جموں وکشمیر کو دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تسلط والا خطہ ہے میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق

جموں وکشمیر کو دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تسلط والا خطہ ہے میرواعظ ڈاکٹر مولوی ...

  

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس ع کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے جموں وکشمیر کو دنیا کا سب سے زیادہ فوجی تسلط والا خطہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہاں طاقت، تشدد اور فوجی تسلط کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کرلئے گئے ہیں اور نہتے شہریوں کے قتل عام کی فوج کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے ۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیرمین نے بھارت کے فوجی سربراہ کے حالیہ بیان کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بیان اس ذہنیت کا عکاس ہے جس کے تحت حکومت ہندوستان نے نہ صرف فوج کو کشمیر میں عام لوگوں کے قتل عام کاlicenseفراہم کیا ہے۔

بلکہ اس طرح کا بیان مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کے صریحا خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت یہاں صرف طاقت اور تشدد کی بولی بولنا جانتا ہے اور انہوں نے اپنے فوج کو مظلوم کشمیری عوام کو طاقت کے بل پر محکوم بنائے رکھنے کیلئے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔کالے قوانین کے بل پر یہاں فوج اور فورسز کو بے پناہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں جہاں کوئی باز پرس نہیں حتی کہ کسی معرکہ آرائی کے دوران احتجاجی سویلین افراد پر گولی چلانے کو بھی جائز ٹھہرایا گیاہے۔انہوں نے کہا کہ اگر طاقت اور فوجی دباؤ سے مسئلہ کشمیر کو حل ہونا ہوتا تو ء سے یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ بھارت طاقت کا بیجا استعمال کرکے یہاں کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو بندوق اٹھانے پر مجبور کررہا ہے ۔ پر امن سرگرمیوں پر قدغنیں عائد ہیں۔ تشدد، مار دھاڑ اور ظلم و جبر کا سلسلہ جاری ہے اور پر امن سیاسی سرگرمیوں پرپہرے بٹھائے گئے ہیں۔میرواعظ نے کہا کہ کشمیری عوام ء سے مال و جان اور عزت و آبرو کی قربانیاں پیش کرتے آرہے ہیں۔ ہم تشدد نہیں مسئلہ کا حل چاہتے ہیں جبکہ حکومت ہندوستان کشمیر میں فوج کو عام لوگوں کیخلاف دبانے کے لئے استعمال کررہی ہے ۔انہوں نے ہندوستان کی وزارت داخلہ کی جانب سے فوجی سربراہ کے بیان کو حق بجانب ٹھہرانے کو کشمیر میں فوج کی پیٹھ تھپتھپانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے فوج کو کشمیر میں نہ صرف قتل عام کی شہہ مل سکتی ہے بلکہ اس طرح عوام میں عدم تحفظ کا احساس بھی مزید بڑھ سکتا ہے،میرواعظ نے کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ سال سے عالمی برادری کو اپنے موقف سے آگاہ کررہے ہیں اور ہمارا مقصد جموں وکشمیر کے مسئلہ کا حل ہے ۔ ہمارے احساسات کو دبانے کیلئے گزشتہ دہائیوں سے عمومااور گزشتہ برسوں سے خصوصا کتنے خونین سانحات پیش آئے اور ان میں سب سے زیادہ المناک سانحہ21 مئی 1990 کا سانحہ حول تھا جس میں شہید ملت کے جلوس جنازہ پر اندھا دھند فائرنگ کرکے کے قریب افراد شہید کئے گئے سینکڑوں زخمی حتی کہ شہید ملت کے جسد خاکی پر بھی گولیاں برسائی گئیں اور آج سال گزرنے کے بعد سٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن(State Human Rights commission)کا یہ بیان کہ اس سانحہ کے حوالے سے پوری تحقیقات جھوٹی ہے اور اس سانحہ میں ملوث افراد کو پولیس نے بچانے کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں فوج اور حکومتی ادارے اس طرح کے خونین واقعات میں ملوث افراد کو تحفظ فراہم کررہے ہوں وہاں عدل و انصاف کی توقع رکھنا عبث اور فضول ہے اور یہ عالمی برادری کیلئے چشم کشا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج تک ان سانحات کے حوالے سے کتنے کمیشن بٹھائے گئے لیکن نہ کوئی تحقیقات ہوئی اور نہ کسی کو سزا ہوئی ۔ ہمارا اعتماد ان کمیشنوں سے اٹھ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی عدلیہ، فوج ، انتظامیہ یکساں طور کشمیریوں پرمظالم ڈھانے اور نا انصافیوں میں ملوث ہیں اور جس ملک میں اس قسم کی پالیسی رائج ہو وہاں عدل و انصاف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ میرواعظ نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر سیہون کی درگاہ شریف میں ہوئے بم دھماکے کو بدترین دہشت گردی کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے اس خونین سانحہ میں بڑی تعداد میں قیمتی جانوں کے زیاں پر شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔

مزید :

عالمی منظر -