حامد میر کی پی ٹی وی کے پروگرام ’’کھوئے ہووں کی جستجو‘‘میں شرکت

حامد میر کی پی ٹی وی کے پروگرام ’’کھوئے ہووں کی جستجو‘‘میں شرکت
 حامد میر کی پی ٹی وی کے پروگرام ’’کھوئے ہووں کی جستجو‘‘میں شرکت

  

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان ٹیلی ویژن کامقبول ترین پروگرام" کھوئے ہووں کی جستجو"کامیابی سے جاری ہے۔ ناظرین خصوصاََادب اور کلچر میں دلچسپی رکھنے والے افراد میں یہ پروگرام بے حد مقبولیت اختیار کر چکاہے ۔اس ہفتہ پیش کئے جانے والے پروگرام ’’کھوئے ہووں کی جستجو‘‘میں معروف صحافی اور اینکرپرسن حامد میر نے بطور مہمان شرکت کی ۔حامد میر نے اپنی بچپن کی یادوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے عطا الحق قاسمی کا کالم ’’روزنِ دیوارسے ‘‘بڑی کم عمری میں پڑھنا شروع کر دیا تھا اور اب تک مسلسل پڑھ رہے ہیں ۔کیوں ؟ اس کی دلچسپ تفصیل بھی اس پروگرام میں شامل ہے ۔زمانہ ء طالب علمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پانچویں کلاس تک انہوں نے انگلش میڈیم سکول میں تعلیم حاصل کی مگر اس کے بعد والد صاحب(وارث میر) کے پر زور اصرار پر مجھے گورنمنٹ سینٹرل ماڈل سکول میں داخل کروا دیا گیا ۔اس دور میں یہاں بھی طلبہ ٹاٹوں پر ہی بیٹھتے تھے ۔عطا الحق قاسمی کے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اپنے والد وارث میر کی طرح ان کے آئیڈیل بھی علامہ اقبا لؒ اور قائدِ اعظم محمد علی جناح ہیں ۔حامد میر نے یاسر عرفات اور نیلسن منڈیلا سے کئے اپنے انٹرویوز کو اپنے صحافتی خوابوں کی تکمیل قرار دیا ۔انہوں نے اس پروگرام میں حبیب جالب کے ساتھ گزرے لمحات کا بھی تذکرہ کیا۔

پی ٹی وی کے چیئرمین اور اس پروگرام کے مستقل مہمان عطالحق قاسمی نے اس موقع پر بتایا کہ وارث میر کے صاحبزادے ہونے کی وجہ سے وہ حامد میر کے بچپن اور جوانی سے وقف اوران کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے بھی مداح ہیں ۔ وقفے وقفے سے خود ساختہ دانشور ابرار ندیم بھی پروگرام میں مزاح کا رنگ بھرتے رہے ۔پروگرام ’’ کھوئے ہووں کی جستجو‘‘کے پروڈیوسرعمر خان ہیں اور اسکی میزبان فائزہ بخاری ہیں ۔

مزید :

کلچر -