دہشتگردی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں، حکمران مصلحت پسندی ترک کریں: مذہبی قائدین

دہشتگردی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں، حکمران مصلحت پسندی ترک کریں: مذہبی ...

  

لاہور( وقائع نگار)مذہبی جماعتوں کے قائدین سمیت جماعۃالدعوۃ کے علماء کنونشن میں شریک سینکڑوں علماء کرام نے دہشت گردی کی حالیہ لہر اور دھماکوں کیخلاف شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں ہونیو الی تخریب کاری اور دہشت گردی میں بیرونی قوتیں ملوث ہیں۔ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے‘ اس کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ہے۔ مسلمانوں کو اس وقت بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔ فتنہ تکفیر کا علمی سطح پر رد کرنے کی ضرورت ہے۔ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں‘ وہ کفار کی سازشوں کو سمجھتے ہوئے نوجوانوں کو گمراہ ہونے سے بچائیں۔مظلوم کشمیری بھارت کے سامنے ناقابل تسخیر چٹان بن کر کھڑے ہیں۔حکمران مصلحت پسندی ترک کریں۔ بھارتی و امریکی دباؤپر پالیسیاں تبدیل کرنا درست نہیں۔ مرکز اقصیٰ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ میں ہونے والی علماء کنونشن سے دفاع پاکستان کونسل اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، ممتاز عالم دین حافظ اسعد محمود سلفی، مولانا سیف اللہ خالد، مولانا عبدالسمیع عاصم ، حافظ عبدالجبار،حافظ عثمان ظفر اورحافظ عبداللہ نے خطاب کیا جبکہ اس موقع پر قاری تنویر قمر، احتشام الحق بھوپال،مولانا عبداللہ سلیم و دیگر بھی موجود تھے۔ اس موقع پر کشمیریوں پر بھارتی مظالم کے حوالہ سے ڈاکو مینٹری بھی دکھائی گئی۔کنونشن میں شہر اور گردونواح سے سینکڑوں علماء کرام نے شرکت کی۔ دفاع پاکستان کونسل اور جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ اس وقت بیرونی دباؤپر پالیسیاں تبدیل کی جارہی ہیں۔ مساجد و مدارس ، اسلام اور اسلامی قوتوں کیخلاف دہشت گردی کا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ ملک میں ہندووانہ تہذیب کو فروغ اور تعلیم کے میدان میں بچوں کا اخلاق برباد کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مسلم امہ کو بہت بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔علماء انبیاء کے وارث ہیں‘ انہیں آگے بڑھ کراسلام کے دفاع کا فریضہ انجام دینا ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -