ورنہ بہت دیر ہو جائے گی !

ورنہ بہت دیر ہو جائے گی !
 ورنہ بہت دیر ہو جائے گی !

  

دہشتگردی کی تازہ لہر نے جہاں ارباب اختیار اور قانون نافذ کرنیوالوں کو چکرا کر رکھ دیا ہے وہاں پر عوام کو بھی ایک عجیب و غریب خوف میں مبتلا کر دیا ہے۔ صبح سے شام تک سوشل میڈیا ، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر طرح طرح کے تبصرے جاری رہتے ہیں جن میں زہرناک قسم کی تنقید کے ساتھ ساتھ اس نازک ترین مرحلہ پر بھی غیر سنجیدگی کا عنصر غالب ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک صحافی نے آرمی چیف اور وزیر اعظم کے اس بیان کو کچھ اس انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا جس میں کہا گیا تھا کہ دشمن کو دہشتگردی کی اجازت نہیں دی جائیگی اس پر تبصرہ ملاحظہ فرمائیے ، موصوف لکھتے ہیں کہ خود کش بمبار سرحد سے آگے آنے کی اجازت نہ ملنے پر مایوس واپس لوٹ گیا پھر جس طرح گزشتہ 72 گھنٹوں سے میڈیا پر موجودہ آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اس طرح کی حرکات بھی صرف اور صرف پاکستان میں ہی ہو سکتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ راحیل شریف واپس آجاؤ، تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد اس مہم میں شامل ایک صحافی بھائی کو گزشتہ رات میں نے عرض کیا کہ قوم پہلے ہی کافی پریشان ہے اس موقع پر فورسز کے مورال کو بڑھانے اور قوم کو حوصلہ دینے کی بجائے صرف اور صرف تنقید کے تیر چلانا مناسب نہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ کوئی مرے کوئی جیئے ہم نے تو بس سوشل میڈیا پر ذرا شغل لگانا ہوتا ہے اتنا بے ہودہ اور غیر سنجیدہ جواب سننے کے بعد میں کئی گھنٹے تک سکتے کی کیفیت میں رہا۔ ایک اور صحافی دوست نے پوسٹ میں لکھا کہ جی ایچ کیو کو براہ راست افغان حکومت سے ڈیل نہیں کرنا چاہئے یہ حکومت ہی نہیں فوج کے وقار کے بھی منافی ہے۔ میرے دوست کی رائے ہے اس سے کئی دوستوں کو اتفاق اور کسی کو اختلاف بھی ہو سکتا ہے مگر اس حکومت کے بارے کیا کہا جائے ، ہماری حکومت نہ بھارت کے بارے کھل کر بات کر رہی ہے نہ افغانستان کی حکومت کو شٹ اپ کال دینے کیلئے تیار ہے۔ ان حالات میں آرمی نے جو کچھ کیا ہے وہ بھی نہ کرتی تو پھر قوم جو پہلے ہی دہشتگردی کی وجہ سے پریشان ہے اس کے مورال کی کیا حالت ہوتی۔ اصولی طور پر ان حالات میں وزارت خارجہ ، وزیر اعظم اور سیاسی قیادت کو لیڈ کرنا چاہئے تھا مگر پوری سیاسی قیادت نے سرحدوں کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر اور باہر کی لڑائی اور دیگر ملکوں کے ساتھ ساتھ ڈیلنگ کی ذمہ داری بھی پاک فوج کے سپرد کر دی ہے اور فوج نے بھی یہ ذمہ داری بخوشی یا باامر مجبوری قبول کر لی ہے لیکن مجموعی طور پر اس کے نتائج اچھے نہیں نکلیں گے۔ اصولی طور پر جو کام اہل سیاست کا ہے وہ اہل سیاست کو کرنا چاہئے اور جو کام فوج کا ہے وہ فوج کو کرنا چاہئے۔ یہاں ایک مرض شروع سے رہا ہے کہ جو جمہوریت پسند اقتدار میں آتا ہے وہ ڈکٹیٹر بننے کی خواہش رکھتا ہے اور کسی حد تک کوشش بھی کرتا ہے اور جو ڈکٹیٹر ہوتا ہے اس کو جمہوری بننے کا خاصا شوق ہوتا ہے اور ہمارے ہاں ہر ادارے کی حدود و قید واضح ہونے کے باوجود غیر واضح ہیں۔ ریاست اور ریاستی ادارے چونکہ درست طریقے سے کام نہیں کر رہے ان حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جس کے پاس جتنی طاقت ہوتی ہے وہ اتنی ہی جگہ لے لیتا ہے۔ بات ہو رہی تھی کہ کیا آرمی کو اپنی پچ سے باہر آ کر کھیلنا چاہئے ، سادہ سا جواب ہے کہ بالکل نہیں لیکن اگر جنہوں نے کھیلنا ہے وہ کھیلنے کی بجائے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں گے تو پھر کوئی تو کھیلے گا ، سیاستدانوں کو سپیس خالی نہیں چھوڑنی چاہئے خود اپنی وکٹ پر اچھے انداز میں کھیلنا چاہئے ورنہ فوج اگر سیاستدانوں کی وکٹ پر جا کر کھیلے گی تو اس سے فوج اور اہل سیاست دونوں کا نقصان ہو گا۔ بڑے لوگ سمجھ جائیں تو ملک اور قوم کے ساتھ ساتھ ان کا بھی بھلا ہوگا بصورت دیگر ان کی غلطیوں کی سزا ہمیشہ کی طرح ملک اور قوم نے ہی بھگتتی ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ایسے نازک حالات میں اگر سیاست دان خاموشی کا روزہ نہیں توڑ رہے تو دوسری طرف میڈیا کیا کر رہا ہے کہیں میڈیا آزادی کے نام پر قوم کو مزید کنفیوژ تو نہیں کر رہا کیا میڈیا دہشتگردی کی جنگ میں جو حصہ ڈال سکتا تھا اس نے صدق دل کے ساتھ ڈالا ہے ؟ کیا میڈیا نہ چاہتے ہوئے بھی کہیں دہشتگردوں کے مقاصد کو آگے تو نہیں بڑھا رہا کیونکہ دہشتگرد کا مطلب ہے دہشت پھیلانے والا اور ذرا سوچئے کہ دہشتگردوں کے ہتھیار خوف اور دہشت کو کئی گنا زیادہ کر کے آگے پھیلانے اور بڑھانے کیلئے آج کا میڈیا استعمال نہیں تو ہو رہا ؟ جس وقت میڈیا نے قوم کو ایک کرنے کیلئے کردار ادا کرنا تھا اس وقت کہیں میڈیا قوم کی تقسیم کا باعث تو نہیں بن رہا ؟ میڈیا نے اگر ان سوالوں کا جواب اپنے اندر سے تلاش نہ کیا تو مجھے ڈر ہے کہ کسی روز دہشتگردوں کی طرح میڈیا بھی کسی پولیس مقابلے میں اپنی آزادی اور جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھے۔ ہم سب کو اپنی اپنی اداؤں پر غور کرتے ہوئے خدا تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگنی ہوگی کیونکہ ہماری حالت بھی آج عراق کی صورتحال سے مختلف نہیں جب ہلاکو خاں عراق پر حملے کی تیاری کر رہا تھا تو وہاں کوا حلال ہے یا حرام اور مسواک کی لمبائی کتنی ہونی چاہئے اس جیسے مسائل پر بحث جاری تھی۔ آج ذرا سوچئے ! آپ کے دشمن نے آپ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے اور ہمارا پورا ملک ٹاک شو بنا ہوا ہے۔ تمام سیاستدان کے مابین بلیم گیم جاری ہے ، عدلیہ غیر محفوظ اور خوف زدہ ہے۔ فورسز اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ٹارگٹ اور نشانے پر ہیں، اہل سیاست فوج کے ادارے کو اپنا معاون ادارہ سمجھنے کی بجائے اپنا مخالف ادارہ تصور کر رہے ہیں اور فوجی عدالتوں پر تنقید جاری ہے۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم حالت جنگ میں ہیں، کیا جو قومیں حالت جنگ میں ہوتی ہیں وہ ایسے جنگ لڑا کرتی ہیں ؟ اس سوال کا جواب ہر شخص کو اپنے آپ سے تلاش کرنا چاہئے ورنہ بہت دیر ہو جائیگی۔

مزید :

کالم -