بوسنیا سربیا کے خلاف پھر عدالت میں جائے گا

بوسنیا سربیا کے خلاف پھر عدالت میں جائے گا

  

سرجیوو(این این آئی)بوسنیا کے ایک مسلمان رہنما ء باقر ایزت بیگووچ نے کہاہے کہ بوسنیا اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت میں اپیل کرے گا کہ وہ اپنے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے جس میں سربیا کو 1990 کی دہائی میں نسل کشی کے الزام سے بری قرار دیا گیا تھا۔ فیصلے پر نظرِ ثانی کی اپیل کرنے کے دس سال کی ڈینڈ لائن ختم ہونے سے قبل یہ قدم اٹھایا جائے گا۔ اس فیصلے پر اپیل کرنے کی ڈیڈلائن آئندہ 26 فروری کو ہے۔ادھرسربیا حکام نے کہاہے کہ اگر ایسا ہوا تو ایک نیا سیاسی بحران شروع ہو جائے گا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق باقر ایزت بیگووچ نے اعلان کیا کہ عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل بوسنیا کے قانونی نمائندے جمع کروائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہر کسی کو سچ جاننا ہے، ان کو بھی جو اس کی مخالفت کرتے ہیں۔

بین الاقوامی جج تجربہ کار اور غیر جانبدار، وہ ایک سچ رقم کریں گے۔تاہم بونیا کے سرب حکام کا کہناتھا کہ ایسا قدم اس وقت تک نہیں اٹھایا جا سکتا جب تک اس پر بوسنیا کی سہہ پارٹی صدارت میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو جاتا۔بوسنیا کی سہہ پارٹی صدارت میں ایک بوسنیائی مسلم، سرب، اور ایک کروئیٹ رکن ہوتا ہے۔بوسنیا کے سرب رہنما ملوراد دودک نے بھی ملک میں سرب رہنماؤں سے کہا کہ وہ کسی بھی اپیل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کریں۔ادھر سربیا کے کے وزیراعظم نے باقر ایزت بیگووچ کے اعلان کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے بری خبر قرار دیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -