ہسپتالوں میں ادویات کا محفوظ استعمال یقینی بنانے کا خواب پورا نہ ہوسکا

ہسپتالوں میں ادویات کا محفوظ استعمال یقینی بنانے کا خواب پورا نہ ہوسکا

  

لاہور (جنر ل ر پو رٹر )سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کا محفوظ استعمال یقینی بنانے کا حکومتی خواب چار برس بعد بھی ادھورا، ہر پچاس بیڈ پر تین شفٹوں میں کلینکل فارماسسٹ کی موجودگی، مریض کے چارٹ پر فارماسسٹ کے ریمارکس کا لازمی اندراج، نوجوان فارماسسٹس کیلئے ہسپتالوں میں وظیفہ کیساتھ چھ ماہ کی ٹریننگ کے حکومتی فیصلے ہوا میں اڑادئیے گئے ۔تفصیلات کے مطابق پی آئی سی میں ادویات کے ری ایکشن سے سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد اکتوبر 2012 میں سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں میں ادویات کا استعمال محفوظ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ صحت نے فیصلے پر عملدرآمد کیلئے طے کیاگیا تھاکہ سرکاری ہسپتالوں میں ہر شفٹ میں ہر 50 بیڈ پر ایک کلینکل فارماسسٹ ہوگا اور مریض کے چارٹ پر ڈاکٹرز کیساتھ فارماسسٹ بھی ادویات کے استعمال سے متعلق ریمارکس لکھے گا۔سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات کی مقدار کا تعین کلینیکل فارماسسٹ کی ذمہ داری قرار دی گئی اور کسی دوا کے ری ایکشن کے کسی واقعہ سے بچنے کیلئے فارما کو ویجیلینس کمیٹی بھی ہر ہسپتال کی سطح پر فعال ہونا تھی لیکن چار برس بعد بھی اس پر عمل نہ ہوسکا۔ادویات کے استعمال کو محفوظ بنانے کیلئے کلینکل فارماسسٹس کی سیٹوں میں اضافہ بھی نہ ہوسکا، اس کے علاوہ فارمیسی میں گریجوایشن کرنیوالے ینگ فارماسسٹس کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں چھ ماہ کی ٹریننگ بمعہ وظیفہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس پر بھی عملدرآمد نہیں ہوسکا۔اس صورتحال کی وجہ سے حکومت کا ادویات کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے کا خواب چار برس بعد بھی ادھورا ہے۔

ادویات کا محفوظ استعمال

مزید :

علاقائی -