نشتر کالونی کی شناخت قبضے ،ڈکیتیاں اور چوریاں تھانوں میں شکایات کے انبار

نشتر کالونی کی شناخت قبضے ،ڈکیتیاں اور چوریاں تھانوں میں شکایات کے انبار

  

 لاہور ( لیاقت کھرل ) ماڈل ٹاون ڈویژن کاتھانہ نشترکالونی پراپرٹی کرائم میں ٹاپ کر گیاہے سادہ لوح شہریوں کے پلاٹوں پر قبضہ اور بو گس چیک سمیت را ہزنی اور نقب زنی جیسے سنگین واقعات بھی اس تھا نے کی شنا خت بن کر رہ گئے ہیں۔تھا نہ کا سروے کرنے پر سا ئلین کے ساتھ اہلکا روں نے بھی شکا یات کے انبار لگا دئیے ۔اس موقع پر شہر یوں احمد علی ،اسلم ،منیر احمد ،اسد خان ،با با نا صر علی ،حکیم سلامت علی ، محمد شہیر،امجد علی اور قاضی فاروق سمیت میاں اکبر علی نے بتایا کہ نشتر کالونی میں دو درجن سے زائد قبضہ گروپ اور جعل سازوں کے گروہ سرگرم ہیں ۔جن کو مقامی پولیس اور سیاسی لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہے ۔اس موقع پر حکیم سلامت علی نے بتا یا کہ اس کے پلاٹ پر قبضہ کر لیا گیا ہے دو ماہ سے تھانے کے چکر لگا رہا ہوں کبھی ایس پی اور کبھی ڈی ائی جی کے دفتر میں چکر لگا نے پڑتے ہیں۔اعلیٰ افسران سے آرڈرکروانے کے باوجود مقدمہ درج نہیں ہو رہا ہے اور کہیں بھی کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے۔ شہری اسلم اور سرور علی سمیت منیر احمد نے بتایا کہ پلاٹ خریدنے کے بہانے جھانسہ دیکر جعل سازوں نے چیک دیا ملزمان نے پلاٹ پر قبضہ بھی کر لیا اور جعلی چیک بھی دے دیا اب پولیس سے انصاف نہیں مل رہا ہے۔ اس موقع پر شہری عاشق حسین اور وحید عالم نے نقب زنی کی وارداتیں ہونے پر مقدمہ درج نہ ہونے پر شکایت سنائی ۔جبکہ تھانے کے اہلکاروں نے اپنا نام ظاہر کیے بغیر بتا یا کہ تھانہ کی عمارت کئی سالوں سے واسا کے پلاٹ میں قائم ہے ۔ چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔ بیشتر کمروں کی چھتیں ٹپکتی ہیں اور ریکارڈ تک ضائع ہو جاتا ہے اور بڑی مشکل سے ریکارڈ کی حفاظت کرتے ہیں، اہلکاروں نے بتایا کہ ایک کمرہ کو حوالات بنا رکر گزارہ کیا جا رہا ہے۔ افسران کو متعدد بار شکایت کرچکے ہیں اور تحر یری طور پر بھی بھجوا چکے ہیں کوئی سنتا نہیں ہے۔ آئے روز واسا والے عمارت خالی کرنے کا نوٹس بھجوا دیتے ہیں، اس موقع پر تھانے میں کھڑی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کے قیمتی پرزہ جات بھی غائب تھے جبکہ تھانے کا ریکارڈ بھی محفوظ نہ تھا اور تھانے کے سامنے کھڑی گاڑیاں اصل مالکان کے حوالے نہ کر نے پرکھٹارہ بن چکی تھیں۔اس موقع پر ایس ایچ او میاں امین نے بتایا کہ علاقہ میں جعل سازوں اور قبضہ گروپ کی شکایت زیادہ ہیں تاہم نقب زنی کی وارداتیں کسی حد تک کنٹرول میں ہیں۔ ایس ایچ او نے بتایا کے ہر ما ہ دس سے پندرہ اشتہاریوں کو پکڑ رہا ہوں۔اس کے باوجود اشتہاری ملزمان کی تعدادزیادہ ہے جبکہ ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتیں کنٹرول میں ہیں۔ جس میں ہر ماہ دو گینگ پکڑ رہے ہیں جس سے علاقہ میں کرائم کا گراف کم ہواہے اور اس قبضہ گروپ کے واقعات کنٹرول اور سٹریٹ کرا ئم میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ تھانے کی عمارت خستہ حال ہے اور واسا کی جگہ پر تھانہ قائم ہے تاھم تھانے کیلیے عمارت کی تلاش ہے۔

مزید :

علاقائی -