القاعدہ نے اقوام متحدہ کے امن مشن کو مہلک ترین بنا دیا

القاعدہ نے اقوام متحدہ کے امن مشن کو مہلک ترین بنا دیا

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) القاعدہ کے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے اقوام متحدہ کا مہلک ترین مشن جاری ہے۔ اقوام متحدہ کے میڈیا آفس سے جاری ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد اقوام متحدہ نے تنازعات کے 69 مقامات پر اپنے امن دستے بھیجے ہیں جن میں خانہ جنگی، سرحدی جھگڑوں اور ناکام ریاستیں شامل ہیں تاہم مالی سمیت شمال مغربی افریقہ کے خطے میں القاعدہ کی دہشت گرد تنظیم کا پیدا کردہ بحران عراق اور افغانستان میں امریکی جنگوں سے بھی بڑا ہوسکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس خطے میں اس تنظیم کا خطرناک ہتھیار دیسی ساخت کے بم (IED) ہیں جو عام طور پر فوجی گاڑیوں کے راستے میں سڑکوں کے کناروں پر نصب کئے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چار برس میں مالی میں اقوام متحدہ کے امن مشن کے 118 ارکان ہلاک ہوگئے ہیں جو اس طرح اب تک کا مہلک ترین آپریشن بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے 1940ء کی دہائی میں دنیا کے کسی بھی مقام پر قیام امن کیلئے اپنے دستے بھیجنے کیلئے یہ ادارہ قائم کیا تھا اور اب اتنی وسیع خونریزی کے بعد اس کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ سوالات اس لئے بھی اہم ہیں کہ شمال مغربی افریقہ میں داعش اور القاعدہ کا مقابلہ کرنے کے بعد اقوام متحدہ کے ان امن دستوں کو شام اور لیبیا جیسے ممالک میں بھیجنے کا پروگرام بن رہا ہے۔ یاد رہے کہ 2012ء میں مالی میں مقامی شورش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے القاعدہ کے حامی جنگجوؤں نے شمالی علاقے کے شہروں پر قبضہ کرلیا تھا جسے تقریباً ایک سال بعد فرانسیسی فوج نے واگزار کرایا۔

مزید :

علاقائی -