اسدی فوجی قتل کرنے پر شامی شہری کو سویڈین میں عمر قید

اسدی فوجی قتل کرنے پر شامی شہری کو سویڈین میں عمر قید

  

سٹاک ہوم(این این آئی)سویڈن کی ایک عدالت نے شامی صدر بشارالاسد کے وفادار فوجیوں کے ایک گروپ کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارنے کے الزام میں شامی شہری کو عمر قید اور ملک بدری کی سزا کا حکم دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق 46 سالہ شامی ھیثم سخنہ پر الزام ہے کہ اس نے مئی 2012ء کو ادلب شہر میں گرفتار کیے گئے سات سرکاری فوجیوں کو گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔رپورٹ کے مطابق سخنہ کو پولیس نے مارچ 2016ء کو حراست میں لیا تھا۔ اس پر سنگین نوعیت کے جرائم اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عاید کیا گیا تھا۔سویڈش پراسیکیوٹر جنرل نے شامی اپوزیشن کے حامی جنگجو کو عمر قید کی سزا سنانے کے لیے کئی شواہد پیش کیے ہیں۔ ان میں ایسی ویڈیوز بھی شامل ہیں جن میں اسے فوجوین کو قتل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان ویڈیوز میں امریکی اخبارکی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ایک فوٹیج بھی شامل ہے یہ فوٹیج ستمبر 2013ء کو نشر کی گئی تھی جس میں اسے شامی اپوزیشن کے حامی سلیمان جنگجو گروپ کے دوسرے ارکان سمیت شامی فوجیوں کے ایک گروپ کو گولیاں مارتے دکھایا گیا تھا۔سویڈن کے سرکاری ریڈیو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم نے ویڈیوز فوٹیج میں اپنی موجودگی کا انکار نہیں کیا تاہم عدالت میں اس کے خلاف جاری کیس کی سماعت کے دوران ایک بار اس نے کہا تھا کہ اسدی فوجیوں کو شام کے قانون کے تحت عدالت کے حکم پر موت کیگھاٹ اتارا گیا تھا۔ قتل کیے گئے فوجی بھی معصوم شہریوں کے قتل اور خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی میں ملوث تھے۔تاہم اسٹاک ہوم کی پراسیکیوٹر کریسٹینا لینڈھوف کارلیسن کا کہنا تھا کہ جب شامی فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا اس وقت وہاں پر کوئی ایسی عدالت نہیں تھی کو ملزمان کے خلاف عاید الزامات کی منصفانہ انداز میں کیسز کی سماعت کرتی۔

شامی فوجیوں کو ان کیپکڑے جانے کے محض دو دن کے بعد موت کی نیند سلا دیا گیا تھا۔ انہوں نے استفسارکیا تھا کہ ایسی کون سی عدالت تھی جس نے صرف دو دن سے قبل ہی سات فوجیوں کو سزائے موت سنا دی تھی۔ملزم کے وکیل دفاع نے سویڈش ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل کو کبھی یہ پتا نہیں چل سکے گا کہ شام میں عینی شاہدین کی عدم موجودگی میں عدالتیں کیسے فیصلے کرتی ہیں؟

مزید :

عالمی منظر -