شوگر مل مالکان کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کا استحصال جاری ہے، میاں مقصود

شوگر مل مالکان کی جانب سے گنے کے کاشتکاروں کا استحصال جاری ہے، میاں مقصود

  

لاہور(وقائع نگار)امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصوداحمد نے کہاہے کہ حکومتی دعوؤں کے باوجود شوگر مل مالکان کی جانب سے گنے کے کاشت کاروں کا استحصال کاسلسلہ جاری ہے۔65فیصد کاشت کاروں نے حکومتی رویے، شوگرمل مالکان کی بے حسی اور پانی کی بروقت عدم دستیابی کی وجہ سے گنے کی کاشت کم کردی ہے جوکہ تشویش ناک اور شوگر بحران کوجنم دے سکتی ہے۔دنیاکے دیگر زرعی ممالک میں کاشت کاروں کو ان کی محنت کاصلہ بروقت اداکیاجاتا ہے مگر پاکستان میں مقررکردہ ریٹ پر عمل درآمد تودرکنار کئی کئی ماہ تک ادائیگیاں ہی نہیں کی جاتیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں کسانوں کے وفد سے کیا۔

گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ گنے کاریٹ 180روپے فی من مقررہے مگر مل مالکان کی جانب سے کہیں بھی پوری ادائیگی نہیں کی جاتی۔بڑے بڑے سرمایہ دار اور مل مالکان حکومتی اور اپوزیشن کی صفوں میں موجود ہیں۔آپس کی ملی بھگت کے باعث کسانوں کو اصل اخراجات کاریٹ بھی نہیں مل پارہا۔رہی سہی کسر مڈل مینوں نے پوری کردی ہے۔کسانوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اونے پونے نرخوں پر فصلیں خرید لی جاتی ہیں اور آگے مہنگے داموں فروخت کرکے اصل کمائی آڑھتیوں کے ہاتھ چلی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ زراعت پر حکمرانوں کی عدم توجہی افسوس ناک ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ کاشت کاروں کی مشکلات کافوری ازالہ کرتے ہوئے فصلوں کی حکومتی مقررکردہ نرخوں پر خریداری کویقینی بنایاجائے۔کسان پہلے ہی کھادوں کے نرخوں میں ہوشرباء اضافے ،مہنگے زرعی مداخل اور آڑھتیوں کے مظالم کاشکار ہیں۔وزیر اعلیٰ شہبازشریف نے شعبہ زراعت کے حوالے سے انقلابی اقدامات کے بڑے بلندوبانگ دعوے توکیے تھے مگر عملاً ان پر کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ حکمرانوں کی ساری توجہ سڑکیں بنانے پر مرکوز ہوکر رہ گئی ہے جبکہ زراعت ملکی معیشت میں70فیصد ریونیورکھتا ہے مگر بدقسمتی سے حکمرانوں کی ترجیحات میں یہ شعبہ شامل نہیں۔کسانوں کو درپیش مسائل ان کی دہلیز پر حل کیے جائیں ۔حکومت گنے کے کاشت کاروں کو بروقت ادائیگیوں کویقینی بناتے ہوئے گنے کے کسانوں کو ریلیف دے۔

مزید :

میٹروپولیٹن 4 -