نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے سے دہشت گردی کے واقعات بڑھے، خورشید شاہ

نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد نہ ہونے سے دہشت گردی کے واقعات بڑھے، ...

  

جیکب آباد(آن لائن)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ دہشتگردی کی موجودہ لہر، قومی ایکشن پلان میں شامل نقطوں پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے ہے، فوجی عدالتوں کے قیام کو توسیع دینے والے اجلاسوں میں وزیر داخلہ و سیکرٹری کی مسلسل شمولیت نہ کرکے غیرسنجیدگی کا رویہ ملک کیلئے بڑے نقصان کا باعث بنا ہے، جس کا سب سے بڑا نقصان صرف سندھ کو اٹھانا پڑا ہے، سیہون میں ہونے والے دھماکے کی وجہ سے انسانی اعضاء اڑ کر باہر نالوں میں گرے ہیں، اس میں سندھ اور نہ وفاقی حکومت کی کوئی کوتاہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد میں پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی رہنما راجہ خان جاکھرانی کے بیٹے کی وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سید خورشیدشاہ نے مزید کہا کہ موجودہ دہشتگردی کی لہر اور اس سے قبل تعلیمی داروں سمیت دیگر مقامات پر ہونے والی دہشتگرد کارروائیوں کو قومی پس منظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ مرنے والا بھی مسلمان جبکہ مارنے والے نام نہاد مسلمان ہیں، ہماری جنگ کس سے ہے ،1965ء کی طرح پوری قوم کو یکجا ہوکر ان پوشیدہ دشمنوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ پیپلز پارٹی کا واضح مؤقف رہا ہے کہ اس جنگ سے صرف ایک حکومت نہیں بلکہ عوامی مینڈٹ رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ن لیگ کی حکومت سے جب سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے فوجی عدالتوں کواختیاردینے کا مطالبہ کیا تھا تو سب سے پہلے پیپلز پارٹی نے تائید کی جس پر ہمیں تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ فوجی عدالتوں کے ساتھ20نقاط پر مشتمل نیشنل ایکشن پلان بنا لیکن ان نکتوں میں سے بیشتر پر عمل نہیں ہوا جس کا اعتراف اس وقت کے آرمی چیف اور کئی مقامات پر تو وزیر اعظم نواز شریف نے خود کیا لیکن عمل نہ کرنے کی ذمہ داری وزارت داخلہ پر عائد ہوتی ہے، صوبوں کا عمل کرانا بس کی بات نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی جان پر کھیل کر دہشتگردی کرنے والوں کو سینکڑوں پولیس اور رینجرز کے اہلکار بھی نہیں روک سکتے واقعہ کے بعد ہمیں حفاظتی کمزوریوں پر تنقید کرنے کے بجائے ان دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -