نہیں کرنا چاہتے۔حکومت کی ناقص پالیسوں کی وجہ ملک کی کئی انڈسٹری بند ہو چکی ہے۔حکومت کی طرف سے صوبے کے تمام ضلع کے ڈی سی اوز کو ہدایت کی جائے کہ وہ مقامی مسائل کا تعین کرے اور متعلقہ چیمبرز،ایسوسی ایشنزاور ایف پی سی سی آ ئی کو اعتماد میں لے کرنئی حکومتی پالیسیاں بنائے اور سٹیک ہولڈرز کوبھی اعتماد میں لیا جائے سی پیک منصوبے کو پبلک کیا جائے اور انڈسٹری کی ضرورت کے مطابق تعلیمی اصلاحات قائم کی جائیں ۔

ایچ ای سی اپنا مثبت کردار ادا کرے اور فارن کوالیفائیڈ لوگوں کے لئے شیئر کرے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ ایف بھی آر انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور باقی موجود تمام ہیڈز کو الگ الگ فرد اور کمپنی کے لئے آپریٹ کریں۔انکم ٹیکس ریٹرن جمع ہونے کے تیس دن کے اندر اندر ہر حکومتی محکمہ اس ریٹرن کو فائنل اور قبول کرے یا صرف ان کا اڈٹ (5215Audit ( کر یں ر یٹرن جمع کروانے والی کمپنی اور فرد کو حق ہونا چاہیے کہ وہ اس سے دستبردار اور اسے ٹھیک کروا سکے انڈسٹری کے خلاف اگر حکومت کو کوئی شکایات ہوں تو ایف پی سی سی آئی ، متعلقہ چیمبرز اور تنظیموں کو اعتماد میں لئے بغیر کوئی کاروائی نہ کی کریں۔ انہوں نے مزید کہاکہ بجلی کے فیڈرز اور لائن وائیز چوری کو مانیٹر کیا جائے اور فیڈرز اور لائنز کے صارفین کو چوری سے متعلق آگا ہ کیا جائے تمام ضلعی حکومتوں کہ ہدایت کی جائے کہ وہ تمام متعلقہ چیمبرز اور انتظامیہ کو ساتھ لے کر چلیں تا کہ مقامی شکایات اور مسائل کو حل کیا جا سکے ۔گڈ گورننس کے لئے حکومت چیمبرز اور انتظامیہ کے نمائندے کو اعتماد میں لیں۔کانفرنس کا مقصد ٹریڈ کے مسائل کو حل کرنا ہے۔ انڈسٹری اور ٹریڈ کے مسائل روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں کاروباری افراد تجار ت و صنعت کی طرف سے آنے سے گریزاں ہے جسکی وجہ سے آنے والے وقت میں مقامی صنعت بہت کم رہ جائے گی اداروں کے اندر ایس اوپی نہیں ہیں ایف بی آر کے اندر بلڈنگ کپیسٹی بھی نہیں ہے ایف بھی آر کے اہلکار بزنس کمیونٹی کو ہراساں کر کے حکومتی خزانے میں دس فیصد جمع کرواتے ہیں او ر نوے فیصد خود کھا جاتے ہیں اور ان کا احتساب نہیں ہوتا حکومتی ادارے ایف پی سی سی آئی کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے نہ کریں ،حکومتی اداروں میں افسروں کے ہونے والے احتساب کو پبلک کیا جائے ۔پریزیڈ نٹ کانفرنس میں موجود تمام لوگوں نے سابقہ وائس پریزیڈنٹ شیخ مقبول احمد کے لئے دعائے مغفرت کی اور ملکی سکیورٹی کے حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالیہ حادثات کی مزمت کی اور کہا کہ بڑھتے ہوئے سکیورٹی کے خدشات ملکی معاشی ترقی میں نکامی کی بڑی وجہ ہیں۔

مزید :

کامرس -