ٹی وی چینل خوف نہ بیچیں

ٹی وی چینل خوف نہ بیچیں
 ٹی وی چینل خوف نہ بیچیں

  

جو لوگ نیکٹا کی تکرار سے حکومت کی ناک کاٹ رہے ہیں ان سے کوئی پوچھے کہ اگر فوج کے طاقتور انٹیلی جنس ادارے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو نہیں توڑ سکے تو بیچاری نیکٹا کیا کرلے گی ؟

دہشت گردی پھر سے شروع ہوگئی ہے تو انشاء اللہ پھر سے ختم بھی ہوگی اور اگر یہ جملہ بے حسی کے زمرے میں آتا ہے تو بے حسی اس خوف سے بہتر ہے جس کی وجہ سے بزدلی در آتی ہو۔ ملک میں جب جب دہشت گردی ہوئی ہے تب تب تجزیہ نگاروں، تبصرہ کاروں اور اینکر پرسنوں نے کوئی نہ کوئی وجہ کو فرض کرکے بحث کا بازار گرم کیا ہے ، اس مرتبہ سارا زور نیکٹا کے فعال نہ ہونے پر ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے پر ہے .... گویا کچھ بھی ہو جائے اپوزیشن اور میڈیا کا ایک حصہ اپنے پرنالے کا رخ تبدیل کرنے کو تیار نہیں ہے!....ان کے رویے میں رنجیدگی کم اور غیرسنجیدگی زیادہ دکھائی دیتی ہے اور بے چارہ عام آدمی رنجور ہے کہ اس کا کیا قصور کہ اسے دہشت گرد بھی ڈراتے ہیں اور اپوزیشن اور میڈیا بھی ، آگے بڑھ کر کوئی اس کی ڈھارس نہیں بندھاتا اور اگر عمران خان بندھاتے بھی ہیں تو ہسپتال کے باہر ایستادہ میڈیا کو دیکھتے ہی پھر سے وہی گھسا پٹا راگ الاپنا شروع کردیتے ہیں کہ حکومت ناکام ہو گئی ہے ، گویا کہ حکومت کو ناکام کرنے کے سوا عمران خان اور خورشید شاہ کو دوسرا کوئی کام نہیں آتا!.... حالانکہ یہ راگ چند دن بعد بھی الاپا جاسکتا تھا۔ ان کی باتیں سن سن کر عام پاکستانی اس خوف میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ وہ بے موت مارا جائے گا، وہ نہیں جانتے کہ عوام کو مارنے کے لئے ان کی جانب سے پھیلایا جانے والا خوف ہی کافی ہے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہماری اپوزیشن اور میڈیا فوج کے پیچھے اور حکومت کے آگے کھڑے ہیں ، یہ نظام کو تباہ کرنے کے مترادف ہے، ان کا بس چلے تو سرکار کو بھی اس خوف میں مبتلا کرکے بے بس کردیں!

دہشت گردوں نے لال شہباز قلندر کے مزار کو نہیں ، وہاں پر جمع عقیدتمندوں کو نشان بنایا ، ہجوم کو تتر بتر کیا، ایکائی اور یگانگت پر وار کیا، سافٹ ٹارگٹ کو ہٹ کیا....لیکن اس کا مطلب یہ نہیں پاکستان میں ہجوم نہ بننے دینا چاہئے کیونکہ ہجوم بند ہو گئے تو ذہنی مسائل بڑھ جائیں گے ،کیا ہی اچھا ہو کہ کیا حکومت کیا اپوزیشن، کیا فوج کیا پولیس، ان سب کا ایک ہجوم دہشت گردی کے خلاف بنے، ہمیں پاکستان میں امن چاہئے، ہم اسے یمن نہیں بننے دیں گے جو بدقسمتی سے اپوزیشن اور میڈیا کے ایک حصے کی مسلسل کوشش ہے!

وزیر اعظم کہتے ہیں کہ دہشت گردوں نے ترقی پسند پاکستان کے خلاف حملہ کیا ہے لیکن وہ بھی خدا لگتی کہیں کہ وہ جن لوگوں کے نام پر ترقی کا گیت گا رہے ہیں وہ لوگ کب ترقی کریں گے، چینی تو خیر پہلے دن سے ہمارے بھائی ہیں لیکن اب ہندوستان کے ساتھ ساتھ افغانستان اور امریکہ بھی ہمارے ہرجائیوں میں بدل گئے ہیں۔

حملہ پنجاب پر ہو، خیبر پختونخوا پر یا سندھ پر ...مارے لوگ جاتے ہیں، ہمارے بلوچستان کی اللہ کے بعد پاک فوج نگہبان ہے لیکن جو لوگ پاک فوج سے دہشت گردی پر قابو پانے کی بات کررہے ہیں وہ کچھ ہی عرصے بعد پاک فوج کو حکومت پر قابو پانے کی ترغیب دینا شروع کر دیتے ہیں۔

دہشت گردی سے ہونے والے نقصان کی ذمہ دار سرکار ہے مگر ہمارے تجزیہ کاراور ٹی وی کار تو اسے دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دینے سے نہیں چوک رہے ، الفاظ کے چناؤ میں ایسی بے احتیاطی، مرزا غالب زندہ ہوتے تو نیلا پتھر چاٹ مرتے!....ستم تو یہ ہے کہ جو لوگ سرکار کی نااہلی کا رونا رو رہے ہیں انہیں سرکار کے کام سے زیادہ سرکار کو ناکام کرنے سے مطلب ہے، وہ ہماری آزردگی میں بھی اپنی بے ہودگی کا پہلو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ٹی وی چینلوں پر ہونے والی بحث کا حاصل جمع اس کے سوا کیا ہے کہ قابل اعتراض اشتہاروں کی بھرمار ہوتی جا رہی ہے ، وہاں ایک سے بڑھ کر ایک فنکار اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے میں مگن ہے، ان کی بلاسے کہ کوئی مرتا ہے یا جیتا ہے کیونکہ وہ آئینے میں اپنی ادا دیکھ رہے ہیں !...ان کے لئے لوگ لاچار اور لوگوں کے لئے یہ صاحبان شغل و فن ایک آزار!

افغان سرحد پر تالا ڈالنے سے بات بنتی ہے تو ڈال دیجئے کہ جنوبی پنجاب میں رینجر مانگنے والوں کو کیا پتہ کہ جنوبی پنجاب کس قدر بنجر ہے ، وہاں سے کیسے کیسے شاطر دماغ لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں جمع ہو کر وسائل پر قابض ہو چکے ہیں، وہاں شاکر شجاع آبادی کے سوا رہا کیا ہے، وزارت داخلہ کے خلاف جاری تنقید سن کر لگتا ہے کہ وہاں صرف گھاس چری جاتی ہے اور ان راہداریوں میں افسر بے فکر گھومتے ہیں....ہم کہتے ہیں کہ اخبار کتنی ہی تفصیل سے کیوں نہ بھرے ہوں، اخبار جبرائیل تو نہیں ہو سکتے کہ ہر خبر سچ ہو، ہمیں دہشت گردوں کا فعل نہیں ان کی غرض کو بھی زیر بحث لانا ہے ، ٹی وی چینلوں پر بیٹھے پراپیگنڈسٹ کے منہ آبِ کوثر سے تھوڑی دھلے ہیں کہ ان کی ہر بات درست ہو، یاوہ گوئی کے زمرے میں نہ آتی ہو ، پاکستانیوں میں خوف پھیلانے والوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستانیوں کو خوف سے کوئی مطلب نہیں ، یہ ٹھیک ہے خوف اتنا سستا ہوتاہے کہ بے حساب بکتا ہے مگر پاکستانیوں کوخاطر جمع رکھنی چاہئے اور بے کار کی افسردگی اور آزردگی سے پیچھا چھڑانا چاہئے ، افغان سے ہمار ا کتنا ہی جھگڑا ہو، افغان ہم سے تگڑا نہیں ہو سکتا، ٹی وی چینلوں پر قبضہ گروپ اسی طرح خوف پھیلاتے رہے تو وہ وقت دور نہیں جب بیمہ کمپنیاں مساجد کے باہر جمعہ اجتماعات پر بیمہ پالیسیاں بیچتی نظر آئیں گی!

مزید :

کالم -