مزارات کو بند کر نے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی، شاہ محمود

مزارات کو بند کر نے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوگی، شاہ محمود

  

سیہون شریف(آن لائن)تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملک بھر کے مزاروں کو بند کرنے سے دہشت گردی ختم نہیں ہو گی بلکہ دہشت گردوں کا مقابلہ آستانوں کا فلسفہ ہے ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونا حکومت کی بہت بڑی ناکامی ہے، کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات نہ کرنے سے دہشت گردوں کے حوصلے کو تقویت ملی ہے، حکومت سے مطالبہ ہے کہ سیہون شریف کے دھماکے میں شہید اور زخمی ہونیوالوں کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے سیہون شریف مزار پر حاضری دی اور وہاں پر مزار کا جائزہ بھی لیا ، بعد ازاں شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیہون شریف میں دھماکے کے بعد یہاں کے حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھا کیو نکہ یہاں پر لوگ پڑے ہوئے تھے لیکن انہیں علاج کے لئے طبی سہولیات فراہم نہیں کی جارہی تھیں ، اس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومت کی ستم ظریفی یہ ہے کہ دھماکے میں شہید اور زخمی ہو نیوالوں کے لواحقین کو کوئی معاوضہ فراہم نہیں کیا گیا جو کہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔شاہ محمود قریشی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر سیہون شریف دھماکے میں شہید اور زخمیوں کے لواحقین کو معاوضہ فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ بی بی پاک دامن ، عبداللہ شاہ غازی اور بری امام سمیت ملک بھر کے مزاروں کو بند کرنے سے دہشت گردوں کا مقابلہ نہیں ہو گا حالانکہ دہشت گردوں کا مقابلہ انہیں آستانوں کا فلسفہ ہے ، فوری طو رپر ان درباروں کو کھولا جائے اور درباروں کے باہر سکیورٹی فراہمی کی جائے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ جو دہشت گرد معصوم لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں ان کے ساتھ مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں ایسے لوگوں کیخلاف سخت ایکشن ہونا چاہیے لیکن دہشت گردوں کا تعین کر نے کے لئے پوری قوم کو متعد ہونا ہوگا ، وفاق صوبوں اور ہر سیاسی جماعت میں اس معاملے پر اتفاق رائے ضروری ہے ، پنجاب حکومت کو بھی حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کرنی ہو گی کیونکہ پنجاب کی تحصیل خانیاں میں چھ دہشت گردوں کو مارا گیا ۔

مزید :

صفحہ آخر -